پسند
17 Misre
- دل آزردہ پسند آئینہ رخساروں کا
- یہ غزل اپنی مجھے جی سے پسند آتی ہے آپ
- فراغت گاہ آغوش وداع دل پسند آیا
- شمار سبحہ مرغوب بت مشکل پسند آیا
- تماشائے بہ یک کف بردن صد دل پسند آیا
- کشایش کو ہمارا عقدۂ مشکل پسند آیا
- کہ انداز بہ خوں غلتیدن بسمل پسند آیا
- کہ لطف بے تحاشا رفتن قاتل پسند آیا
- مجھے رنگ بہار ایجادی بیدل پسند آیا
- خرام ناز بے پروائی قاتل پسند آیا
- برنگ لالہ جام بادہ بر محل پسند آیا
- تھی نوآموز فنا ہمت دشوار پسند
- ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
- آوے نہ کیوں پسند کہ ٹھنڈا مکان ہے
- یہ شاہ پسند دال بے بحث و جدال
- دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔ
- میش کا ہے نام بھیڑ اے خود پسند