پری
28 Misre
- ہے تہ بال پری بیضۂ بلبل ہنوز
- پری بہ شیشہ و عکس رخ اندر آئینہ
- سویدا مردم چشم پری نظارہ افسوں ہے
- چشم پری شفق کدۂ راز ہے مجھے
- نے صبا بال پری نے شعلہ سامان جنوں
- خود آرا وحشت چشم پری سے شب وہ بدخو تھا
- سامنا حور و پری نے نہ کیا ہے نہ کریں
- حیرت حد اقلیم تمناے پری ہے
- بال پری بہ شوخی موج صبا گرو
- زلف پری بہ سلسلۂ آرزو رسا
- بال پری بہ وحشت بے جا نہ کھینچیے
- ہر سبزۂ نوخاستہ یاں بال پری ہے
- شیشے میں نبض پری پنہاں ہے موج بادہ سے
- پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا
- کبھی پری مری خلوت میں آ نکلتی ہے
- یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں
- ہو کے عاشق وہ پری رخ اور نازک بن گیا
- ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
- ان پری زادوں سے لیں گے خلد میں ہم انتقام
- کہ پری زاد نظر قابل تسخیر نہیں
- ہمارے صفحے پہ بال پری سے مسطر کھینچ
- باندھوں ہوں آئنے پر چشم پری سے آئیں
- اے پری چہرہ پیک تیز خرام
- سب نے جانا کہ ہے پری توسن
- اور بال پری ہے دامن زیں
- وہ رہے مروحۂ بال پری سے بے زار
- گردش کاسۂ سم چشم پری آئنہ دار
- مئے تمثال پری نشۂ مینا آزاد