پردے
17 Misre
- کرے ہے حسن خوباں پردے میں مشاطگی اپنی
- آخر اس پردے میں تو ہنستی تھی اے صبح وصال
- ہر برگ گل کے پردے میں دل بے قرار تھا
- کس پردے میں فریاد کی آہنگ نکالوں
- تصویر کے پردے میں مگر رنگ نکالوں
- کس پردے میں فریاد کی آہنگ نکالوں
- ہر برگ گل کے پردے میں دل بے قرار تھا
- نشہ کے پردے میں ہے محو تماشائے دماغ
- صبا جو غنچے کے پردے میں جا نکلتی ہے
- آپ ہی ہو نظارہ سوز پردے میں منہ چھپائے کیوں
- پردے میں گل کے لاکھ جگر چاک ہو گئے
- تھیں بنات النعش گردوں دن کو پردے میں نہاں
- قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا
- لاکھ پردے میں چھپا پر وہی عریاں نکلا
- اسدؔ پردے میں بھی آہنگ شوق یار قائم ہے
- آئینہ دام کو پردے میں چھپاتا ہے عبث
- رنگ گل کے پردے میں آئینہ پر افشاں ہے