پردۂ
17 Misre
- بس کہ وہ پا کو بیاں در پردۂ وحشت ہیں یاد
- یک دو چیں دامان صحرا پردۂ محمل ہوا
- پیچک مہ صرف چاک پردۂ فانوس و بس
- یا پردۂ تبسم پنہاں اٹھائیے
- پردۂ بادام ایک غربال حسرت بیز ہے
- نیاز پردۂ اظہار خود پرستی ہے
- ہر رنگ سوز پردۂ یک ساز ہے مجھے
- رہروی میں پردۂ رہبر کھلا
- محبت بے نوا ساز فغاں در پردۂ دل ہا
- مژہ پوشیدنی ہا پردۂ تصویر عریاں ہے
- پردۂ درد دل آئینہ صد رنگ نشاط
- ہو سکے ہے پردۂ جوشیدن خون جگر
- یا پردۂ تبسم پنہاں اٹھائیے
- نیام پردۂ زخم جگر سے خنجر کھینچ
- نہ گل نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز
- پھر وہی پردۂ عماری ہے
- واں رنگ ہا بہ پردۂ تدبیر ہیں ہنوز