پردہ
39 Misre
- اسدؔ بزم تماشا میں تغافل پردہ داری ہے
- نہاں ہیں نالۂ ناقوس میں در پردہ یا رب ہا
- شعلۂ بے پردہ چین دامن خاشاک ہے
- بس کہ ہیں در پردہ مصروف سیہ کاری تمام
- ہوے ہیں پردہ ہائے چشم عبرت جلوہ حائل ہا
- راز دل صد پارہ کی ہے پردہ در انگشت
- مجھے اپنے جنوں کی بے تکلف پردہ داری تھی
- ذوق سرشار سے بے پردہ ہے طوفاں میرا
- دل نالاں سے ہے بے پردہ پیدا
- در پردہ ہے معاملۂ سوختن ہنوز
- جلوۂ باغ ہے در پردہ ناسور ہنوز
- کریں خوباں جو سیر حسن اسدؔ یک پردہ نازک تر
- مدعا در پردہ یعنی جو کہوں باطل سمجھ
- پردہ دار یادگی ہے وسعت مشرب مجھے
- پریشانی اسدؔ در پردہ ہے سامان جمعیّت
- نقاب یار ہے از پردہ ہاے چشم نابینا
- وہ پردہ نشیں اور اسدؔ آئینہ اظہار
- راز دل صد پارہ کی ہے پردہ در انگشت
- بے پردہ سوئے وادی مجنوں گزر نہ کر
- صد رنگ گل کترنا در پردہ قتل کرنا
- ختم ہے الفت کی تجھ پر پردہ داری ہائے ہائے
- تکلیف پردہ داری زخم جگر گئی
- دیکھ کر در پردہ گرم دامن افشانی مجھے
- گرچہ ہے طرز تغافل پردہ دار راز عشق
- ذوق سرشار سے بے پردہ ہے طوفاں میرا
- در پردہ ہے معاملۂ سوختن ہنوز
- درد سے در پردہ دی مژگاں سیاہاں نے شکست
- نشۂ مے ہے اگر یک پردہ نازک تر ہوا
- کھول کر پردہ ذرا آنکھیں ہی دکھلا دے مجھے
- یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا
- پردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نہ بنے
- کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
- دوستی کا پردہ ہے بیگانگی
- کس پردہ میں ہے آئنہ پرداز اے خدا
- در پردہ انہیں غیر سے ہے ربط نہانی
- ظاہر كا یے پردہ ہے کہ پردہ نہیں کرتے
- لب پردہ سنج زمزمۂ الاماں نہیں
- پردہ دار یاوگی ہے وسعت مشرب مجھے
- گرد جوہر میں ہے آئینۂ دل پردہ نشیں