پر
403 Misre
- آنکھوں میں انتظار سے جاں پر شتاب ہے
- نہ سہی ہم سے پر اس بت میں وفا ہے تو سہی
- فانوس شمع کو پر پروانہ چاہیے
- پر بلبل کے افسردن کو دامن چیدنی جانے
- زبان ہر سر مو حال دل پر سیدنی جانے
- نوحۂ ماتم بآواز پر عنقا کرے
- ترے نوکر ترے در پر اسدؔ کو ذبح کرتے ہیں
- وہی ہم ہیں قفس ہے اور ماتم بال و پر کا ہے
- پر افشاندہ در کنج قفس تعویز بازو ہے
- سمندر کو پر پروانہ سے کافور ملتے ہیں
- لباس شمع پر عطر شب دیجور ملتے ہیں
- پر طاؤس گویا برق ابر چشم گریاں ہے
- کہ مثل ذرہ ہاے خاک آئینے پر افشاں ہیں
- بہ پائے خفتہ سیر وادی پر خار بستر ہے
- دیکھوں اب مرگئے پر کون اٹھاتا ہے مجھے
- وگر نہ بحر میں ہر قطرہ چشم پر نم ہے
- صفحۂ نامہ غلاف بالش پر ہو گیا
- بزم خوباں بس کہ جوش جلوہ سے پر نور ہے
- ہر ایک اختر ہے فلک پر قطرۂ اشک کباب
- جی جلے ذوق فنا کی ناتمامی پر نہ کیوں
- تار شمع آہنگ مضراب پر پروانہ تھا
- بس کہ مائل ہے وہ رشک ماہتاب آئینے پر
- ہے نفس تار شعاع آفتاب آئینے پر
- غافلاں غش جان کر چھڑکے ہیں آب آئینے پر
- بے دلوں کو ہے برات اضطراب آئینے پر
- جوہر شمشیر کو ہے پیچ تاب آئینے پر
- ہے تماشا زشت رویوں کا عتاب آئینے پر
- گر کرے یوں امر نہی بو تراب آئینے پر
- رکھ دیا پہلو بوقت اضطراب آئینے پر
- خلوت بال و پر قمری میں وا کر راہ شوق
- عرض وحشت پر ہے ناز ناتوانی ہاے دل
- ہم نے سو زخم جگر پر بھی زباں پیدا نہ کی
- گل ہوا ہے ایک زخم سینہ پر خواہان داد
- رشک ہے آسایش ارباب غفلت پر اسدؔ
- پر فشان سوختن ہیں صورت پروانہ ہم
- واں پر فشان دام نظر ہوں جہاں اسدؔ
- یک مشت خوں ہے پر تو خور سے تمام دشت
- مت رکھ اے انجام غافل ساز ہستی پر غرور
- چیونٹی کے پر سر و برگ خود آرائی نہیں
- وہ سبزہ سنگ پر نہ اگا کوہکن ہنوز
- ہے ناز مفلساں زر از دست رفتہ پر
- زخم دل پر باندھیے حلواے مغز استخواں
- چونکہ بالاے ہوس پر ہر قبا کوتاہ ہے
- یہ شام غم آپ پر سحر کر
- در پر امیر کلب علی خاں کے ہوں مقیم
- وقت شب اس شمع رو کے شعلۂ آواز پر
- نقص پر اپنے ہوا جو مطلع کامل ہوا
- خوں ہو قفس دل میں اے ذوق پر افشانی
- جوں صدف پر در ہیں دنداں در جگر افشردگاں
- ہاتھ پر ہو ہاتھ تو درس تاسف ہی سہی
- برگ ریزی ہے پر افشانی نادک خوردگاں
- نشان خال رخ داغ شراب پر تگالی ہے
- ہے سنگ پر برات معاش جنون عشق
- ہے بہار تیز رو گلگون نکہت پر سوار
- نیاز پر فشانی ہو گیا صبر و شکیب آخر
- بلبل تصویر و دعواے پر افشانی عبث
- عجب کہ پر تو خور شمع شبنمستاں ہے
- کہ ہے تہ بندی پر ہاے طوطی رنگ جوہر کا
- نفس کرتا ہے رگ ہاے مژہ پر کام نشتر کا
- بسان دشت دل پر غبار رکھتے ہیں
- فسون یک دلی ہے لذت بیداد دشمن پر
- کہ وجد برق جوں پروانہ بال افشاں ہے خرمن پر
- کہ رشتہ باندھتا ہے پیرہن انگشت سوزن پر
- رکھی بے جا بناے خانۂ زنجیر شیون پر
- گریباں چاک کا حق ہوگیا ہے میری گردن پر
- ہزار آئینہ دل باندھے ہے بال یک تپیدن پر
- متاع بردہ کو سمجھے ہوئے ہیں قرض رہزن پر
- شعاع مہر سے تہمت نگہ کہ چشم روزن پر
- فروغ طالع خاشاک ہے موقوف گلنحن پر
- کہ مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
- فروغ طالع خاشاک ہے موقوف گلخن پر
- زبس جز حسن منت ناگوارا ہے طبیعت پر
- جبیں پر میری مد خامۂ قدرت خط چیں ہے
- عقدہ ساں ہے کیسۂ زر پر خیال تنگ دل
- جو تو باندھے کف پا پر حنا آئینہ موزوں ہے
- دماغ دو جہاں پر سنبل و گل یک شبے خوں ہے
- ہاتھ پر گر ہاتھ مارے یار وقت قہقہہ
- کرمک شب تاب آسا مہ پر افشانی کرے
- ہر جزو آشیاں پر پرواز ہے مجھے
- کوکب بخت بجز روزن پر دور نہیں
- بزم داغ طرب دباغ کشاد پر رنگ
- ہواے پر فشانی برق خرمن ہاے خاطر ہے
- پر عنقا پہ رنگ رفتہ سے کھینچی ہیں تصویریں
- بیاض دیدۂ نخچیر پر کھینچے ہے تصویریں
- ہم غلط سمجھے تھے لیکن زخم دل پر رحم کر
- تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت
- پر فشانی بھی فریب خاطر آسودہ ہے
- جوں پر طاؤس یکسر داغ مشک اندودہ ہے
- عافیت سرمایۂ بال و پر نکشودہ ہے
- یک پر زدن تپش میں ہے کار قفس تمام
- تیر بھی سینۂ بسمل سے پر افشاں نکلا
- سیاہی جیسے گرجاوے دم تحریر کاغذ پر
- زدست مشت پر و خار آشیاں فریاد
- کرے ہے حسن ویراں کار روے سادہ رویاں پر
- چنار آسا عدم سے بادل پر آتش آیا ہوں
- ہے بالش دل سوختگاں میں پر طاؤس
- حیف بے حاصلی اہل ریا پر غالبؔ
- خط جو رخ پر جانشین بالۂ مہ ہو گیا
- حلقۂ گیسو کھلا دور خط رخسار پر
- رہا نظارہ وقت بے نقابی آپ پر لرزاں
- اسدؔ خاک در میخانہ اب سر پر اڑاتا ہوں
- موج غبار سے پر یک دشت وا کروں
- وام لیتے ہیں پر پرواز پیراہن کی بو
- ہے پر پرواز رنگ رفتۂ خوں گفتگو
- سر پر مرے وبال ہزار آرزو رہا
- اشک جوں بیضۂ مژہ سے تہ پر پنہاں ہے
- کم جانتے تھے ہم بھی غم عشق کو پر اب
- پر افشاں ہو گئے شعلے ہزاروں
- کہ تھا آئینہ خور پر تصور زنگ بستن کا
- گل برگ پر بالش سروچمنی ہے
- کنج میں بیٹھا رہوں یوں پر کھلا
- ہم کو ہے اس راز داری پر گھمنڈ
- دوست کا ہے راز دشمن پر کھلا
- واقعی دل پر بھلا لگتا تھا داغ
- رہ گیا خط میری چھاتی پر کھلا
- ہے غیرت الفت کہ اسدؔ اس کی ادا پر
- نالاں ہو اسدؔ تو بھی سر راہ گزر پر
- پا پر از آبلہ راہ طلب مے میں ہوا
- عرق بھی جن کے عارض پر بہ تکلیف حیا گم ہو
- نہ پھولو ریزش اعداد کی قطرہ فشانی پر
- اسدؔ ہنستے ہیں میرے گریہ ہاے زار پر مردم
- گھر پر پڑا نہ غیر کے کوئی شرار حیف
- پر پروانہ تار شمع پر مضراب ہوجاوے
- ہنوز نالہ پر افشان ذوق رعنائی
- پر بالش ہے وقت دید مژگان تماشائی
- پر طاؤس ہے نیرنگ داغ حیرت انشائی
- غرور دست رونے شانہ توڑا فرق ہدہد پر
- پر عاصیوں کے زمرے میں میں برگزیدہ ہوں
- فکر اچھی پر ستایش ناتمام
- عرش پر تیرے قدم سے ہے دماغ گرد رہ
- دیکھ اس کے ساعد سیمین و دست پر نگار
- شعلۂ شمع پر افشان بخود لرزیدن
- لگے گر سنگ سر پر یار کے دست نگاریں سے
- پر پرواز زلف ناز ہے ہدہد کے شانے میں
- جادہ پر زیور صد آئنہ منزل باندھا
- نامۂ شوق بہ بال پر بسمل باندھا
- ساز پر رشتہ پئے نغمۂ بیدل باندھا
- کہ بن گیا ہے خم جعد پر شکن تکیہ
- اگرچہ زانوے نل پر رکھے دمن تکیہ
- پر طاؤس سے دل پائے بہ زنجیر آیا
- کہ کلہ گوشہ بہ پرواز پر تیر آیا
- یاں سر پر شور بے خوابی سے تھا دیوار جو
- عیاں ہے پاے حنائی برنگ پر تو خور
- جبین صبح امید فسانہ گویاں پر
- پر طاؤس تماشا نظر آیا ہے مجھے
- شیشۂ آتشیں رخ پر نور
- ظلم کرنا گداے عاشق پر
- عجز و نیاز سے تو نہ آیا وہ راہ پر
- پر پروا نگاں بال شرر ہے
- اسدؔ ہوں میں پر افشان رمیدن
- جنبش نال قلم جوش پر افشانی مجھے
- عرض سرشک پر ہے فضاے زمانہ تنگ
- ماہ پر ہالہ صفت حلقۂ فتراک چڑھا
- ہے پر افشان طپیدن ہا بہ تکلیف ہوس
- جوہر فکر پر افشانی نیرنگ خیال
- رکھے ہے کسوت طاؤس میں پر افشانی
- یاں پر پرواز رنگ رفتہ بال تیر ہے
- عشق کا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں
- کب تلک پھیرے اسدؔ لب ہاے تفتہ پر زباں
- شرع و آئین پر مدار سہی
- بات پر واں زبان کٹتی ہے
- در پردۂ ہوا پر بسمل ہے آئنہ
- تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت
- زخم سلوانے سے مجھ پر چارہ جوئی کا ہے طعن
- دیدۂ پر خوں ہمارا ساغر سرشار دوست
- سر پر ہجوم درد غریبی سے ڈالیے
- کم جانتے تھے ہم بھی غم عشق کو پر اب
- جی جلے ذوق فنا کی ناتمامی پر نہ کیوں
- خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے
- دیکھوں اب مر گئے پر کون اٹھاتا ہے مجھے
- گرچہ ہوں دیوانہ پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب
- پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا
- منہ نہ کھلنے پر ہے وہ عالم کہ دیکھا ہی نہیں
- زلف سے بڑھ کر نقاب اس شوخ کے منہ پر کھلا
- نہ اتنا برش تیغ جفا پر ناز فرماؤ
- نگاہ شوق کو ہیں بال و پر در و دیوار
- کہ گر پڑے نہ مرے پاؤں پر در و دیوار
- ہوئے فدا در و دیوار پر در و دیوار
- رقیب پر ہے اگر لطف تو ستم کیا ہے
- گھر پر پڑا نہ غیر کے کوئی شرار حیف
- ہستی ہماری اپنی فنا پر دلیل ہے
- اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا
- بہ پائے خفتہ سیر وادیٔ پر خار بستر ہے
- آبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں
- شعلۂ آواز خوباں پر بہ ہنگام سماع
- جوں پر طاؤس جوہر تختہ مشق رنگ ہے
- ساز پر رشتہ پئے نغمۂ بیدلؔ باندھا
- عرض سرشک پر ہے فضاۓ زمانہ تنگ
- اک آبلہ پا وادیٔ پر خار میں آوے
- چھڑکے ہے شبنم آئینۂ برگ گل پر آب
- اب بے خبراں میرے لب زخم جگر پر
- گریباں چاک کا حق ہو گیا ہے میری گردن پر
- ہزار آئینہ دل باندھے ہے بال یک تپیدن پر
- متاع بردہ کو سمجھے ہوئے ہیں قرض رہزن پر
- شعاع مہر سے تہمت نگہ کی چشم روزن پر
- فروغ طالع خاشاک ہے موقوف گلخن پر
- کہ مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
- فسون یک دلی ہے لذت بیداد دشمن پر
- کہ وجد برق جوں پروانہ بال افشاں ہے خرمن پر
- کہ رشتہ باندھتا ہے پیرہن انگشت سوزن پر
- رکھی بیجا بنائے خانۂ زنجیر شیون پر
- نہ کرے اگر ہوس پر غم بے دلی گرانی
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- کروں خوان گفتگو پر دل و جاں کی میہمانی
- جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا
- مر گئے پر دیکھیے دکھلائیں کیا
- وصال جلوہ تماشا ہے پر دماغ کہاں
- گئی نہ خاک ہوئے پر ہواۓ جلوۂ ناز
- کہ کھینچیے پر طائر سے صورت پرواز
- خوں ہے دل خاک میں احوال بتاں پر یعنی
- ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
- جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار
- دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں
- خاک پر ہوتی ہے تیری لالہ کاری ہائے ہائے
- ختم ہے الفت کی تجھ پر پردہ داری ہائے ہائے
- ایک دل تس پر یہ نا امید واری ہائے ہائے
- بارے اب اے ہوا ہوس بال و پر گئی
- مستی سے ہر نگہ ترے رخ پر بکھر گئی
- جان تم پر نثار کرتا ہوں
- پر ہم ایسے کھوے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہے
- نقش کو اس کے مصور پر بھی کیا کیا ناز ہیں
- منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے
- لوگ کہتے ہیں کہ ہے پر ہمیں منظور نہیں
- عشق پر عربدہ کی گوں تن رنجور نہیں
- بہ جلوہ ریزی باد و بہ پر فشانی شمع
- جلے ہے دیکھ کے بالین یار پر مجھ کو
- زخم پر چھڑکیں کہاں طفلان بے پروا نمک
- شور جولاں تھا کنار بحر پر کس کا کہ آج
- سادگی پر اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہے
- رحم کر اپنی تمنا پر کہ کس مشکل میں ہے
- سب رقیبوں سے ہوں نا خوش پر زنان مصر سے
- تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں
- مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
- مدار اب کھودنے پر گھاس کے ہے میرے درباں کا
- نیاز پر فشانی ہو گیا صبر و شکیب آخر
- یاں سر پر شور بے خوابی سے تھا دیوار جو
- لاکھ پردے میں چھپا پر وہی عریاں نکلا
- پر ہوں میں شکوے سے یوں راگ سے جیسے باجا
- گو سمجھتا نہیں پر حسن تلافی دیکھو
- آستاں پر ترے مہ ناصیہ سا ہوتا ہے
- ہے سنگ پر برات معاش جنون عشق
- لیا آئینہ نے حرز پر طوطی بچنگ آخر
- کیا اوج پر ستارۂ گوہر فروش ہے
- دل و جگر میں پر افشاں جو ایک موجۂ خوں ہے
- انداز نالہ یاد ہیں سب مجھ کو پر اسدؔ
- تا کہ تجھ پر کھلے اعجاز ہوائے صیقل
- اب طائر پر بریدۂ رنگ حنا کہوں
- پر گل خیال زخم سے دامن نگاہ کا
- ہماری سادگی تھی التفات ناز پر مرنا
- جانتے ہیں سینۂ پر خوں کو زنداں خانہ ہم
- پر فشان سوختن ہیں صورت پروانہ ہم
- آئے وہ یاں خدا کرے پر نہ کرے خدا کہ یوں
- ہے ناز مفلساں زر از دست رفتہ پر
- وہ سبزہ سنگ پر نہ اگا کوہکن ہنوز
- پر تجھ سی کوئی شئے نہیں ہے
- غیر نے کی آہ لیکن وہ خفا مجھ پر ہوا
- نہ نکلا آنکھ سے تیری اک آنسو اس جراحت پر
- خوشی کیا کھیت پر میرے اگر سو بار ابر آوے
- پر پرواز زلف ناز ہے ہدہد کے شانے میں
- منہ نہ دکھلاوے نہ دکھلا پر بہ انداز عتاب
- لرزتا ہے مرا دل زحمت مہر درخشاں پر
- میں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خار بیاباں پر
- سفیدی دیدۂ یعقوب کی پھرتی ہے زنداں پر
- کہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوار دبستاں پر
- بہم گر صلح کرتے پارہ ہائے دل نمکداں پر
- کہ پشت چشم سے جس کی نہ ہووے مہر عنواں پر
- کہ فرقت میں تری آتش برستی تھی گلستاں پر
- قیامت اک ہوائے تند ہے خاک شہیداں پر
- ہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر
- الٰہی یک قیامت خاور آ ٹوٹے بدخشاں پر
- کہ آخر بے کسوں کا زور چلتا ہے گریباں پر
- موج غبار سے پر یک دشت وا کروں
- دوڑے ہے پھر ہر ایک گل و لالہ پر خیال
- مانگے ہے پھر کسی کو لب بام پر ہوس
- وہی ہم ہیں قفس ہے اور ماتم بال و پر کا ہے
- ترے نوکر ترے در پر اسدؔ کو ذبح کرتے ہیں
- مگر غبار ہوے پر ہوا اڑا لے جاے
- وگرنہ تاب و تواں بال و پر میں خاک نہیں
- عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پر
- غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی
- یار لائے مری بالیں پہ اسے پر کس وقت
- آ ہی جاتا وہ راہ پر غالبؔ
- پر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا
- عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ
- پر پروانہ شاید بادبان کشتی مے تھا
- کروں بے داد ذوق پر فشانی عرض کیا قدرت
- کہ طاقت اڑ گئی اڑنے سے پہلے میرے شہ پر کی
- نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا
- ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے
- وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
- کرے ہے سنگ پر خورشید آب روئے کار آتش
- ہوائے پر فشانی برق خرمن ہائے خاطر ہے
- وگرنہ بحر میں ہر قطرہ چشم پر نم ہے
- نہ جانوں نیک ہوں یا بد ہوں پر صحبت مخالف ہے
- پر مجھے طاقت سوال کہاں
- نہ مارا جان کر بے جرم غافل تیری گردن پر
- بن گیا روئے آب پر کائی
- آبگینہ کوہ پر عرض گراں جانی کرے
- ہاتھ پر گر ہاتھ مارے یار وقت قہقہہ
- کرمک شب تاب آسا مہ پر افشانی کرے
- نامہ خود پیغام کو بال و پر پرواز ہے
- رنگ گل کے پردے میں آئینہ پر افشاں ہے
- یہ کہہ سکتے ہو ہم دل میں نہیں ہیں پر یہ بتلاؤ
- ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو
- نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
- ہے مشتمل نمود صور پر وجود بحر
- اب کسی بات پر نہیں آتی
- پر طبیعت ادھر نہیں آتی
- موت آتی ہے پر نہیں آتی
- پر کچھ اب کے سرگرانی اور ہے
- بیضہ آسا ننگ بال و پر ہے یہ کنج قفس
- کچھ کہہ نہ سکوں پر وہ مرے پوچھنے کو آئے
- شور پند ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
- وہ نیشتر سہی پر دل میں جب اتر جاوے
- کہنے جاتے تو ہیں پر دیکھیے کیا کہتے ہیں
- آتا ہے میرے قتل کو پر جوش رشک سے
- جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر
- گرنی تھی ہم پہ برق تجلی نہ طور پر
- ہے بہار تیز رو گلگون نکہت پر سوار
- سر پر وبال سایۂ بال ہما نہ مانگ
- باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پر
- عجب آرام دیا بے پر و بالی نے مجھے
- مرغ خیال بلبل بے بال و پر ہے آج
- واں کنگر استغنا ہر دم ہے بلندی پر
- غلط نہ تھا ہمیں خط پر گماں تسلی کا
- گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
- سر جائے یا رہے نہ رہیں پر کہے بغیر
- ظاہر ہے تیرا حال سب ان پر کہے بغیر
- چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن
- ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پر
- اگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
- ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
- پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
- ہم پر جفا سے ترک وفا کا گماں نہیں
- عشق كا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں
- کب تلک پھیرے اسدؔ لب ہائے تفتہ پر زباں
- پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر نا حق
- فانوس شمع کو پر پروانہ چاہیے
- پر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا
- ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
- دیکھنے میں ہیں گرچہ دو پر ہیں یہ دونوں یار ایک
- دونوں کے دل حق آشنا دونوں رسول پر فدا
- مسند عیش پر جگہ پائی
- در حضور پر اے ابر بار بار برس
- فقط ہزار برس پر کچھ انحصار نہیں
- باندھ شہزادہ جواں بخت کے سر پر سہرا
- سر پہ چڑھنا تجھے پھبتا ہے پر اے طرف کلاہ
- نہ کرے اگر ہوس پر غم بیدلی گرانی
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- کروں خوان گفتگو پر دل و جاں کی میہمانی
- باندھوں ہوں آئنے پر چشم پری سے آئیں
- کوچہ دیتا ہے پریشاں نظری پر صحرا
- کھینچوں ہوں آئنے پر خندۂ گل سے مسطر
- پر پروانہ مری بزم میں ہے خنجر کیں
- خاک پر توڑے ہے آئینۂ ناز پرویں
- آستاں پر ہے ترے جوہر آئینۂ سنگ
- ذرے سے باندھے ہے خرشید فلک پر آئیں
- ہے ترے حوصلۂ فضل پر از بس کہ یقیں
- کیوں کر نہ کروں مدح کو میں ختم دعا پر
- خود آسماں ہے مہا راؤ راجہ پر صدقے
- کرے گا سینکڑوں اس تار پر نثار گرہ
- گرہ کا نام لیا پر نہ کر سکا کچھ بات
- میری سنو کہ آج تم اس سر زمین پر
- اس بزم پر فروغ میں اس تیرہ بخت کو
- تھا ایک گونہ ناز جو اپنے کمال پر
- یاں زمیں پر نظر جہاں تک جائے
- موکب خاص یوں زمیں پر تھا
- جس طرح ہے سپہر پر پرویں
- ران پر داغ تازہ دے کے وہیں
- بادہ پر زور و نفس مست و مسیحا بیمار
- پر قمری سے کرے صیقل تیغ کہسار
- موج مے پر ہے برات نگرانی امید
- پر یہ دولت تھی نصیب نگہ معنی ناز
- یک جہاں بسمل انداز پر افشانی ہے
- دل پروانہ چراغاں پر بلبل گلزار
- پر طاؤس کرے گرم نگہ کا بازار
- دید تا دل اسدؔ آئینۂ یک پر تو شوق
- سطح گردوں پر پڑا تھا رات کو
- خسرو آفاق کے منہ پر کھلا
- راز ہستی اس پر سر تا سر کھلا
- پر یار کے آگے بول سکتے ہی نہیں
- وہ جس کے ماتمیوں پر ہے سلسبیل سبیل
- خامے کا صفحے پر رواں ہونا
- پر وہ یوں سہل دے نہ سکتا جان
- رنگ کا زرد پر کہاں بو باس
- خلق پر وہ خدا کا سایہ ہے
- گورے پنڈے پر نہ کر ان کے نظر
- بھول مت اس پر اڑاتے ہیں تجھے
- نہ ہونے پر ہیں یہ باتیں دہن کی
- مفت وا گستردنی ہے فرش خواب آئینے پر
- حسن کا خط پر نہاں خندیدنی انداز ہے
- تھا تو خط پر نہ تھا جواب طلب
- ذرا کر زور سینے پر کہ تیر پر ستم نکلے
- گال پر جو تل ہو اس کو خال کہہ
- نام کو ہیں تین پر ہے ایک چیز
- پل ہی پر سے پھیر لائے ہم کو لوگ
- لال ڈگی پر کرے گا جا کے کیا
- ارض ہے پر مرز بھی کہتے ہیں ہاں
- مر گئے پر قبر کی تعمیر آدھی رہ گئی
- بیٹھ رہتا لے کے چشم پر نم اس کے رو برو
- اس بت مغرور کو کیا ہو کسی پر التفات
- تابش خرشید پر تنویر آدھی رہ گئی
- پر نصیب اپنا انھیں جاتا سنا جوں پھر گئے