پاؤں
15 Misre
- کہ گر پڑے نہ مرے پاؤں پر در و دیوار
- دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں
- رکھتا ہے ضد سے کھینچ کے باہر لگن کے پاؤں
- دی سادگی سے جان پڑوں کوہ کن کے پاؤں
- ہیہات کیوں نہ ٹوٹ گئے پیرزن کے پاؤں
- ہو کر اسیر دابتے ہیں راہزن کے پاؤں
- تن سے سوا فگار ہیں اس خستہ تن کے پاؤں
- ہلتے ہیں خودبخود مرے اندر کفن کے پاؤں
- اڑتے ہوئے الجھتے ہیں مرغ چمن کے پاؤں
- دکھتے ہیں آج اس بت نازک بدن کے پاؤں
- پیتا ہوں دھوکے خسرو شیریں سخن کے پاؤں
- کعبے میں کیوں دبائیں نہ ہم برہمن کے پاؤں
- کہ اپنے سائے سے سر پاؤں سے ہے دو قدم آگے
- اسدؔ خوشی سے مرے ہاتھ پاؤں پھول گئے
- کہا جو اس نے ذرا میرے پاؤں داب تو دے