پاس
40 Misre
- اسدؔ پاس تمنا سے نہ رکھ امید آزادی
- بہ پاس شوخی مژگاں سر ہر خار سوزن ہے
- اے سر شوریدہ ذوق عشق و پاس آبرو
- کب فقیروں کو رسائی بت مے خوار کے پاس
- تو بتے بو دیجیے میخانے کی دیوار کے پاس
- دام خالی قفس مرغ گرفتار کے پاس
- جوے خوں ہم نے بہائی بن ہر خار کے پاس
- خوب وقت آئے تم اس عاشق بیمار کے پاس
- دشنہ اک تیز سا ہوتا مرے غم خوار کے پاس
- نہ کھڑے ہو جیے خوبان دل آزار کے پاس
- خود بخود پہنچے ہے گل گوشہ دستار کے پاس
- بیٹھنا اس کا وہ آ کر تری دیوار کے پاس
- گداز حوصلہ کو پاس آبرو جانے
- نہ دیجے پاس ضبط آبرو وقت شکستن بھی
- اے سر شوریدہ ناز عشق و پاس آبرو
- بہ پاس شوخیٔ مژگاں سر ہر خار سوزن ہے
- واں وہ غرور عز و ناز یاں یہ حجاب پاس وضع
- پاس مجھ آتش بجاں کے کس سے ٹھہرا جائے ہے
- اب تک وہ جانتا ہے کہ میرے ہی پاس ہے
- ہرچند اس کے پاس دل حق شناس ہے
- بھوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے
- دام خالی قفس مرغ گرفتار کے پاس
- جوئے خوں ہم نے بہائی بن ہر خار کے پاس
- خوب وقت آئے تم اس عاشق بیمار کے پاس
- دشنہ اک تیز سا ہوتا مرے غم خوار کے پاس
- نہ کھڑے ہو جیے خوبان دل آزار کے پاس
- خودبخود پہنچے ہے گل گوشۂ دستار کے پاس
- بیٹھنا اس كا وو آ کر تری دیوار کے پاس
- کب فقیروں کو رسائی بت مے خوار کے پاس
- تو بنے بو دیجیے میخانے کی دیوار کے پاس
- پاس بے رونقی دیدہ اہم ہے ہم کو
- سمجھیو مت کہ پاس درد سے دیوانہ غافل ہے
- ہوس کو پاس ناموس وفا کیا
- ہم تھے مرنے کو کھڑے پاس نہ آیا نہ سہی
- جس پاس روزہ کھول کے کھانے کو کچھ نہ ہو
- پاس ہے اب سواد اعظم نثر
- توڑے ہے نالہ سر رشتۂ پاس انفاس
- تھا ترنج زر ایک خسرو پاس
- درم و دام اپنے پاس کہاں
- پاس میرے وہ جو آئے بھی تو بعد از نصف شب