پائے
22 Misre
- بہ پائے خفتہ سیر وادی پر خار بستر ہے
- نقش پائے مور کو تخت سلیمانی کرے
- کرنے نہ پائے ضعف سے شور جنوں اسدؔ
- پر طاؤس سے دل پائے بہ زنجیر آیا
- اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے
- بہ پائے خفتہ سیر وادیٔ پر خار بستر ہے
- اس چشم فسوں گر کا اگر پائے اشارہ
- موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
- ہو کر شہید عشق میں پائے ہزار جسم
- مینائے مے ہے آبلہ پائے نگاہ کا
- سر پائے خم پہ چاہیے ہنگام بے خودی
- وہ نالہ دل میں خس کے برابر جگہ نہ پائے
- نقش پائے مور کو تخت سلیمانی کرے
- پائے افگار پہ جب سے تجھے رحم آیا ہے
- حنائے پائے خزاں ہے بہار اگر ہے یہی
- کہ چشم تر میں ہر اک پارۂ دل پائے در گل ہے
- جس جا کہ پائے سیل بلا درمیاں نہیں
- رکھتا ہو مثل سایۂ گل سر بہ پائے گل
- عدو کے سمع رضا میں جگہ نہ پائے وہ بات
- ہو کر شہید عشق میں پائے ہزار جسم
- اسپ جب ہندی میں گھوڑا نام پائے
- تازیانہ کیوں نہ کوڑا نام پائے