پا
98 Misre
- آتا ہے آ وگرنہ یہ پا در رکاب ہے
- رشتۂ پا شوخی بال نفس پیدا کرے
- سرتا بہ پا ہوں جیب دریدہ
- بجولاں گاہ نومیدی نگاہ عاجزاں پا ہے
- باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے
- بس کہ وہ پا کو بیاں در پردۂ وحشت ہیں یاد
- زنجیر پا ہے رشتۂ حب الوطن ہنوز
- مال و جاہ و دست و پا بے زر خریدہ ہیں اسدؔ
- کیوں ہوا تھا طرف آبلۂ پا یارب
- گزرے ہے آبلہ پا ابر گہر بار ہنوز
- نقش پا میں ہے تب گرمی رفتار ہنوز
- درد طلب بہ آبلۂ پا نہ کھینچیے
- اس موج مے کو غافل پیمانہ نقش پا ہے
- گلستاں بے تکلف پیش پا افتادہ مضموں ہے
- جو تو باندھے کف پا پر حنا آئینہ موزوں ہے
- ہے تنگ زواماندہ شدن حوصلۂ پا
- جو اشک گرا خاک میں ہے آبلۂ پا
- جو خط ہے کف پا پہ سو ہے سلسلۂ پا
- نوک سر مژگاں سے رقم ہو گلۂ پا
- تبخالۂ لب ہو نہ سکا آبلۂ پا
- تبخالۂ لب ہے جرس آبلۂ پا
- صفا و شوخی و انداز حسن پا بہ رکاب
- خلوت آبلۂ پا میں ہے جولاں میرا
- اسدؔ مجھ میں ہے اس کے بوسۂ پا کی کہاں جرأت
- کہ میں نے دست و پا باہم بہ شمشیر ادب کاٹے
- دستار گرد شاخ گل نقش پا کروں
- گو حوصلہ پا مرد تغافل نہیں لیکن
- شوق کرے جو سر گراں محمل خواب پا سمجھ
- لغزش پا کو ہے بلد نغمۂ یا علی مدد
- آبلے پا کے ہیں یاں رفتار کو دندان عجز
- بوسۂ پا انتخاب بدگمانی ہاے حسن
- جس گزرگاہ سے میں آبلہ پا جاتا ہوں
- پا پر از آبلہ راہ طلب مے میں ہوا
- اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں
- یک نگاہ گرم ہے جوں شمع سر تا پا گداز
- بہ رنگ شعلہ ہے مہر نماز از پا نشستن ہا
- رفتار نہیں بیشتر از لغزش پا ہیچ
- موج بہار یکسر زنجیر نقش پا ہے
- جوں اشک جب تلک نہ رکھوں دست و پا گرو
- رہے یاں شوخی رفتار سے پا آستانے میں
- جادۂ سیر دوجہاں یک مژہ خواب پا سمجھ
- خار کو بے نیام جان ہم کو برہنہ پا سمجھ
- یک آسماں ہے مرتبۂ پشت پا بلند
- گر ہمہ افتادگی جوں نقش پا ہوجائیے
- آغوش نقش پا میں کیجے فشار صحرا
- ورنہ کیا حسرت کش دامن پہ نقش پا نہیں
- مہ ز سر تا ناخن پا رزق یک شگبیر ہے
- ہے مشق وفا جانتے ہیں لغزش پا تک
- اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں
- نقش پا جو کان میں رکھتا ہے انگلی جادہ سے
- بس کہ حیرت سے ز پا افتادۂ زنہار ہے
- باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے
- دل بے دست و پا افتادہ بر خوردار بستر ہے
- اشک کو بے سر و پا باندھتے ہیں
- شوق کو پا بہ حنا باندھتے ہیں
- چوں نمد ہم نے کف پا پہ اسدؔ دل باندھا
- اک آبلہ پا وادیٔ پر خار میں آوے
- سر شمع نقش پا ہے بہ سپاس ناتوانی
- دیکھو تو دل فریبی انداز نقش پا
- پر ہم ایسے کھوے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہے
- زخم مثل خندۂ قاتل ہے سر تا پا نمک
- خلوت آبلۂ پا میں ہے جولاں میرا
- کس قدر یارب ہلاک حسرت پا بوس تھا
- سست رو جیسے کوئی آبلہ پا ہوتا ہے
- آئنہ دار بن گئی حیرت نقش پا کہ یوں
- موج محیط آب میں مارے ہے دست و پا کہ یوں
- زنجیر پا ہے رشتۂ حب الوطن ہنوز
- رہے یاں شوخیٔ رفتار سے پا آستانے میں
- برائے حل مشکل ہوں ز پا افتادۂ حسرت
- دستار گرد شاخ گل نقش پا کروں
- حنائے پنجۂ صیاد مرغ رشتہ بر پا ہے
- بہ جولاں گاۂ نومیدی نگاۂ عاجزاں پا ہے
- بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پا
- آتشیں پا ہوں گداز وحشت زنداں نہ پوچھ
- نہ نکلے شمع کے پا سے نکالے گر نہ خار آتش
- گزرے ہے آبلہ پا ابر گہربار ہنوز
- نقش پا میں ہے تب گرمی رفتار ہنوز
- کیوں ہوا تھا طرف آبلۂ پا یا رب
- پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد
- خار پا ہیں جوہر آئینۂ زانو مجھے
- کر دیا ہے پا بہ زنجیر رم آہو مجھے
- یک بیاباں جلوۂ گل فرش پا انداز ہے
- رشتۂ پا یاں نوا سامان بند ساز ہے
- نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
- گر ہمہ افتادگی جوں نقش پا ہوجائیے
- ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پایا
- فکر نالہ میں گویا حلقہ ہوں ز سر تا پا
- ہے مکیں کی پا داری نام صاحب خانہ
- کبھی حکایت صبر گریز پا کہیے
- سر شمع نقش پا ہے بسپاس ناتوانی
- نقش پا جس کا ہے توحید کو معراج جبیں
- ذوق گلچینی نقش کف پا سے تیرے
- دل جبریل کف پا پہ ملے ہے رخسار
- نقش پا کی صورتیں وہ دلفریب
- نسیم باغ سے پا در حنا نکلتی ہے
- تھکا جب قطرۂ بے دست و پا بالا دویدن سے
- سینہ چھاتی دست ہاتھ اور پا پاؤں
- تو صداے پا سے جاگا تھا جو محو خواب ناز