ویرانی
17 Misre
- بہ سعی غیر ہے قطع لباس خانہ ویرانی
- نگہ معمار حسرت ہا چہ آبادی چہ ویرانی
- بس کہ ویرانی سے کفر و دیں ہوے زیر و زبر
- بسان جوہر آئینہ از ویرانی دل ہا
- غبار راہ ویرانی ہے ملک دل کی آبادی
- خراب آباد غربت میں عبث افسوس ویرانی
- ساز عیش بے دلی ہے خانہ ویرانی مجھے
- جوش ویرانی ہے عشق داغ بیروں دادہ سے
- بسکہ ویرانی سے کفر و دیں ہوئے زیر و زبر
- لکھ دیا منجملۂ اسباب ویرانی مجھے
- اگا ہے گھر میں ہر سو سبزہ ویرانی تماشا کر
- بہ سعی غیر ہے قطع لباس خانہ ویرانی
- نگہ معمار حسرت ہا چہ آبادی چہ ویرانی
- ہوئی ہے مانع ذوق تماشا خانہ ویرانی
- کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
- یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
- خانہ ویرانی امید و پریشانی بیم