وہی
24 Misre
- وہی ہم ہیں قفس ہے اور ماتم بال و پر کا ہے
- ہے وہی بدمستی ہر ذرہ کا خود عذر خواہ
- وہی غفلت مگر احرام فسردن باندھے
- ہے وہی بد مستی ہر ذرہ كا خود عذر خواہ
- جو پانو اٹھ گئے وہی ان کے علم ہوئے
- دل بھی اگر گیا تو وہی دل کا درد تھا
- لاکھ پردے میں چھپا پر وہی عریاں نکلا
- جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن
- وہی ہم ہیں قفس ہے اور ماتم بال و پر کا ہے
- وہی اک بات ہے جو یاں نفس واں نکہت گل ہے
- پھر وہی پردۂ عماری ہے
- وہی صد رنگ نالہ فرسائی
- وہی صد گونہ اشک باری ہے
- پھر وہی زندگی ہماری ہے
- قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یاد
- وہی رونا تن و دل و جاں کا
- جانماز اور پھر مصلیٰ ہے وہی
- اور سجادہ بھی گویا ہے وہی
- ہے وہی کژدم جسے عقرب کہیں
- ہے زنخ ٹھوڑی ذقن بھی ہے وہی
- خاد ہے چیل اور زغن بھی ہے وہی
- جو ہے انگڑائی وہی خمیازہ ہے
- ہے نصیحت بھی وہی جو پند ہے
- ہے وہی انسان جو جاہل نہیں