وہم
22 Misre
- کرے ہے دست فرسود ہوس وہم توانائی
- کہ ایک وہم ضعیف و غم دو عالم ہے
- حسن و رعنائی میں وہم صد سر و گردن ہے فرق
- بہ وہم زر گرہ میں باندھتے ہیں برق حاصل ہا
- وہم طرب ہستی ایجاد سیہ مستی
- شش جہت اسباب ہے وہم توکل ہنوز
- دامان دل بہ وہم تماشا نہ کھینچیے
- یہ گرد وہم جز بسر امتحاں نہیں
- زبس خوں گشتۂ رشک وفا تھا وہم بسمل کا
- جز وہم نہیں ہستیٔ اشیا مرے آگے
- نہ ہو بہ ہرزہ بیاباں نورد وہم وجود
- ز بس خوں گشتۂ رشک وفا تھا وہم بسمل کا
- غافل بہ وہم ناز خود آرا ہے ورنہ یاں
- ڈالا ہے تم کو وہم نے کس پیچ و تاب میں
- کہ ایک وہم ضعیف و غم دو عالم ہے
- بہ عجز آباد وہم مدعا تسلیم شوخی ہے
- جتنا کہ وہم غیر سے ہوں پیچ و تاب میں
- کثرت آرائی وحدت ہے پرستاری وہم
- یہ گرد وہم جز بسر امتحاں نہیں
- وہم آئینۂ پیدائی تمثال یقیں
- وہ نظرگاہ اہل وہم و خیال
- یک وہم و عبادت ہزار اندیشہ