وہ
398 Misre
- تو اور ایک وہ نشنیدن کہ کیا کہوں
- اگر وہ آفت نظارہ جلوہ گستر ہو
- آپ سے وہ مرا احوال نہ پوچھے تو اسدؔ
- جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
- ہوں میں وہ سبزہ کہ زہراب اگاتا ہے مجھے
- زندگی میں تو وہ محفل سے اٹھا دیتے تھے
- وہ اک نگہ جو بظاہر نگاہ سے کم ہے
- بس کہ مائل ہے وہ رشک ماہتاب آئینے پر
- بس کہ وہ پا کو بیاں در پردۂ وحشت ہیں یاد
- بس کہ وہ چشم و چراغ محفل اغیار ہے
- وہ سبزہ سنگ پر نہ اگا کوہکن ہنوز
- ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہے
- مگر وہ شوخ ہے طوفاں طراز شوق خونریزی
- بیٹھنا اس کا وہ آ کر تری دیوار کے پاس
- ہوا شرم تہہ دستی سے وہ بھی سر نگوں آخر
- وہ جلوہ کر کہ نہ میں جانوں اور نہ تو جانے
- مگر وہ خانہ بر انداز گفتگو جانے
- شب کہ مست دیدن مہتاب تھا وہ جامہ زیب
- شب کہ وہ گل باغ میں تھا جلوہ فرما اے اسدؔ
- خود آرا وحشت چشم پری سے شب وہ بدخو تھا
- گئے وہ دن کہ پانی جام مے سے زانو زانو تھا
- دریغا وہ مریض غم کہ فرط ناتوانی سے
- وہ بے دماغ منت اقبال ہوں کہ میں
- وہ التماس لذت بیداد ہوں کہ میں
- وہ راز نالہ ہوں کہ بشرح نگاہ عجز
- جس دشت میں وہ شوخ دو عالم شکار تھا
- وہ بے دماغ جس کو ہوس بھی تپاک ہے
- وہ جہاں مسند نشین بارگاہ ناز ہو
- وہ نہیں ہم کہ چلے جائیں حرم کو اے شیخ
- آئیں جس بزم میں وہ لوگ پکار اٹھتے ہیں
- لو وہ برہم زن ہنگامۂ محفل آئے
- بن گیا سبحہ وہ زنار خدا خیر کرے
- وہ جو نازک ہے کمر اس پہ بہت دل آئے
- صبح دم وہ جلوہ ریز بے نقابی ہو اگر
- ہیں ہوس پیشہ بہت وہ نہ ہو اور سہی
- مجھ کو وہ دو کہ جسے کھا کے نہ پانی مانگوں
- وہ غریب وحشت آباد تسلی ہوں جسے
- وہ آے یا نہ آے پہ یاں انتظار ہے
- وہ دیکھ کے حسن اپنا مغرور ہوا غالبؔ
- سر خوش خواب ہے وہ نرگس مخمور ہنوز
- ہوا وہ شعلہ داغ اور شوخی خاشاک باقی ہے
- اٹھاوے کب وہ جان شرم تہمت قتل عاشق کی
- اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں
- دیکھتے تھے ہم بچشم خود وہ طوفان بلا
- یاد کر وہ دن کہ ہر یک حلقہ تیرے دام کا
- آیا نہ میری خاک پہ وہ شہ سوار حیف
- جو چاہئے نہیں وہ مری قدر و منزلت
- وہ فرنگی زادہ کھاتا ہے قسم انجیل کی
- وہ مرغ ہے خزاں کی صعوبت سے بے خبر
- وہ گرفتار خرابی ہوں کہ فوارہ نمط
- وہ فسون وعدہ میرے واسطے افسانہ تھا
- وہ دل سوزاں کہ کل تک شمع ماتم خانہ تھا
- سحر گہ باغ میں وہ حیرت گلزار ہو پیدا
- تعجب سے وہ بولا یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں
- پھر وہ سوئے چمن آتا ہے خدا خیر کرے
- رکھے جو بیچ میں وہ شوخ سیمتن تکیہ
- بضرب تیشہ وہ اس واسطے ہلاک ہوا
- واں وہ فرق ناز محو بالش کمخواب تھا
- دیکھتے تھے ہم بچشم خود وہ طوفان بلا
- یاد کر وہ دن کہ ہر اک حلقہ تیرے دام کا
- ہوں وہ گلدام کہ سبزے میں چھپایا ہے مجھے
- ہوں میں وہ داغ کہ پھولوں میں بسایا ہے مجھے
- ہوں میں وہ چاک کہ کانٹوں سے سلایا ہے مجھے
- ہوں میں وہ خاک کہ ماتم میں اڑایا ہے مجھے
- ہو جہاں وہ ساقی خرشید رو مجلس فروز
- عجز و نیاز سے تو نہ آیا وہ راہ پر
- وہ سنگ کہ گلدستۂ جوش شرر آوے
- وہ تشنۂ سرشار تمنا ہوں کہ جس کو
- تشنۂ خون تماشا جو وہ پانی مانگے
- تو وہ بدخو کہ تحیر کو تماشا جانے
- غم وہ افسانہ کہ آشفتہ بیانی مانگے
- وہ تب عشق تمنا ہے کہ پھر صورت شمع
- یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
- تو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
- وہ شوخ اپنے حسن پہ مغرور ہے اسدؔ
- وہ فلک رتبہ کہ بر تو سن چالاک چڑھا
- وہ نہا کر آب گل سے سایۂ گل کے تلے
- پھولوں کو ہوئی باد بہاری وہ ہوا گرم
- کہوں وہ مصرع برجستہ وصف قامت میں
- وصل میں وہ سوز شمع مجلس تقریر ہے
- وہ دل ہے یہ کہ جس کا تخلص صبور تھا
- وہ پردہ نشیں اور اسدؔ آئینہ اظہار
- وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
- تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے
- مانا کہ تم کہا کیے اور وہ سنا کیے
- اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں
- بے تکلف ہوں وہ مشت خس کہ گلخن میں نہیں
- سر کرے ہے وہ حدیث زلف عنبر بار دوست
- بزم ہستی وہ تماشا ہے کہ جس کو ہم اسدؔ
- وہ دل ہے یہ کہ جس کا تخلص صبور تھا
- وہ ایک مشت خاک کہ صحرا کہیں جسے
- جس دشت میں وہ شوخ دو عالم شکار تھا
- ہوں میں وہ سبزہ کہ زہراب اگاتا ہے مجھے
- زندگی میں تو وہ محفل سے اٹھا دیتے تھے
- پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا
- منہ نہ کھلنے پر ہے وہ عالم کہ دیکھا ہی نہیں
- بساط عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
- سو رہتا ہے بہ انداز چکیدن سرنگوں وہ بھی
- تکلف بر طرف تھا ایک انداز جنوں وہ بھی
- مرے دام تمنا میں ہے اک صید زبوں وہ بھی
- کہ ہوگا باعث افزائش درد دروں وہ بھی
- مرے دریائے بے تابی میں ہے اک موج خوں وہ بھی
- لیے بیٹھا ہے اک دو چار جام واژ گوں وہ بھی
- خدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں وہ بھی
- کہیں ہو جائے جلد اے گردش گردون دوں وہ بھی
- کہ میری خواب بندی کے لیے ہوگا فسوں وہ بھی
- ہے یہ برسات وہ موسم کہ عجب کیا ہے اگر
- وہ آ رہا مرے ہم سایے میں تو سائے سے
- کوئی بتاؤ کہ وہ زلف خم بہ خم کیا ہے
- وہ داد و دید گراں مایہ شرط ہے ہم دم
- آیا نہ میری خاک پہ وہ شہ سوار حیف
- وہ لوگ رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئے
- جو واں نہ کھنچ سکے سو وہ یاں آ کے دم ہوئے
- وہ سن کے بلا لیں یہ اجارا نہیں کرتے
- خوشا وہ دل کہ سراپا طلسم بے خبری ہو
- کیا وہ بھی بے گنہ کش و حق ناشناس ہیں
- لیکن خدا کرے وہ ترا جلوہ گاہ ہو
- اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا
- آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا
- پاؤں میں جب وہ حنا باندھتے ہیں
- وہ جو کاغذ میں دوا باندھتے ہیں
- بسکہ ہے وہ قبلۂ آئینہ محو اختراع
- تو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
- یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
- وہ شوخ اپنے حسن پہ مغرور ہے اسدؔ
- مر جاؤں نہ کیوں رشک سے جب وہ تن نازک
- وہ آئے یا نہ آئے پہ یاں انتظار ہے
- صد حیف وہ ناکام کہ اک عمر سے غالبؔ
- ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہے
- وہ اجل کہ خوں بہا ہو بہ شہید ناتوانی
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- کروں عذر ترک صحبت سو کہاں وہ بے دماغی
- پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے
- اسدؔ سے ترک وفا کا گماں وہ معنی ہے
- اگر وہ سرو قد گرم خرام ناز آ جاوے
- مرا حاصل وہ نسخہ ہے کہ جس سے خاک پیدا ہو
- کرے کیا ساز بینش وہ شہید درد آگاہی
- وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے
- وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
- کام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے
- وہ آیا بزم میں دیکھو نہ کہیو پھر کہ غافل تھے
- وہ آویں گے مرے گھر وعدہ کیسا دیکھنا غالبؔ
- لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہے
- وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں
- بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں کہ ہم
- سینہ کا داغ ہے وہ نالہ کہ لب تک نہ گیا
- خاک کا رزق ہے وہ قطرہ کہ دریا نہ ہوا
- کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
- وہ بادۂ شبانہ کی سرمستیاں کہاں
- وہ ولولے کہاں وہ جوانی کدھر گئی
- ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
- جب وہ جمال دلفروز صورت مہر نیمروز
- واں وہ غرور عز و ناز یاں یہ حجاب پاس وضع
- راہ میں ہم ملیں کہاں بزم میں وہ بلائے کیوں
- ہاں وہ نہیں خدا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی
- عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لاویں گے کیا
- دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا
- ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا
- وہ ستم گر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا
- ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا
- سمجھ کے کرتے ہیں بازار میں وہ پرسش حال
- بد گماں ہوتا ہے وہ کافر نہ ہوتا کاش کے
- غیر کو یا رب وہ کیونکر منع گستاخی کرے
- دل کی وہ حالت کہ دم لینے سے گھبرا جائے ہے
- پر ہم ایسے کھوے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہے
- ہو کے عاشق وہ پری رخ اور نازک بن گیا
- مے وہ کیوں بہت پیتے بزم غیر میں یا رب
- دے وہ جس قدر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گے
- حسرت اے ذوق خرابی کہ وہ طاقت نہ رہی
- کس رعونت سے وہ کہتے ہیں کہ ہم حور نہیں
- وائے وہ بادہ کہ افشردۂ انگور نہیں
- عقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشنا
- میں اور ایک آفت کا ٹکڑا وہ دل وحشی کہ ہے
- یاد کرتا ہے مجھے دیکھے ہے وہ جس جا نمک
- یاد ہیں غالبؔ تجھے وہ دن کہ وجد ذوق میں
- وہ نگاہیں کیوں ہوئی جاتی ہیں یارب دل کے پار
- وہ اک گلدستہ ہے ہم بے خودوں کے طاق نسیاں کا
- کیا آئینہ خانے کا وہ نقشہ تیرے جلوے نے
- اب تک وہ جانتا ہے کہ میرے ہی پاس ہے
- ہے وہ غرور حسن سے بیگانۂ وفا
- واں وہ فرق ناز محو بالش کمخواب تھا
- شب کہ وہ مجلس فروز خلوت ناموس تھا
- تمثال میں تیری ہے وہ شوخی کہ بہ صد ذوق
- عشق کی راہ میں ہے چرخ مکوکب کی وہ چال
- خامہ میرا کہ وہ ہے باربد بزم سخن
- تو وہ لشکر کا ترے نعل بہا ہوتا ہے
- تڑپ کر مر گیا وہ صید بال افشاں کہ مضطر تھا
- یہ جنت نگاہ وہ فردوس گوش ہے
- نے وہ سرور و سوز نہ جوش و خروش ہے
- اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- اے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی
- تو اور ایک وہ نہ شنیدن کہ کیا کہوں
- بسکہ وہ چشم و چراغ محفل اغیار ہے
- شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے
- آئے وہ یاں خدا کرے پر نہ کرے خدا کہ یوں
- وہ سبزہ سنگ پر نہ اگا کوہکن ہنوز
- غیر نے کی آہ لیکن وہ خفا مجھ پر ہوا
- نشہ میں گم کردہ راہ آیا وہ مست فتنہ خو
- تعجب سے وہ بولا یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں
- پھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور
- یاں تلک میری گرفتاری سے وہ خوش ہے کہ میں
- میں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خار بیاباں پر
- وہ بے دماغ منت اقبال ہوں کہ میں
- وہ حلقہ ہاۓ زلف کمیں میں ہیں یا خدا
- جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
- وہ بات چاہتے ہو کہ جو بات چاہیے
- میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
- وہ نالہ دل میں خس کے برابر جگہ نہ پائے
- وہ سحر مدعا طلبی میں نہ کام آئے
- آ ہی جاتا وہ راہ پر غالبؔ
- وہ دن گئے کہ اپنا دل سے جگر جدا تھا
- کم نہیں وہ بھی خرابی میں پہ وسعت معلوم
- دشت میں ہے مجھے وہ عیش کہ گھر یاد نہیں
- تو وہ بد خو کہ تحیر کو تماشا جانے
- غم وہ افسانہ کہ آشفتہ بیانی مانگے
- وہ تپ عشق تمنا ہے کہ پھر صورت شمع
- تشنۂ خون تماشا جو وہ پانی مانگے
- وہ زندہ ہم ہیں کہ ہیں روشناس خلق اے خضر
- گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری جو شامت آئی
- اس نزاکت کا برا ہو وہ بھلے ہیں تو کیا
- پردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نہ بنے
- بوجھ وہ سر سے گرا ہے کہ اٹھائے نہ اٹھے
- کام وہ آن پڑا ہے کہ بنائے نہ بنے
- عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ
- وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
- وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے
- وہ بھی دن ہو کہ اس ستم گر سے
- نہیں دل میں مرے وہ قطرۂ خوں
- اے دریغا وہ رند شاہد باز
- دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیں
- یہ کیا کہ تم کہو اور وہ کہیں کہ یاد نہیں
- ہم وہ عاجز کہ تغافل بھی ستم ہے ہم کو
- ہوس سیر و تماشا سو وہ کم ہے ہم کو
- وہ آ کے خواب میں تسکین اضطراب تو دے
- وہ فراق اور وہ وصال کہاں
- وہ شب و روز و ماہ و سال کہاں
- دل تو دل وہ دماغ بھی نہ رہا
- تھی وہ اک شخص کے تصور سے
- اب وہ رعنائی خیال کہاں
- وہ عناصر میں اعتدال کہاں
- بوسہ میں وہ مضائقہ نہ کرے
- وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا
- عجز سے اپنے یہ جانا کہ وہ بد خو ہوگا
- مرم زنگار ہے وہ وسمۂ ابرو مجھے
- پھر وہ نیرنگ نظر یاد آیا
- آہ وہ جرأت فریاد کہاں
- پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے
- جلوے كا تیرے وہ عالم ہے کہ گر کیجے خیال
- کب وہ سنتا ہے کہانی میری
- اور پھر وہ بھی زبانی میری
- وہ بد خو اور میری داستان عشق طولانی
- ادھر وہ بد گمانی ہے ادھر یہ ناتوانی ہے
- وہ دیکھا جائے کب یہ ظلم دیکھا جائے ہے مجھ سے
- وہ کافر جو خدا کو بھی نہ سونپا جائے ہے مجھ سے
- وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں
- نہ لاوے تاب جو غم کی وہ میرا رازداں کیوں ہو
- گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو
- ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو
- گر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں
- وہ بلائے آسمانی اور ہے
- یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی کہ وہ آئے
- کچھ کہہ نہ سکوں پر وہ مرے پوچھنے کو آئے
- دیکھا کہ وہ ملتا نہیں اپنے ہی کو کھو آئے
- وہ نیشتر سہی پر دل میں جب اتر جاوے
- وہ زخم تیغ ہے جس کو کہ دل کشا کہیے
- سر پھوڑنا وہ غالبؔ شوریدہ حال کا
- ہے ہے خدا نخواستہ وہ اور دشمنی
- ایسی باتوں سے وہ کافر بد گماں ہو جائے گا
- گر وہ مست ناز دیوے گا صلائے عرض حال
- وہ دیکھ کے حسن اپنا مغرور ہوا غالبؔ
- گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہو
- وہ شخص دن نہ کہے رات کو تو کیونکر ہو
- ہماری بات ہی پوچھیں نہ وہ تو کیونکر ہو
- وہ نیش ہو رگ جاں میں فرو تو کیونکر ہو
- وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرت تعمیر سو ہے
- تنگئ دل کا گلہ کیا یہ وہ کافر دل ہے
- وہ گل جس گلستاں میں جلوہ فرمائی کرے غالبؔ
- کوئی بتاؤ کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے
- یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے
- وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز
- وہ خوں جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے
- پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام جم نکلے
- وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغ ستم نکلے
- پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
- غالبؔ کو جانتا ہے کہ وہ نیم جاں نہیں
- ہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جواں میر بھی تھا
- یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات
- جلاد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ ہاں اور
- کہتا تھا کل وہ محرم راز اپنے سے کہ آہ
- رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
- اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا
- وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
- بہ سخن اوج وہ مرتبۂ معنی و لفظ
- ہوئی میری وہ گرمی بازار
- چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے
- گئے وہ دن کہ نادانستہ غیروں کی وفاداری
- گڑگانویں کی ہے جتنی رعیت وہ یک قلم
- رامپور اہل نظر کی ہے نظر میں وہ شہر
- رام پور آج ہے وہ بقعہ معمور کہ ہے
- دو دعائیں ہیں کہ وہ دیتے ہیں نواب کو ہم
- دو وہ چیزیں کہ طلبگار ہے جن کا عالم
- وہ سبزہ زار ہاے مطرا کہ ہے غضب
- وہ نازنیں بتان خود آرا کہ ہاے ہاے
- صبر آزما وہ ان کی نگاہیں کہ حف نظر
- وہ میوہ ہاے تازۂ شیریں کہ واہ واہ
- وہ بادہ ہاے ناب گوارا کہ ہاے ہاے
- وہ کھٹے کہاں پائیں املی کے پھول
- وہ کڑوے کریلے کہاں سے منگائیں
- ہر ایک قطرے کے ساتھ آئے جو ملک وہ کہے
- ہے یہ وہ گلشن ہمیشہ بہار
- کیا کہیں کیا وہ راگ گاتا ہے
- کل وہ سرگرم خودنمائی تھے
- تین بھیجے رپے وہ بے کم و کاست
- وہ بہار ریاض مہر و وفا
- گرچہ تو وہ ہے کہ ہنگامہ اگر گرم کرے
- اور میں وہ ہوں کہ گر جی میں کبھی غور کروں
- سلیم خاں کہ وہ ہے نور چشم واصل خاں
- حکیم حاذق و دانا ہے وہ لطیف کلام
- وہ اجل کہ خوں بہا ہو بہ شہید ناتوانی
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- کروں عذر ترک صحبت سو کہاں وہ بے دماغی
- سجدہ تمثال وہ آئینہ کہیں جس کو جبیں
- ہو وہ سرمایۂ ایجاد جہاں گرم خرام
- وہ کف خاک ہے ناموس دو عالم کی امیں
- کفر سوز اس کا وہ جلوہ ہے کہ جس سے ٹوٹے
- دے دعا کو مری وہ مرتبۂ حسن قبول
- نو روز ہے آج اور وہ دن ہے کہ ہوئے ہیں
- وہ راؤ راجہ بہادر کہ حکم سے جن کے
- عطا کیا ہے خدا نے وہ جاذبہ اس کو
- خدا نے دی ہے وہ غالبؔ کو دستگاہ سخن
- کہ نہ سمجھیں وہ لذت دشنام
- ترک فلک کے ہاتھ سے وہ چھین لیں حسام
- وہ فرد جس میں نام ہے میرا غلط لکھا
- جو واں نہ کہہ سکا وہ لکھا ہے حضور کو
- بلند رتبہ وہ حاکم وہ سرفراز امیر
- وہ محض رحمت و رافت کہ بہر اہل جہاں
- وہ عین عدل کہ دہشت سے جس کی پرسش کی
- وہ مہرباں ہو تو انجم کہیں الٰہی شکر
- وہ خشمگیں ہو تو گردوں کہے خدا کی پناہ
- جوان ہو کے کرے گا یہ وہ جہانبانی
- ملے گی اس کو وہ عقل نہفتہ داں کہ اسے
- ہے وہ بالاے سطح چرخ بریں
- وہ نظرگاہ اہل وہم و خیال
- یاں وہ دیکھا بچشم صورت بیں
- ورنہ وہ ناز ہے جس گلشن بیداد سے تھا
- وہ شہنشاہ کہ جس کی پئے تعمیر سرا
- وہ رہے مروحۂ بال پری سے بے زار
- نرم رفتار ہو جس کوہ پہ وہ برق گداز
- تو وہ ساقی ہے کہ ہر موج محیط تنزیہہ
- وہ بھی تھی اک سیمیا کی سی نمود
- وہ کہ جس کی صورت تکوین میں
- وہ کہ جس کے ناخن تاویل سے
- توسن شہ میں ہے وہ خوبی کہ جب
- تھان سے وہ غیرت صرصر کھلا
- نقش پا کی صورتیں وہ دلفریب
- لاٹھی وہ لگے کہ جس میں آواز نہ ہو
- دیکھ وہ برق تبسم بس کہ دل بیتاب ہے
- وہ آپ ہیں صبح و شام کرنے والے
- کہتے ہیں وہ مجھ کو رافضی اور دہری
- کہتے ہیں کہ اب وہ مردم آزار نہیں
- وہ صدق وہ عدل وہ حیا اور وہ علم
- وہ دوست نبی کے اور تم ان کے دشمن
- غالبؔ وہ مسلمان نہیں ہے زنہار
- وہ جس کے ماتمیوں پر ہے سلسبیل سبیل
- عدو کے سمع رضا میں جگہ نہ پائے وہ بات
- وہ ریگ تفتۂ وادی پہ گام فرسا ہے
- پر وہ یوں سہل دے نہ سکتا جان
- خاص وہ آم جو نہ ارزاں ہو
- وہ کہ ہے والی ولایت عہد
- خلق پر وہ خدا کا سایہ ہے
- وہ خود کہے کہ بتا تیری آرزو کیا ہے
- جوں شمع آپ اپنی وہ خوراک ہو گئے
- صبا لگا وہ طپانچے طرف سے بلبل کی
- وہ خط سبز ہے کہ بہ رخسار سادہ ہو
- وہ بات چاہتے ہو کہ جو بات چاہیے
- یاد آیا جو وہ کہنا کہ نہیں واہ غلط
- جو وہ نکلے تو دل نکلے جو دل نکلے تو دم نکلے
- وہ رسول اللہ کا قائم مقام
- اسم وہ ہے جس کو تم کہتے ہو نام
- کعبہ مکہ وہ جو ہے بیت الحرام
- دودھ جو پینے کا ہے وہ شیر ہے
- نیش ہے وہ ڈنک جس کو سب کہیں
- مینگنی جس کو کہیں وہ پشک ہے
- جس کو نقارا کہیں وہ کوس ہے
- وہ سرودن ہے جسے گانا کہیں
- ہے وہ آوردن جسے لانا کہیں
- وہ چراوے باغ میں میوہ جسے
- جس کو ناداں کہیے وہ انجان ہے
- جس کو جھولی کہیے وہ زنبیل ہے
- میں یہ کیا جانوں کہ وہ کس واسطے ہوں پھر گئے
- دیکھنا قسمت وہ آئے اور پھر یوں پھر گئے
- آکے آدھی دور میرے گھر سے وہ کیوں پھر گئے
- کس لیے تجھ سے چھپاؤں ہاں وہ پرسوں شب کی بات
- نامہ بر جلدی میں تیری وہ جو تھی مطلب کی بات
- پاس میرے وہ جو آئے بھی تو بعد از نصف شب