وقت
52 Misre
- کجا جوہر چہ عکس خط بتاں وقت خود آرائی
- بہ وقت سرنگونی ہے تصور انتظارستاں
- بس کہ وقت گریہ نکلا تیرہ کاری کا غبار
- وقت شب اختر گنے ہے چشم بیدار رکاب
- آگ سے پانی میں بجھتے وقت اٹھتی ہے صدا
- یا علی وقت عنایات و دم تائید ہے
- وقت شب اس شمع رو کے شعلۂ آواز پر
- اسدؔ اٹھنا قیامت قامتوں کا وقت آرایش
- غرور ضبط وقت نزع ٹوٹا بے قراری سے
- ہاتھ پر گر ہاتھ مارے یار وقت قہقہہ
- وقت اس افتادہ کا خوش جو قناعت سے اسد
- ہے مگر موقوف بر وقت دگر کار اسدؔ
- بیم طبع نازک خوباں سے وقت سیر باغ
- خوب وقت آئے تم اس عاشق بیمار کے پاس
- رہا نظارہ وقت بے نقابی آپ پر لرزاں
- اے عندلیب وقت وداع بہار ہے
- پر بالش ہے وقت دید مژگان تماشائی
- خرابات جنوں میں ہے اسدؔ وقت قدح نوشی
- دم جب کہ بہ وقت نزع توڑے
- وقت خیال جلوۂ حسن بتاں اسدؔ
- شوخ نے وقت حسن طرازی تمکیں سے آرام کیا
- بس کہ خوباں باغ کو دیتے ہیں وقت مے شکست
- وقت حسن افروزی زینت طرازاں جائے گل
- نہ دیجے پاس ضبط آبرو وقت شکستن بھی
- ضعف جنوں کو وقت تپش در بھی دور تھا
- خالی مجھے دکھلا کے بہ وقت سفر انگشت
- ضعف جنوں کو وقت تپش در بھی دور تھا
- آگ سے پانی میں بجھتے وقت اٹھتی ہے صدا
- وقت ہے گر بلبل مسکیں زلیخائی کرے
- پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب
- پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب
- جادۂ رہ خور کو وقت شام ہے تار شعاع
- اے عندلیب وقت وداع بہار ہے
- غرور ضبط وقت نزع ٹوٹا بے قراری سے
- سائے کی طرح ہم پہ عجب وقت پڑا ہے
- رات کے وقت مے پیے ساتھ رقیب کو لیے
- بہ وقت سرنگونی ہے تصور انتظارستاں
- یہ وقت ہے شگفتن گل ہائے ناز کا
- رو سوئے قبلہ وقت مناجات چاہیے
- یار لائے مری بالیں پہ اسے پر کس وقت
- خوب وقت آئے تم اس عاشق بیمار کے پاس
- مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت
- میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں
- دیکھنا حالت مرے دل کی ہم آغوشی کے وقت
- چاہیے وقت تپش یک دست صد پہلو مجھے
- پھر ترا وقت سفر یاد آیا
- ہاتھ پر گر ہاتھ مارے یار وقت قہقہہ
- وقت اس افتادہ کا خوش جو قناعت سے اسد
- تاترے وقت میں ہو عیش و طرب کی توفیر
- جم رتبہ میکلوڈ بہادر کہ وقت رزم
- آیا تھا وقت ریل کے کھلنے کا بھی قریب
- امام وقت کی یہ قدر ہے کہ اہل عناد