وفا
91 Misre
- ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بے وفا کہوں
- نہ سہی ہم سے پر اس بت میں وفا ہے تو سہی
- وگر نہ دلبری وعدۂ وفا معلوم
- ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا
- بے گانۂ وفا ہے ہواے چمن ہنوز
- تھا مجھ کو خار خار جنون وفا اسدؔ
- لیکن بناے عہد وفا استوار تر
- کس کو وفا کا سلسلہ جنباں اٹھائیے
- وحشت زخم وفا دیکھ کہ سر تا سر دل
- تماشا ہے کہ ناموس وفا رسواے آئیں ہے
- شکوہ درد و درد داغ اے بے وفا معذور رکھ
- جنوں فسردۂ تمکیں ہے کاش عہد وفا
- نہ ہووے کیونکے اسے فرض قتل اہل وفا
- موج سراب دشت وفا کا نہ پوچھ حال
- گر جلوۂ خرشید خریدار وفا ہو
- خجلت کش وفا کو شکایت نہ چاہیے
- زبس خوں گشتۂ رشک وفا تھا وہم بسمل کا
- کل تلک تیرا بھی دل مہر و وفا کا باب تھا
- بیش از نفس بتاں کے کرم نے وفا نہ کی
- نبض بیمار وفا دود چراغ کشتہ ہے
- وداع حوصلہ توفیق شکوہ عجز وفا
- ہستی نہیں جز بستن پیمان وفا ہیچ
- رنگ طرب ہے صورت عہد وفا گرو
- کل تلک تیرا بھی دل مہرو وفا کا باب تھا
- اسدؔ ہے نزع میں چل بے وفا براے خدا
- ریزش خون وفا ہے جرعہ نوشی ہاے یار
- ہے مشق وفا جانتے ہیں لغزش پا تک
- بھولے سے اس نے سیکڑوں وعدے وفا کیے
- وحشت زخم وفا دیکھ کہ سر تا سر دل
- موج سراب دشت وفا کا نہ پوچھ حال
- ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا
- وگرنہ دلبری وعدۂ وفا معلوم
- بیش از نفس بتاں کے کرم نے وفا نہ کی
- تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میں
- ہم سے پیمان وفا باندھتے ہیں
- نہ وفا کو آبرو ہے نہ جفا تمیز جو ہے
- اسدؔ سے ترک وفا کا گماں وہ معنی ہے
- کہ کرے تعزیت مہر و وفا میرے بعد
- عمر بھر کا تو نے پیمان وفا باندھا تو کیا
- ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
- جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
- ہاں وہ نہیں خدا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی
- ہیں گرفتار وفا زنداں سے گھبراویں گے کیا
- تالیف نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں
- دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا
- میں نے چاہا تھا کہ اندوہ وفا سے چھوٹوں
- تمہیں نہیں ہے سر رشتۂ وفا کا خیال
- وعدہ آنے کا وفا کیجے یہ کیا انداز ہے
- نبض بیمار وفا دود چراغ کشتہ ہے
- علی الرغم دشمن شہید وفا ہوں
- وفور بلا ہے ہجوم وفا ہے
- وفا مقابل و دعواۓ عشق بے بنیاد
- ز بس خوں گشتۂ رشک وفا تھا وہم بسمل کا
- ہے وہ غرور حسن سے بیگانۂ وفا
- دست تۂ سنگ آمدہ پیمان وفا ہے
- شوخیٔ رنگ حنا خون وفا سے کب تک
- کس کو وفا کا سلسلہ جنباں اٹھائیے
- دل سے ہوائے کشت وفا مٹ گئی کہ واں
- اس قدر دشمن ارباب وفا ہو جانا
- ہم کوئی ترک وفا کرتے ہیں
- ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بے وفا کہوں
- بیگانۂ وفا ہے ہوائے چمن ہنوز
- تھا مجھ کو خار خار جنون وفا اسدؔ
- وفا داری بشرط استواری اصل ایماں ہے
- میں دل ہوں فریب وفا خوردگاں کا
- جادۂ راہ وفا جز دم شمشیر نہیں
- جو منکر وفا ہو فریب اس پہ کیا چلے
- وائے محرومی تسلیم و بدا حال وفا
- دل کو میں اور مجھے دل محو وفا رکھتا ہے
- عدم تک بے وفا چرچا ہے تیری بے وفائی کا
- پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں
- اسدؔ ہے نزع میں چل بے وفا برائے خدا
- وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا
- کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں
- ہے بارے اعتماد وفا داری اس قدر
- اے آرزو شہید وفا خوں بہا نہ مانگ
- دل کو ہم صرف وفا سمجھے تھے کیا معلوم تھا
- اسدؔ ہے نزع میں چل بے وفا برائے خدا
- ہم پر جفا سے ترک وفا کا گماں نہیں
- ہوس کو پاس ناموس وفا کیا
- سن اے غارت گر جنس وفا سن
- بیداد وفا دیکھ کہ جاتی رہی آخر
- ایک وفا و مہر میں تازگی بساط دہر
- جان وفا پرست کو ایک شمیم نو بہار
- جس میں وفا و مہر و محبت کا ہے وفور
- وہ بہار ریاض مہر و وفا
- نہ وفا کو آبرو ہے نہ جفا تمیز جو ہے
- مثل مضمون وفا باد بدست تسلیم
- کس نے دیکھا نفس اہل وفا آتش خیز
- ہے اسیر ستم کشمکش دام وفا
- در بزم وفا خجل نشینی ہے مجھے