وصل
35 Misre
- مضمون وصل ہاتھ نہ آیا مگر اسے
- ہے وصل ہجر عالم تمکین و ضبط میں
- اے خیال وصل نادر ہے مے آشامی تری
- عزیزو ذکر وصل غیر سے مجھ کو نہ بہلاؤ
- وصل میں دل انتظار طرفہ رکھتا ہے مگر
- وصل میں بخت سیہ نے سنبلستاں گل کیا
- عقد وصل دخت رز انگور کا ہر دانہ تھا
- وصل آئینہ رخاں ہم نفس یک دیگر
- وصل ہر رنگ جنوں کسوت رسوائی ہے
- ہے مشق اسدؔ دستگہ وصل کی منظور
- اے اسدؔ دسترس وصل تمنا معلوم
- تھا سپند بزم وصل غیر گو بے تاب تھا
- نفس ہا بعد وصل دوست تاوان گستن ہا
- تھا سپند بزم وصل غیر گو بیتاب تھا
- بہ تحیر کدۂ فرصت آرایش وصل
- ہم مشق فکر وصل و غم ہجر سے اسدؔ
- وصل میں وہ سوز شمع مجلس تقریر ہے
- واماندۂ ذوق طرب وصل نہیں ہوں
- وصل بر رنگ تپش کسوت رسوائی ہے
- وصل میں دل انتظار طرفہ رکھتا ہے مگر
- خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے
- مرے دل میں ہے غالبؔ شوق وصل و شکوۂ ہجراں
- دل میں ذوق وصل و یاد یار تک باقی نہیں
- ہم مشق فکر وصل و غم ہجر سے اسدؔ
- گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی
- مضمون وصل ہاتھ نہ آیا مگر اسے
- گر ترے دل میں ہو خیال وصل میں شوق کا زوال
- عزیزو ذکر وصل غیر سے مجھ کو نہ بہلاؤ
- میں مضطرب ہوں وصل میں خوف رقیب سے
- میں اور حظ وصل خدا ساز بات ہے
- وصل میں ہجر کا ڈر یاد آیا
- اے اسدؔ دسترس وصل تمنا معلوم
- ہے وصل ہجر عالم تمکین و ضبط میں
- وصل زنگار رخ آئنۂ حسن یقیں
- وصل کی شب اے بت بے پیر آدھی رہ گئی