وصال
22 Misre
- دلے ہنوز خیال وصال خام رہا
- اے شب پروانہ و روز وصال عندلیب
- آخر اس پردے میں تو ہنستی تھی اے صبح وصال
- گرمی شوق طلب ہے عین تا پاک وصال
- رہن خاموشی میں ہے آرایش بزم وصال
- نفس بعد از وصال دوست تاواں ہے گستن کا
- کل ہے جو وعدۂ وصال آج بھی اے خدا سمجھ
- شب وصال میں مونس گیا ہے بن تکیہ
- دشمنی ہے وصال کا مذکور
- کس فرصت وصال پہ ہے گل کو عندلیب
- ہوا وصال سے شوق دل حریص زیادہ
- وصال جلوہ تماشا ہے پر دماغ کہاں
- نے مژدۂ وصال نہ نظارہ جمال
- نہ کہہ کہ طاقت رسوائی وصال نہیں
- وہ فراق اور وہ وصال کہاں
- گستاخیٔ وصال ہے مشاطۂ نیاز
- ہوں داغ نیم رنگیٔ شام وصال یار
- ہمارے ذہن میں اس فکر کا ہے نام وصال
- جاہ و جلال عہد وصال بتاں نہ پوچھ
- یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
- اس طرح کے وصال سے یا رب
- وصال لالہ عذاران سرو قامت ہے