ورنہ
62 Misre
- وفاے دلبراں ہے اتفاقی ورنہ اے ہمدم
- ورنہ تھا خرشید یک دست سوال
- ورنہ صد محشر بہ رہن جلوۂ رخسار ہے
- ورنہ بسمل کا تڑپنا لغزش مستانہ تھا
- ورنہ کانٹے میں تلے ہے سخن سنجیدہ
- غریبی بہر تسکین ہوس درکار ہے ورنہ
- ورنہ کیا موج نفس زنجیر رسوائی نہیں
- نوازش نفس آشنا کہاں ورنہ
- ورنہ ہے چرخ و زمیں یک ورق گرداندہ
- رکھا غفلت نے دور افتادۂ ذوق فنا ورنہ
- ورنہ دنداں در دل افشردن بناے خندہ ہے
- شورش باطن کے ہیں احباب منکر ورنہ یاں
- ورنہ ہر سنگ کے باطن میں شرر پنہاں ہے
- ورنہ کیا ہو نہ سکے نالہ بساماں مجھ سے
- دریغ اے ناتوانی ورنہ ہم ضبط آشنایاں نے
- کچھ نہ کی اپنی جنون نارسا نے ورنہ یاں
- ورنہ یاں بے رونقی سود چراغ کشتہ ہے
- کچھ نہ کی اپنے جنون نارا سنے ورنہ یاں
- میں ورنہ ہر لباس میں ننگ وجود تھا
- خور شبنم آشنا نہ ہوا ورنہ میں اسدؔ
- ہوتا ہے ورنہ شعلۂ رنگ حنا بلند
- ورنہ صد گلزار ہے یک بال بلبل کے تلے
- ورنہ جو چاہیے اسباب تمنا سب تھا
- ورنہ کیا حسرت کش دامن پہ نقش پا نہیں
- اے واے غفلت نگہ شوق ورنہ یاں
- دریغ اے ناتوانی ورنہ ہم ضبط آشنایاں نے
- اے وائے غفلت نگۂ شوق ورنہ یاں
- ورنہ صد محشر بہ رہن صافیٔ رخسار ہے
- ساقی گری کی شرم کرو آج ورنہ ہم
- ورنہ کس کو میرے افسانے کی تاب استماع
- میں ورنہ ہر لباس میں ننگ وجود تھا
- خور شبنم آشنا نہ ہوا ورنہ میں اسدؔ
- یوں ہی دکھ کسی کو دینا نہیں خوب ورنہ کہتا
- میں عدم سے بھی پرے ہوں ورنہ غافل بارہا
- دل نہیں تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہار
- ورنہ یاں بے رونقی سود چراغ کشتہ ہے
- ورنہ ہم کس کے ہیں اے داغ تمنا آشنا
- ورنہ ہوتا ہے جہاں میں کس قدر پیدا نمک
- بغل میں غیر کی آج آپ سوتے ہیں کہیں ورنہ
- ورنہ دنداں در دل افشردن بناۓ خندہ ہے
- شورش باطن کے ہیں احباب منکر ورنہ یاں
- ورنہ مر جانے میں کچھ بھید نہیں
- غافل بہ وہم ناز خود آرا ہے ورنہ یاں
- کہتے ہوئے ساقی سے حیا آتی ہے ورنہ
- ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
- یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا
- وفائے دلبراں ہے اتفاقی ورنہ اے ہمدم
- زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو ستم گر ورنہ
- ورنہ باقی ہے طاقت پرواز
- اے کرم نہ ہو غافل ورنہ ہے اسدؔ بیدل
- ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
- باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پر
- تکلف بر طرف ذوق زلیخا جمع کر ورنہ
- ورنہ کیا ہو نہ سکے نالہ بساماں مجھ سے
- ورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عذر مستی ایک دن
- ورنہ کیوں لائے ہیں کشتی میں لگا کر سہرا
- نہ کرے نذر صدا ورنہ متاع تمکیں
- کیوں رکھوں ورنہ غالبؔ اپنا نام
- ورنہ وہ ناز ہے جس گلشن بیداد سے تھا
- ہم کہاں ورنہ اور کہاں یہ نخل
- ورنہ تھا اپنا ارادہ پار کا
- ورنہ بستر کہتے ہیں برنا و پیر