وحشی
8 Misre
وحشی خو کردۂ نظارہ ہے حیرت جسے
طفل شوخ غنچۂ گل بس کہ ہے وحشی مزاج
مرگیا پھوڑ کے سر غالبؔ وحشی ہے ہے
وحشی بن صیاد نے ہم رم خوردوں کو کیا رام کیا
میں اور ایک آفت کا ٹکڑا وہ دل وحشی کہ ہے
طفل شوخ غنچۂ گل بسکہ ہے وحشی مزاج
مر گیا پھوڑ کے سر غالبؔ وحشی ہے ہے
قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یاد
و
All Letters