وحشت
113 Misre
- زہے شب زندہ دار انتظارستاں کہ وحشت سے
- تغافل کمیں گاہ وحشت شناسی
- بہ وحشت گاہ امکاں اتفاق چشم مشکل ہے
- بس کہ سوداے خیال زلف وحشت ناک ہے
- عرض وحشت پر ہے ناز ناتوانی ہاے دل
- بس کہ وہ پا کو بیاں در پردۂ وحشت ہیں یاد
- وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی نہ پوچھ
- بیدل نہ ناز وحشت جیب دریدہ کھینچ
- پرورش نالہ ہے وحشت پرواز سے
- عشق کمیں گاہ درد وحشت دل دور گرد
- حیرت حجاب جلوہ و وحشت غبار چشم
- وحشت زخم وفا دیکھ کہ سر تا سر دل
- چمن آرائے نفس وحشت تنہائی ہے
- یہ کیا وحشت ہے اے دیوانے پیش از مرگ واویلا
- عدم وحشت سراغ و ہستی آئیں بند رنگینی
- فریاد سے پیدا ہے اسدؔ گرمی وحشت
- وحشت بہار نشہ و گل ساغر شراب
- نہیں برق و شرر جز وحشت و ضبط تپیدن ہا
- باوجود مشق وحشت ہا رمیدن منع ہے
- ہوں بہ وحشت انتظار آوارۂ دشت خیال
- عرض درد بے وفائی وحشت اندیشہ ہے
- مرگ سے وحشت نہ کر راہ عدم پیمودہ ہے
- خوں ہے دل تنگی وحشت سے بیاباں میرا
- حسرت نشہ وحشت نہ بہ سعی دل ہے
- لنگر وحشت مجنوں ہے بیاباں میرا
- خود آرا وحشت چشم پری سے شب وہ بدخو تھا
- گر بعد مرگ وحشت دل کا گلا کروں
- وحشت بہ داغ سایۂ بال ہما کروں
- وحشت دل ہے اسدؔ عالم نیرنگ نشاط
- وہ غریب وحشت آباد تسلی ہوں جسے
- فال ہستی خار خار وحشت اندیشہ ہے
- مجھ میں اور مجنوں میں وحشت ساز دعوا ہے اسدؔ
- ساز وحشت رقمی ہا کہ باظہار اسدؔ
- نظر بازی طلسم وحشت آباد پرستاں ہے
- گریہ وحشت بے قرار جلوۂ مہتاب تھا
- اگر وحشت عرق افشان بے پروا خرامی ہو
- نمک بر داغ مشک آلودۂ وحشت تماشا ہے
- نہ پوچھ نازکی وحشت شکیبائی
- سامان دعا وحشت و تاثیر دعا ہیچ
- موے دماغ وحشت سر رشتۂ فنا ہے
- وحشت نہ کھینچ قاتل حیرت نفس ہے بسمل
- دیباچۂ وحشت ہے اسدؔ شکوۂ خوباں
- وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی نہ پوچھ
- ہے وحشت جنون بہار اس قدر کہ ہے
- وحشت نالہ بہ وا ماندگی وحشت ہے
- شوخی وحشت سے افسانہ فسون خواب تھا
- گریہ وحشت بیقرار جلوۂ مہتاب تھا
- وحشت درد بیکسی بے اثر اس قدر نہیں
- بال پری بہ وحشت بے جا نہ کھینچیے
- گر ہو بلد شوق مری خاک کو وحشت
- غبار دشت وحشت سرمہ ساز انتظار آیا
- وحشت شور تماشا ہے کہ جوں نکہت گل
- سرمایۂ وحشت ہے دلا سایۂ گلزار
- وحشت کہاں کہ بے خودی انشا کرے کوئی
- ہر سنگ وحشت ہے صدف گوہر شکست
- ہے وحشت طبیعت ایجاد یاس خیز
- وسعت مشرب نیاز کلفت وحشت اسد
- وحشت اگر رسا ہے بے حاصلی ادا ہے
- اے نور چشم وحشت اے یادگار صحرا
- جنون وحشت ہستی یہ عام ہے کہ بہار
- ذوق خودداری خراب وحشت تسخیر ہے
- جز آہ کہ سر لشکر وحشت علمی ہے
- بزم مے وحشت کدہ ہے کس کی چشم مست کا
- دیکھتا ہوں وحشت شوق خروش آمادہ سے
- وحشت زخم وفا دیکھ کہ سر تا سر دل
- چمن آرائے نفس وحشت تنہائی ہے
- وحشت افزا گریہ ہا موقوف فصل گل اسدؔ
- عالم غبار وحشت مجنوں ہے سر بہ سر
- ہے وحشت طبیعت ایجاد یاس خیز
- وحشت کہاں کہ بے خودی انشا کرے کوئی
- یہ کیا وحشت ہے اے دیوانہ پیش از مرگ واویلا
- حریف وحشت ناز نسیم عشق جب آؤں
- عشق نے پکڑا نہ تھا غالبؔ ابھی وحشت کا رنگ
- کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا
- احباب چارہ سازی وحشت نہ کر سکے
- ربط یک شیرازۂ وحشت ہیں اجزائے بہار
- سر خستہ دشوار وحشت سلامت
- خوں ہے دل تنگی وحشت سے بیاباں میرا
- حسرت نشۂ وحشت نہ بہ سعیٔ دل ہے
- لنگر وحشت مجنوں ہے بیاباں میرا
- یک قدم وحشت سے درس دفتر امکاں کھلا
- مانع وحشت خرامی ہائے لیلیٰ کون ہے
- شوخیٔ وحشت سے افسانہ فسون خواب تھا
- خو نے تری افسردہ کیا وحشت دل کو
- نہ کی سامان عیش و جاہ نے تدبیر وحشت کی
- عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
- میری وحشت تری شہرت ہی سہی
- وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی نہ پوچھ
- گر بعد مرگ وحشت دل کا گلہ کروں
- وحشت بہ داغ سایۂ بال ہما کروں
- پایا سر ہر ذرہ جگر گوشۂ وحشت
- آتشیں پا ہوں گداز وحشت زنداں نہ پوچھ
- شوخیٔ نیرنگ صید وحشت طاؤس ہے
- وحشت خواب عدم شور تماشا ہے اسدؔ
- وحشت شور تماشا ہے کہ جوں نکہت گل
- نہیں برق و شرر جز وحشت ضبط تپیدن ہا
- نہ ہو وحشت کش درس سراب سطر آگاہی
- اسدؔ وحشت پرست گوشۂ تنہائی دل ہے
- اپنے سے کر نہ غیر سے وحشت ہی کیوں نہ ہو
- ہم نے وحشت کدۂ بزم جہاں میں جوں شمع
- نظر بازی طلسم وحشت آباد پرستاں ہے
- چاک کی خواہش اگر وحشت بہ عریانی کرے
- شوخی اظہار کو جز وحشت مجنوں اسدؔ
- وسعت مشرب نیاز کلفت وحشت اسدؔ
- کیوں نہ وحشت غالب باج خواہ تسکیں ہو
- وحشت پہ میری عرصۂ آفاق تنگ تھا
- وحشت آتش دل سے شب تنہائی میں
- بیکسی ہائے شب ہجر کی وحشت ہے ہے
- سودا نہیں جنوں نہیں وحشت نہیں مجھے
- وحشت دل سے پریشاں ہیں چراغان خیال
- وحشت فرصت یک جیب کشش نے کھویا
- زلف معشوق کشش سلسلۂ وحشت ناز
- وحشت کدۂ تلاش لڑنے کے لیے