واں
61 Misre
- واں عزت تخت کئے نہیں ہے
- واں سے ہے تکلیف عرض بیدماغی اور اسدؔ
- واں سے ہے تکلیف عرض بے دماغی ہاے دل
- واں پر فشان دام نظر ہوں جہاں اسدؔ
- گیا جو نامہ بر واں سے برنگ باختہ آیا
- دیوانگاں کو واں ہوس خانماں نہیں
- واں کرم کو عذر بارش تھا عناں گیر خرام
- واں ہجوم نغمہ ہاے ساز عشرت تھا اسدؔ
- واں خود آرائی کو تھا موتی پرونے کا خیال
- جلوۂ گل نے کیا تھا واں چراغاں آبجو
- واں وہ فرق ناز محو بالش کمخواب تھا
- جلوۂ گل واں بساط صحبت احباب تھا
- فرش سے تا عرش واں طوفان تھا موج رنگ کا
- واں تو میرے نالے کو بھی اعتبار نغمہ ہے
- واں اسدؔ تار شعاع مہر خط جام ہے
- واں سیاہی مردمک ہے اور یاں داغ شراب
- بات پر واں زبان کٹتی ہے
- تاکہ میں جانوں کہ ہے اس کی رسائی واں تلک
- کسے خبر ہے کہ واں جنبش قلم کیا ہے
- جو واں نہ کھنچ سکے سو وہ یاں آ کے دم ہوئے
- نظارہ نے بھی کام کیا واں نقاب کا
- واں وہ غرور عز و ناز یاں یہ حجاب پاس وضع
- آج واں تیغ و کفن باندھے ہوے جاتا ہوں میں
- وائے واں بھی شور محشر نے نہ دم لینے دیا
- نغمہ ہو جاتا ہے واں گر نالہ میرا جائے ہے
- قدرت حق سے یہی حوریں اگر واں ہو گئیں
- واں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیا جواب
- واں کرم کو عذر بارش تھا عناں گیر خرام
- واں خود آرائی کو تھا موتی پرونے کا خیال
- جلوۂ گل نے کیا تھا واں چراغاں آب جو
- واں وہ فرق ناز محو بالش کمخواب تھا
- جلوۂ گل واں بساط صحبت احباب تھا
- فرش سے تا عرش واں طوفاں تھا موج رنگ کا
- واں ہجوم نغمہ ہائے ساز عشرت تھا اسدؔ
- دل سے ہوائے کشت وفا مٹ گئی کہ واں
- واں عزت تخت کے نہیں ہے
- واں تلک کوئی کسی حیلے سے پہنچا دے مجھے
- گو واں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں
- واں تو میرے نالے کو بھی اعتبار نغمہ ہے
- جو جاؤں واں سے کہیں کو تو خیرباد نہیں
- واں اس کو ہول دل ہے تو یاں میں ہوں شرم سار
- واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو
- واں جو جاویں گرہ میں مال کہاں
- وہی اک بات ہے جو یاں نفس واں نکہت گل ہے
- ہم بھی گئے واں اور تری تقدیر کو رو آئے
- اب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہو جائے گا
- واں کنگر استغنا ہر دم ہے بلندی پر
- دیوانگاں کو واں ہوس خانماں نہیں
- واں سیاہی مردمک ہے اور یاں داغ شراب
- واں رنگ ہا بہ پردۂ تدبیر ہیں ہنوز
- کوئی واں سے نہ آ سکے یاں تک
- آدمی واں نہ جا سکے یاں کا
- نہ واں آم پائیں نہ انگور پائیں
- ہر کف خاک ہے واں گروۂ تصویر زمیں
- واں آسمان شیشہ بنے آفتاب جام
- جو واں نہ کہہ سکا وہ لکھا ہے حضور کو
- واں کہاں یہ عطا و بذل و کرم
- واں کی خاشاک سے حاصل ہو جسے یک پرکاہ
- آفرینش کو ہے واں سے طلب مستی ناز
- واں لکھا ہے چہرۂ قیصر کھلا
- واں کے جانے میں مری توقیر آدھی رہ گئی