نے
345 Misre
- رونے نے طاقت اتنی نہ چھوڑی کہ ایک بار
- ایراہی دے کے ہم نے بچایا ہے کشت کو
- آشفتگی نے نقش سویدا کیا درست
- آپ نے مسنی الضر کہا ہے تو سہی
- غیر سے دیکھیے کیا خوب نباہی اس نے
- کچھ نہ کچھ روز ازل تم نے لکھا ہے تو سہی
- ستم کشی کا کیا دل نے حوصلہ پیدا
- رکھا اسپند نے مجمر میں پہلو گرم تمکیں کا
- اثر فریاد دل ہاے حزیں کا کس نے دیکھا ہے
- اسدؔ یہ فرط غم نے کی تلف کیفیت شادی
- دیا داغ جگر کو آہ نے ساماں شگفتن کا
- بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
- بس کہ آئینے نے پایا گرمی رخ سے گداز
- وصل میں بخت سیہ نے سنبلستاں گل کیا
- کی ہے وا اہل جہاں نے بہ گلستان جہاں
- ہم نے سو زخم جگر پر بھی زباں پیدا نہ کی
- ضعف سے ہے نے قناعت سے یہ ترک جستجو
- نگہ کی ہم نے پیدا رشتۂ ربط علائق سے
- ہے شمع جادہ داغ نے فروختن ہنوز
- نے زبان غنچہ گویا نے زبان خار باغ
- قیس نے از بس کہ کی سیر گریباں نفس
- دیا یاروں نے بے ہوشی میں درماں کا فریب آخر
- جنوں نے مجھ کو بنایا ہے مدعی میرا
- خط نوخیز کی آئینے میں دی کس نے آرایش
- مصراع نالۂ نے سکتہ ہزار جا ہے
- زمیں کو صفحۂ گلشن بنایا خونچکانی نے
- بارے اپنی بیکسی کی ہم نے پائی داد یاں
- افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے
- نے صبا بال پری نے شعلہ سامان جنوں
- رنگریز جسم و جاں نے از خمستان عدم
- زخم نے داد نہ دی تنگی دل کی یارب
- دل میں پھر گریے نے اک شور اٹھایا غالبؔ
- جوے خوں ہم نے بہائی بن ہر خار کے پاس
- ہنر پیدا کیا ہے میں نے حیرت آزمائی میں
- خدایا کس قدر اہل نظر نے خاک چھانی ہے
- برنگ نے ہے نہاں درہر استخواں فریاد
- نہ بخشی فرصت یک شبنمستاں جلوۂ خور نے
- تصور نے کیا ساماں ہزار آئینہ بندی کا
- دے نے برباد کیا پیرہنستاں میرا
- رکھا غفلت نے دور افتادۂ ذوق فنا ورنہ
- کہ میں نے دست و پا باہم بہ شمشیر ادب کاٹے
- خشکی مے نے تلف کی مے کدے کی آبرو
- توڑا جو تو نے آئنہ تمثال دار تھا
- کیا کس شوخ نے ناز از سر تمکیں تشستن کا
- ہوا نے ابر سے کی موسم گل میں نمد بانی
- دی لطف ہوا نے بہ جنوں طرفہ نزاکت
- نے سرد برگ آرزو نے رہ و رسم گفتگو
- ہاتھ رکھ دی کب ابرو نے کماں
- عشق نے وا کی ہے ہر یک خار سے مژگان عجز
- نے کوچۂ رسوائی و زنجیر پریشاں
- سامنا حور و پری نے نہ کیا ہے نہ کریں
- آرزوے خانہ آبادی نے ویراں تر کیا
- مجھ سے غالبؔ یہ علائیؔ نے غزل لکھوائی
- چرایا زخم ہاے دل نے پانی تیغ قاتل کا
- چمن میں کچھ نہ چھوڑا تو نے غیر از بیضۂ قمری
- زبس آتش نے فصل رنگ میں رنگ دگر پایا
- دریغ اے ناتوانی ورنہ ہم ضبط آشنایاں نے
- کرے ہے مغز سے مانند نے کے استخواں خالی
- نہ پایا درد مند دوری یاران یک دل نے
- کچھ نہ کی اپنی جنون نارسا نے ورنہ یاں
- میں نے روکا رات غالبؔ کو وگرنہ دیکھتے
- بیش از نفس بتاں کے کرم نے وفا نہ کی
- ہوا نے ابر سے کی موسم گل میں نمد بانی
- نگاہ ناز نے جب عرض تکلیف شرارت کی
- دیا ابرو کو چھیڑ اور اس نے فتنے کو اشارت کی
- شہ گل نے کیا جب بندوبست گلشن آرائی
- تب خجلت نے یہ نبض رگ گل میں حرارت کی
- اسدؔ کھائے ہوئے سرمے نے آنکھوں میں بصارت کی
- بنا ہے پنبۂ سینا سے ساقی نے نقاب اس کا
- نے سبحہ سے علاقہ نہ ساغر سے واسطہ
- نے دانۂ فتادہ ہوں نے دام چیدہ ہوں
- خامے سے پائی طبیعت نے مدد
- ملک کے وارث کو دیکھا خلق نے
- ہم کو جلدی ہے مگر تو نے قیامت ڈھیل کی
- کی ہیں کس پانی سے یاں یعقوب نے آنکھیں سفید
- شب کہ باندھا خواب میں آنے کا قاتل نے جناح
- نے حسرت تسلی نے ذوق بے قراری
- طاؤس نے اک آئنہ خانہ رکھا گرو
- دیکھا نہیں ہے ہم نے بعشق بتاں اسدؔ
- شب اختر قدح عیش نے محمل باندھا
- دیدہ تا دل ہے یک آئینہ چراغاں کس نے
- نا امیدی نے بہ تقریب مضامین خمار
- مطرب دل نے مرے تار نفس سے غالبؔ
- اگرچہ پھینک دیا تم نے دور سے لیکن
- جلوۂ گل نے کیا تھا واں چراغاں آبجو
- میں نے روکا رات غالبؔ کو وگرنہ دیکھتے
- شوخی نغمۂ بیدل نے جگایا ہے مجھے
- پوچھا تھا گرچہ یار نے احوال دل مگر
- ڈھانپا کفن نے داغ عیوب برہنگی
- فکر نے سونپی خموشی کی گریبانی مجھے
- رنگ نے گل سے دم عرض پریشانی بزم
- نہ دیکھا کوئی ہم نے آشیاں بلبل کا گلشن میں
- ہے کوچہ ہاے نے میں غبار صدا بلند
- وحشی بن صیاد نے ہم رم خوردوں کو کیا رام کیا
- شوخ نے وقت حسن طرازی تمکیں سے آرام کیا
- ساقی نے از بہر گریباں چاکی موج بادۂ ناب
- قاتل تمکیں سنج نے یوں خاموشی کا پیغام کیا
- شام فراق یار میں جوش خیرہ سری سے ہم نے اسدؔ
- عشق میں ہم نے ہی ابرام سے پرہیز کیا
- اس شعلے نے گلگوں کو جو گلشن میں کیا گرم
- کہ ہے دل سوزاں نے مرے پہلو میں جا گرم
- اسدؔ نے کثرت دل ہاے خلق سے جانا
- کیا کیا خضر نے سکندر سے
- تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے
- بھولے سے اس نے سیکڑوں وعدے وفا کیے
- زبس آتش نے فصل رنگ میں رنگ دگر پایا
- دریغ اے ناتوانی ورنہ ہم ضبط آشنایاں نے
- افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے
- تو نے قسم مے کشی کی کھائی ہے غالبؔ
- عشق میں بیداد رشک غیر نے مارا مجھے
- حسرت نے لا رکھا تری بزم خیال میں
- پھونکا ہے کس نے گوش محبت میں اے خدا
- ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
- توڑا جو تو نے آئنہ تمثال دار تھا
- مجھے معلوم ہے جو تو نے میرے حق میں سوچا ہے
- کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
- وفور اشک نے کاشانے کا کیا یہ رنگ
- ہجوم گریہ کا سامان کب کیا میں نے
- بیش از نفس بتاں کے کرم نے وفا نہ کی
- چھوڑی اسدؔ نہ ہم نے گدائی میں دل لگی
- تم کو بھی ہم دکھائیں کہ مجنوں نے کیا کیا
- چھوڑا مہ نخشب کی طرح دست قضا نے
- آہ کا کس نے اثر دیکھا ہے
- جب بہ تقریب سفر یار نے محمل باندھا
- تپش شوق نے ہر ذرہ پہ اک دل باندھا
- اہل بینش نے بہ حیرت کدۂ شوخی ناز
- یاس و امید نے یک عربدہ میداں مانگا
- عجز ہمت نے طلسم دل سائل باندھا
- یار نے تشنگیٔ شوق کے مضموں چاہے
- ہم نے دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
- دیدہ تا دل ہے یک آئینہ چراغاں کس نے
- ناامیدی نے بہ تقریب مضامین خمار
- مطرب دل نے مرے تار نفس سے غالبؔ
- رنگ نے آئنہ آنکھوں کے مقابل باندھا
- چوں نمد ہم نے کف پا پہ اسدؔ دل باندھا
- آشفتگی نے نقش سویدا کیا درست
- ڈھانپا کفن نے داغ عیوب برہنگی
- پوچھا تھا گرچہ یار نے احوال دل مگر
- دشنے نے کبھی منہ نہ لگایا ہو جگر کو
- خنجر نے کبھی بات نہ پوچھی ہو گلو کی
- شرار سنگ نے تربت پہ میری گل فشانی کی
- خیال آساں تھا لیکن خواب خسرو نے گرانی کی
- اسدؔ کو بوریے میں دھر کے پھونکا موج ہستی نے
- کبھی کودکی میں جس نے نہ سنی مری کہانی
- مجھے انتعاش غم نے پئے عرض حال بخشی
- اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
- ہم سخن تیشہ نے فرہاد کو شیریں سے کیا
- چھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوں
- خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار
- تو نے پھر کیوں کی تھی میری غم گساری ہائے ہائے
- عمر بھر کا تو نے پیمان وفا باندھا تو کیا
- عشق نے پکڑا نہ تھا غالبؔ ابھی وحشت کا رنگ
- ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کی
- نظارہ نے بھی کام کیا واں نقاب کا
- مارا زمانہ نے اسداللہ خاں تمہیں
- بارے اپنی بیکسی کی ہم نے پائی داد یاں
- میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ
- گر کیا ناصح نے ہم کو قید اچھا یوں سہی
- ہم نے یہ مانا کہ دلی میں رہیں کھاویں گے کیا
- میں نے چاہا تھا کہ اندوہ وفا سے چھوٹوں
- ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا
- کہا ہے کس نے کہ غالبؔ برا نہیں لیکن
- وائے واں بھی شور محشر نے نہ دم لینے دیا
- تم نے کیوں سونپی ہے میرے گھر کی دربانی مجھے
- دی مرے بھائی کو حق نے از سر نو زندگی
- گھستے گھستے مٹ جاتا آپ نے عبث بدلا
- دوست کی شکایت میں ہم نے ہم زباں اپنا
- نے بھاگنے کی گوں نہ اقامت کی تاب ہے
- اس رنگ سے اٹھائی کل اس نے اسدؔ کی نعش
- ادب نے سونپی ہمیں سرمہ سائی حیرت
- دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
- میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
- قید میں یعقوب نے لی گو نہ یوسف کی خبر
- بسکہ روکا میں نے اور سینے میں ابھریں پے بہ پے
- دکھاؤں گا تماشا دی اگر فرصت زمانے نے
- کیا آئینہ خانے کا وہ نقشہ تیرے جلوے نے
- دیا یاروں نے بے ہوشی میں درماں کا فریب آخر
- چرایا زخم ہائے دل نے پانی تیغ قاتل کا
- دے نے برباد کیا پیرہنستاں میرا
- نالۂ دل نے دیے اوراق لخت دل بہ باد
- جلوۂ گل نے کیا تھا واں چراغاں آب جو
- طبع کی واشد نے رنگ یک گلستاں گل کیا
- کل اسدؔ کو ہم نے دیکھا گوشۂ غم خانہ میں
- شعلے سے نہ ہوتی ہوس شعلہ نے جو کی
- خو نے تری افسردہ کیا وحشت دل کو
- اسدؔ ہر جا سخن نے طرح باغ تازہ ڈالی ہے
- زخم نے داد نہ دی تنگئ دل کی یا رب
- دل میں پھر گریہ نے اک شور اٹھایا غالبؔ
- نہ کی سامان عیش و جاہ نے تدبیر وحشت کی
- لیا آئینہ نے حرز پر طوطی بچنگ آخر
- لکھی یاروں کی بد مستی نے میخانے کی پامالی
- نے مژدۂ وصال نہ نظارہ جمال
- مے نے کیا ہے حسن خود آرا کو بے حجاب
- نے وہ سرور و سوز نہ جوش و خروش ہے
- قضا نے تھا مجھے چاہا خراب بادۂ الفت
- غم زمانہ نے جھاڑی نشاط عشق کی مستی
- یہ عمر بھر جو پریشانیاں اٹھائی ہیں ہم نے
- وا کر دیے ہیں شوق نے بند نقاب حسن
- قسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی
- بدی کی اس نے جس سے ہم نے کی تھی بارہا نیکی
- ضعف سے ہے نے قناعت سے یہ ترک جستجو
- نے تیر کماں میں ہے نہ صیاد کمیں میں
- میں نے کہا کہ بزم ناز چاہیے غیر سے تہی
- سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
- مجھ سے کہا جو یار نے جاتے ہیں ہوش کس طرح
- دل کو آنکھوں نے پھنسایا کیا مگر
- عشق نے غالبؔ نکما کر دیا
- نالہ پابند نے نہیں ہے
- غیر نے کی آہ لیکن وہ خفا مجھ پر ہوا
- درد سے در پردہ دی مژگاں سیاہاں نے شکست
- اس چمن میں ریشہ داری جس نے سر کھینچا اسدؔ
- کیا سینے میں جس نے خوں چکاں مژگان سوزن کو
- کیا بیتاب کاں میں جنبش جوہر نے آہن کو
- نہ چھوڑی حضرت یوسف نے یاں بھی خانہ آرائی
- نہ لڑ ناصح سے غالبؔ کیا ہوا گر اس نے شدت کی
- رنگریز جسم و جاں نے از خمستان عدم
- رکھ لی مرے خدا نے مری بیکسی کی شرم
- اثر فریاد دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے
- ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں
- ڈالا ہے تم کو وہم نے کس پیچ و تاب میں
- کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی
- جوئے خوں ہم نے بہائی بن ہر خار کے پاس
- گر میں نے کی تھی توبہ ساقی کو کیا ہوا تھا
- کیا ہے کس نے اشارا کہ ناز بستر کھینچ
- رنگ نے گل سے دم عرض پریشانیٔ بزم
- اٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لیے
- کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے
- پردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نہ بنے
- ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
- بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
- دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیں
- ہزاروں دل دیے جوش جنون عشق نے مجھ کو
- فزوں کی دوستوں نے حرص قاتل ذوق کشتن میں
- لگایا خندۂ ناصح نے بخیہ جیب و دامن میں
- چھوڑا نہ مجھ میں ضعف نے رنگ اختلاط کا
- ڈالا نہ بے کسی نے کسی سے معاملہ
- کہا جو اس نے ذرا میرے پاؤں داب تو دے
- بد گمانی نے نہ چاہا اسے سرگرم خرام
- سفر عشق میں کی ضعف نے راحت طلبی
- ہم نے وحشت کدۂ بزم جہاں میں جوں شمع
- خوب رویوں نے بنایا غالبؔ بد خو مجھے
- نہ پایا دردمند دوریٔ یاران یک دل نے
- شاہ دیں دار نے شفا پائی
- دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز
- میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ
- پھر دیا پارۂ جگر نے سوال
- خط عارض سے لکھا ہے زلف کو الفت نے عہد
- دشمنی نے میری کھویا غیر کو
- کر دیا ضعف نے عاجز غالبؔ
- کیا غم خوار نے رسوا لگے آگ اس محبت کو
- کہا تم نے کہ کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائی
- ایرا ہی دے کے ہم نے بچایا ہے کشت کو
- نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
- اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے
- کی ہم نفسوں نے اثر گریہ میں تقریر
- دل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا
- عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
- غنچہ پھر لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل
- ہم نے بارہا ڈھونڈا تم نے بارہا پایا
- شور پند ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
- آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا
- ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پایا
- ہم سے تیرے کوچے نے نقش مدعا پایا
- نے اسدؔ جفا سائل نے ستم جنوں مائل
- کی اس نے گرم سینۂ اہل ہوس میں جا
- کیا خوب تم نے غیر کو بوسہ نہیں دیا
- ہستی کا اعتبار بھی غم نے مٹا دیا
- واحسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ
- گرم فریاد رکھا شکل نہالی نے مجھے
- تب اماں ہجر میں دی برد لیالی نے مجھے
- لے لیا مجھ سے مری ہمت عالی نے مجھے
- کر دیا کافر ان اصنام خیالی نے مجھے
- عجب آرام دیا بے پر و بالی نے مجھے
- نشہ بخشا غضب اس ساغر خالی نے مجھے
- رنگ شہرت نہ دیا تازہ خیالی نے مجھے
- کھو دیا سطوت اسماۓ جلالی نے مجھے
- کیا کس نے جگر داری کا دعویٰ
- شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے
- میں نے جنوں سے کی جو اسدؔ التماس رنگ
- کھینچا ہے عجز حوصلہ نے خط ایاغ کا
- ماہ نے چھوڑ دیا ثور سے جانا باہر
- زہرہ نے ترک کیا حوت سے کرنا تحویل
- بخت ناساز نے چاہا کہ نہ دے مجھ کو اماں
- چرخ کج باز نے چاہا کہ کرے مجھ کو ذلیل
- تم نے مجھ کو جو آبرو بخشی
- میں نے مانا کہ مل گئے پھر کیا
- ہزار شکر کہ سید غلام بابا نے
- اس کتاب طرب نصاب نے جب
- جب کہ سید غلام بابا نے
- کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں
- خدا نے تجھ کو عطا کی ہے گوہر افشانی
- جناب قبلۂ حاجات اس بلا کش نے
- نہ پوچھ اس کی حقیقت حضور والا نے
- عجیب نسخہ نادر لکھا ہے ایک اس نے
- کمال فکر میں دیکھا خرد نے بے آرام
- چاند کا دائرہ لے زہرہ نے گایا سہرا
- جسے کہتے ہیں خوشی اس نے بلائیں لے کر
- جنبش باد سحر نے جو ہلایا سہرا
- مجھے انتعاش غم نے پے عرض حال بخشی
- کس نے دیکھا نفس اہل وفا آتش خیز
- کس نے پایا اثر نالۂ دل ہاے حزیں
- خاکیوں کو جو خدا نے دیے جان و دل و دیں
- کہا کہ چرخ پہ ہم نے گنی ہیں نو گرہیں
- سن اے ندیم برس گانٹھ کے یہ تاگے نے
- عطا کیا ہے خدا نے وہ جاذبہ اس کو
- خدا نے دی ہے وہ غالبؔ کو دستگاہ سخن
- آسماں نے بچھا رکھا تھا دام
- ایک میں کیا کہ سب نے جان لیا
- میں نے مانا کہ تو ہے حلقہ بگوش
- تجھ کو کس نے کہا کہ ہو بدنام
- چرخ نے لی ہے جس سے گردش وام
- آتش و آب و باد و خاک نے لی
- کاتب حکم نے بموجب حکم
- چاہا تھا میں نے تم کو مہ چاردہ کہوں
- دل نے کہا کہ یہ بھی ہے تیرا خیال خام
- جس نے جلا کے راکھ مجھے کردیا تمام
- اس ناز کا فلک نے لیا مجھ سے انتقام
- خدا نے اس کو دیا ایک خوبرو فرزند
- سب نے جانا کہ ہے پری توسن
- جس نے برباد کیا ریشۂ چندیں شب تار
- طوطی سبزہ کہسار نے پیدا منقار
- وحشت فرصت یک جیب کشش نے کھویا
- لا کے ساقی نے صبوحی کے لیے
- کس نے کھولا کب کھلا کیوں کر کھلا
- سمجھا تھا نبی نے ان کو اپنا ہمدم
- بھیجی ہے جو مجھ کو شاہ جمجاہ نے دال
- رقعے کا جواب کیوں نہ بھیجا تم نے
- ثاقب حرکت یہ کی ہے بیجا تم نے
- غالبؔ کا پکا دیا کلیجا تم نے
- بھیجے ہیں جو ارمغاں شہ والا نے
- باغبانوں نے باغ جنت سے
- یا لگا کر خضر نے شاخ نبات
- دل نے سن کر کانپ کر کھا پیچ و تاب
- ناتوائی نے نہ چھوڑا بس کہ پیش از عکس جسم
- میں نے جمنا کا کچھ نہ لکھا حال
- کی تصور نے بہ صحرائے ہوس راہ غلط
- زخم دل تم نے دکھایا ہے کہ جی جانے ہے
- بانسلی نے اور جلاجل جھانجھ ہے
- پایا قادر نامے نے آج اختتام
- جس نے قادر نامہ سارا پڑھ لیا
- کیوں کہا تو نے کہ کہہ دل کا غم اس کے رو برو
- تو نے دیکھا مجھ پہ کیسی بن گئی اے راز دار
- غم نے جب گھیرا تو چاہا ہم نے یوں اے دلنواز
- کی تھی پوری ہم نے جو تدبیر آدھی رہ گئی
- دل نے کی ساری خرابی لے گیا مجھ کو ظفر