نیاز
34 Misre
- نیاز پر فشانی ہو گیا صبر و شکیب آخر
- نیاز پردۂ اظہار خود پرستی ہے
- نیاز جلوہ ریزی طاقت بالیں شکستن ہا
- میرا نیاز و عجز ہے مفت بتاں اسدؔ
- دو جہاں گردش یک سبحۂ اسرار نیاز
- نغمہ ہے محو ساز رہ نشہ ہے بے نیاز رہ
- ہو قبول کم نگاہی تحفۂ اہل نیاز
- نیاز گردش پیمانہ مے روزگار اپنا
- اے اسدؔ بے جا ہے ناز سجدۂ عرض نیاز
- انساں نیاز مند ازل ہے کہ جوں کماں
- عجز و نیاز سے تو نہ آیا وہ راہ پر
- کیا یکسر گداز دل نیاز جوشش حسرت
- بالیدگی نیاز قد جانفزا اسدؔ
- وسعت مشرب نیاز کلفت وحشت اسد
- نیاز گردش پیمانہ مے روزگار اپنا
- حریف مطلب مشکل نہیں فسون نیاز
- اسد کو حسرت عرض نیاز تھی دم قتل
- دل کو نیاز حسرت دیدار کر چکے
- نیاز پر فشانی ہو گیا صبر و شکیب آخر
- عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا
- جیب نیاز عشق نشاں دار ناز ہے
- کیا یک سر گداز دل نیاز جوشش حسرت
- ریزش سجدۂ جبین نیاز
- قبلۂ مقصد نگاہ نیاز
- وسعت مشرب نیاز کلفت وحشت اسدؔ
- میں دور گرد عرض رسوم نیاز ہوں
- گستاخیٔ وصال ہے مشاطۂ نیاز
- پرواز ہا نیاز تماشائے حسن دوست
- ختم کر ایک اشارت میں عبارات نیاز
- غالبؔ عاجز نیاز آگیں
- رنگریز گل و جام دوجہاں ناز و نیاز
- کمی ربط نیاز و خط ناز بسیار
- نیاز عشق خرمن سوز اسباب ہوس بہتر
- جس کے پڑھنے سے ہو راضی بے نیاز