نہیں
571 Misre
- آئی اگر بلا تو جگہ سے ٹلے نہیں
- غالبؔ کچھ اپنی سعی سے کہنا نہیں مجھے
- حیراں ہوں دامن مژہ کیوں جھاڑتا نہیں
- جوں نخل ماتم ابر سے مطلب نہیں مجھے
- ممکن نہیں کہ ہو دل خوباں میں کارگر
- دوست گر کوئی نہیں ہے جو کرے چارہ گری
- یاں جز فسوں نہیں اگر افسانہ چاہیے
- عجب نہیں پئے تحریر حال گریۂ چشم
- اے اسدؔ بیجا نہیں ہے غفلت آرامی تری
- ناتوانی سے نہیں سر در گریبانی اسدؔ
- یہ مرف تابکے نہیں ہے
- واں عزت تخت کئے نہیں ہے
- نہیں کرنے کا ہیں تقریر ادب سے باہر
- سخن کا بندہ ہوں لیکن نہیں مشتاق تحسیں کا
- نہیں ہے خالی آرایش سے بے سامانی عاشق
- نہیں رفتار عمر تیز رو پابند مطلب ہا
- لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی
- حریف جوشش دریا نہیں خودداری ساحل
- ہم نہیں جلتے نفس ہر چند آتشبار ہے
- زلف سے شب درمیاں دادن نہیں ممکن دریغ
- اے دریغا کہ نہیں طبع نزاکت ساماں
- غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
- باوجود یک جہاں ہنگامہ پیدائی نہیں
- نہیں ہے باوجود ضعف سیر بے خودی آساں
- نہیں غیر از نگہ جوں نرگستاں فرش محفل ہا
- بے دماغی حیلہ جوے ترک تنہائی نہیں
- ورنہ کیا موج نفس زنجیر رسوائی نہیں
- حلقۂ زنجیر جز چشم تماشائی نہیں
- جز حیا پیکار سعی بے سروپائی نہیں
- فرصت نشوونما ساز شکیبائی نہیں
- آمد و رفت نفس جز شعلہ پیمائی نہیں
- چیونٹی کے پر سر و برگ خود آرائی نہیں
- جوں صنوبر دل سراپا قامت آرائی نہیں
- مے خانہ جگر میں یہاں خاک بھی نہیں
- نشان بے قرار شوق جز مژگاں نہیں باقی
- گر نہیں پاتا درون خانہ ہر بے گانہ جا
- کچھ نہیں حاصل تعلق میں بغیر از کشمکش
- زندگانی نہیں بیش از نفس چند اسدؔ
- آتی نہیں نیند اے شب تار
- شایستۂ گدائی ہر در نہیں ہوں میں
- بوڑھا ہوا ہوں قابل خدمت نہیں اسدؔ
- خیرات خوار محض ہوں نوکر نہیں ہوں میں
- دل ہی نہیں کہ منت درباں اٹھائیے
- نہیں ہے سر نوشت عشق غیر از بے دماغی ہا
- نہیں ہے کف لب نازک پہ فرط نشہ مے سے
- کوکب بخت بجز روزن پر دور نہیں
- نہیں ہے مزرع الفت میں حاصل غیر پامالی
- نہیں برق و شرر جز وحشت و ضبط تپیدن ہا
- حکم بے تابی نہیں اور آرمیدن منع ہے
- خوں دل میں جو میرے نہیں باقی تو پھر اس کی
- آتی نہیں پنجے میں بس اس کے نظر انگشت
- آتی نہیں پنجہ میں بس اس کے نظر انگشت
- نہیں ہے آہ کو ایماے تیرہ بالیدن
- جس جا کہ پاے سیل بلا درمیاں نہیں
- دیوانگاں کو واں ہوس خانماں نہیں
- برگ حنا مگر مژۂ خوں فشاں نہیں
- اشک سحاب جز بوداع خزاں نہیں
- طاقت حریف سختی خواب گراں نہیں
- یہ گرد وہم جز بسر امتحاں نہیں
- اے آگہی فریب تماشا کہاں نہیں
- اے دل فسردہ طاقت ضبط فغاں نہیں
- شاعری جز ساز درویشی نہیں حاصل نہ پوچھ
- نہیں گرداب جز سرگشتگی ہاے طلب ہرگز
- کوئی آگاہ نہیں باطن ہم دیگر سے
- مشکل عشق ہوں مطلب نہیں آساں میرا
- حریف عرض سوز دل نہیں ہے
- نہیں ہے بازگشت سیل غیر از جانب دریا
- پیدا نہیں ہے اصل تگ و تاز جستجو
- ہمیں حاصل نہیں بے حاصلی سے
- نہیں ہے رشتۂ الفت کو اندیشہ گستن کا
- گو حوصلہ پا مرد تغافل نہیں لیکن
- جلوہ نہیں ہے درد سر آئنہ صندلی نہ کر
- یک نشو و نما جا نہیں جولان ہوس کو
- وہ نہیں ہم کہ چلے جائیں حرم کو اے شیخ
- حسن میں حور سے بڑھ کر نہیں ہونے کے کبھی
- کوئی دنیا میں مگر باغ نہیں ہے واعظ
- غفلت دیوانہ جز تمہید آگاہی نہیں
- بے تماشا نہیں جمعیت چشم بسمل
- مجھے راہ سخن میں خوف گمراہی نہیں غالبؔ
- ہاتھ آیا نہیں یک دانۂ انگور ہنوز
- نظر آتی نہیں صبح شب دیجور ہنوز
- نہیں جز درد تسکین نکوہش ہاے بیدر داں
- آج کیوں پروا نہیں اپنے اسیروں کی تجھے
- بیم رقیب سے نہیں کرتے وداع ہوش
- نہیں ہے بے سبب قطرے کو شکل گوہر افسردن
- نہیں ممکن بجولاں ہاے گردوں دخل پے بردن
- نہیں ہے حوصلہ پامرد کثرت تکلیف
- نہیں ریزش عرق کی اب اسے ذوبان اعضا ہے
- ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں
- جو چاہئے نہیں وہ مری قدر و منزلت
- ہرگز کسی کے دل میں نہیں ہے مری جگہ
- رفتار نہیں بیشتر از لغزش پا ہیچ
- ہستی نہیں جز بستن پیمان وفا ہیچ
- ہستی میں نہیں شوخی ایجاد صدا ہیچ
- آہنگ اسدؔ میں نہیں جز نغمۂ بیدل
- پامردیک انداز نہیں قامت ہستی
- طاقت بساط دستگہ یک قدم نہیں
- دیکھا نہیں ہے ہم نے بعشق بتاں اسدؔ
- جلوہ مایوس نہیں دل نگرانی غافل
- آج کیوں پروا نہیں اپنے اسیروں کی تجھے
- نہیں شاہان حسن کا دستور
- وحشت درد بیکسی بے اثر اس قدر نہیں
- نغمۂ بے دلاں اسدؔ ساز فسانگی نہیں
- مطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوے
- ہجوم ریزش خوں کے سبب رنگ اڑ نہیں سکتا
- نہیں ہے مردن صاحب دلاں جز کسب جمعیت
- تنک ظرفوں کا رتبہ جہد سے برتر نہیں ہوتا
- حباب مے بصد بالیدنی ساغر نہیں ہوتا
- کہ تار جادۂ رہ رشتۂ گوہر نہیں ہوتا
- کہ کم از سرمہ اس کا مشت خاکستر نہیں ہوتا
- بہ از چاک گریباں گلستاں کا در نہیں ہوتا
- لب خشک صدف آب گہر سے تر نہیں ہوتا
- کہ جس کے در پہ غنچہ شکل قفل زر نہیں ہوتا
- صدف بن قطرۂ نیساں اسدؔ گوہر نہیں ہوتا
- ویرانے سے جز آمد و رفت نفس نہیں
- نقصاں نہیں جنوں سے جو سودا کرے کوئی
- یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
- تو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
- خوانا نہیں ہے خط رقم اضطرار کا
- کثرت جوش سویدا سے نہیں تل کی جگہ
- لائق نہیں رہے ہیں غم روزگار کے
- ظاہرا سر پنجۂ افتادگاں گیرا نہیں
- ورنہ کیا حسرت کش دامن پہ نقش پا نہیں
- ہے زمیں از بس کہ سنگیں جادہ بھی پیدا نہیں
- زینت یک پیرہن جوں دامن صحرا نہیں
- اشک بعد ضبط غیر از پنبۂ مینا نہیں
- گرد ساحل سنگ راہ جوشش دریا نہیں
- آگہی غافل کہ ایک امروز بے فردا نہیں
- بسمل اس تیغ دو دستی کا نہیں بچتا اسدؔ
- عافیت بیزار ذوق کعبتین اچھا نہیں
- ضبط سے مطلب بجز وارستگی دیگر نہیں
- دامن تمثال آب آئنہ سے تر نہیں
- عزلت آباد صدف میں قیمت گوہر نہیں
- لخت لخت شیشۂ بشکستہ جز نشتر نہیں
- مہ حریف نازش ہم چشمی ساغر نہیں
- عاجزی سے ظاہرا رتبہ کوئی برتر نہیں
- یاں صریر خامہ غیر از اصطکاک در نہیں
- عشق کا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں
- تاب عرض تشنگی اے ساقی کوثر نہیں
- نہیں ہے ضبط جز مشاطگی ہاے غم آرائی
- نہیں محسوس دود مشعل بزم سیہ پوشاں
- چاہے گر جنت جز آدم وارث آدم نہیں
- اس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا
- واماندۂ ذوق طرب وصل نہیں ہوں
- کون ہے جو نہیں ہے حاجت مند
- اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے
- ضد کی ہے اور بات مگر خو بری نہیں
- خوں دل میں جو میرے نہیں باقی تو عجب کیا
- آتی نہیں پنجہ میں بس اس کے نظر انگشت
- آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
- طاقت بیداد انتظار نہیں ہے
- نشہ بہ اندازۂ خمار نہیں ہے
- ہائے کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے
- خاک میں عشاق کی غبار نہیں ہے
- غیر گل آئینۂ بہار نہیں ہے
- وائے اگر عہد استوار نہیں ہے
- تیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے
- آبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیں
- ہے گریباں ننگ پیراہن جو دامن میں نہیں
- ضعف سے اے گریہ کچھ باقی مرے تن میں نہیں
- رنگ ہو کر اڑ گیا جو خوں کہ دامن میں نہیں
- ذرے اس کے گھر کی دیواروں کے روزن میں نہیں
- انجمن بے شمع ہے گر برق خرمن میں نہیں
- غیر سمجھا ہے کہ لذت زخم سوزن میں نہیں
- جلوۂ گل کے سوا گرد اپنے مدفن میں نہیں
- خوں بھی ذوق درد سے فارغ مرے تن میں نہیں
- موج مے کی آج رگ مینا کی گردن میں نہیں
- قد کے جھکنے کی بھی گنجائش مرے تن میں نہیں
- بے تکلف ہوں وہ مشت خس کہ گلخن میں نہیں
- پنبہ نور صبح سے کم جس کے روزن میں نہیں
- چشم بند خلق جز تمثال خود بینی نہیں
- اس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا
- یک نظر بیش نہیں فرصت ہستی غافل
- ہم نہیں جلتے نفس ہر چند آتش بار ہے
- زلف سے شب درمیاں دادن نہیں ممکن دریغ
- جز نام نہیں صورت عالم مجھے منظور
- جز وہم نہیں ہستیٔ اشیا مرے آگے
- خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے
- گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
- منہ نہ کھلنے پر ہے وہ عالم کہ دیکھا ہی نہیں
- آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
- نہیں ہے سایہ کہ سن کر نوید مقدم یار
- نہ کہہ کسی سے کہ غالبؔ نہیں زمانے میں
- بیم رقیب سے نہیں کرتے وداع ہوش
- سن لیتے ہیں گو ذکر ہمارا نہیں کرتے
- وہ سن کے بلا لیں یہ اجارا نہیں کرتے
- تجھ سے تو کچھ کلام نہیں لیکن اے ندیم
- لازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریں
- نشان بے قرار شوق جز مژگاں نہیں باقی
- بچتے نہیں مواخذۂ روز حشر سے
- مانا کہ تم بشر نہیں خورشید و ماہ ہو
- غالبؔ بھی گر نہ ہو تو کچھ ایسا ضرر نہیں
- آشنا غالبؔ نہیں ہیں درد دل کے آشنا
- افسردگی نہیں طرب انشائے التفات
- تو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
- نقصاں نہیں جنوں سے جو سودا کرے کوئی
- یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
- یاں تو کوئی سنتا نہیں فریاد کسو کی
- یوں ہی دکھ کسی کو دینا نہیں خوب ورنہ کہتا
- کہ زبان سرمہ آلود نہیں تیغ اصفہانی
- نظرے سوئے کہستاں نہیں غیر شیشہ ساماں
- نہیں شاہراہ اوہام بجز آنسو رسیدن
- تیغ ادا نہیں ہے پابند بے نیامی
- طرف سخن نہیں ہے مجھ سے خدا نہ کردہ
- حریف مطلب مشکل نہیں فسون نیاز
- در خور عرض نہیں جوہر بیداد کو جا
- غم سے مرتا ہوں کہ اتنا نہیں دنیا میں کوئی
- بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ
- نہیں کچھ سبحہ و زنار کے پھندے میں گیرائی
- کیا جانتا نہیں ہوں تمہاری کمر کو میں
- پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ بر کو میں
- دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں
- خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں
- انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں
- لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں
- آخر گناہ گار ہوں کافر نہیں ہوں میں
- کس واسطے عزیز نہیں جانتے مجھے
- لعل و زمرد و زر و گوہر نہیں ہوں میں
- رتبے میں مہر و ماہ سے کم تر نہیں ہوں میں
- کیا آسمان کے بھی برابر نہیں ہوں میں
- وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں
- کم نہیں نازش ہم نامی چشم خوباں
- عمر کو بھی تو نہیں ہے پائیداری ہائے ہائے
- دل میں ذوق وصل و یاد یار تک باقی نہیں
- دل نہیں تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہار
- جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
- جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
- میں نہیں جانتا دعا کیا ہے
- میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ
- دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں
- ہاں وہ نہیں خدا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی
- کیا شمع کے نہیں ہیں ہوا خواہ بزم میں
- تمہیں نہیں ہے سر رشتۂ وفا کا خیال
- کہا ہے کس نے کہ غالبؔ برا نہیں لیکن
- دیوانگی سے دوش پہ زنار بھی نہیں
- یعنی ہمارے جیب میں اک تار بھی نہیں
- دیکھا تو ہم میں طاقت دیدار بھی نہیں
- ملنا ترا اگر نہیں آساں تو سہل ہے
- دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں
- بے عشق عمر کٹ نہیں سکتی ہے اور یاں
- طاقت بقدر لذت آزار بھی نہیں
- صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں
- یاں دل میں ضعف سے ہوس یار بھی نہیں
- آخر نوائے مرغ گرفتار بھی نہیں
- حالانکہ طاقت خلش خار بھی نہیں
- لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
- دیوانہ گر نہیں ہے تو ہشیار بھی نہیں
- ذکر میرا بہ بدی بھی اسے منظور نہیں
- غیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دور نہیں
- مژدۂ قتل مقدر ہے جو مذکور نہیں
- لوگ کہتے ہیں کہ ہے پر ہمیں منظور نہیں
- ہم کو تقلید تنک ظرفی منصور نہیں
- عشق پر عربدہ کی گوں تن رنجور نہیں
- کس رعونت سے وہ کہتے ہیں کہ ہم حور نہیں
- تو تغافل میں کسی رنگ سے معذور نہیں
- وائے وہ بادہ کہ افشردۂ انگور نہیں
- میرے دعوے پہ یہ حجت ہے کہ مشہور نہیں
- محو نسبت ہیں تکلف ہمیں منظور نہیں
- بے دماغی شکوہ سنج رشک ہم دیگر نہیں
- جوہر آئینہ جز رمز سر مژگاں نہیں
- بھوکے نہیں ہیں سیر گلستاں کے ہم ولے
- نہیں گر سر و برگ ادراک معنی
- نہیں گر بہ کام دل خستہ گردوں
- اس عمل میں عیش کی لذت نہیں ملتی اسدؔ
- بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کف قاتل میں ہے
- اٹھ نہیں سکتا ہمارا جو قدم منزل میں ہے
- نہیں معلوم کس کس کا لہو پانی ہوا ہوگا
- مجھے راہ سخن میں خوف گم راہی نہیں غالب
- مشکل عشق ہوں مطلب نہیں آساں میرا
- لیتا نہیں مرے دل آوارہ کی خبر
- لائق نہیں رہے ہیں غم روزگار کے
- کوئی نہیں تیرا تو مری جان خدا ہے
- گو سمجھتا نہیں پر حسن تلافی دیکھو
- دل ہی نہیں کہ منت درباں اٹھائیے
- نہیں ہے نغمے سے خالی خمیدن ہائے چنگ آخر
- عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- ہوں شمع کشتہ در خور محفل نہیں رہا
- شایان دست و بازوئے قاتل نہیں رہا
- یاں امتیاز ناقص و کامل نہیں رہا
- غیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا
- لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
- حاصل سوائے حسرت حاصل نہیں رہا
- بیداد عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسدؔ
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- آئینہ آہ میرے مقابل نہیں رہا
- یاں عرصۂ طپیدن بسمل نہیں رہا
- جز تار اشک جادۂ منزل نہیں رہا
- دنیا میں کوئی عقدۂ مشکل نہیں رہا
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- گر نہیں نکہت گل کو ترے کوچے کی ہوس
- عشق تاثیر سے نومید نہیں
- جاں سپاری شجر بید نہیں
- جام مے خاتم جمشید نہیں
- ذرہ بے پرتو خورشید نہیں
- ورنہ مر جانے میں کچھ بھید نہیں
- غم محرومئ جاوید نہیں
- ہم کو جینے کی بھی امید نہیں
- بادہ غالبؔ عرق بید نہیں
- عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
- کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی
- اے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی
- ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے
- آگہی گر نہیں غفلت ہی سہی
- گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی
- بے شانۂ صبا نہیں طرہ گیاہ کا
- لکد کوب حوادث کا تحمل کر نہیں سکتی
- غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
- باوجود یک جہاں ہنگامہ پیدائی نہیں
- انکار نہیں اور مجھے ابرام بہت ہے
- خوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگ
- مے خانۂ جگر میں یہاں خاک بھی نہیں
- فریاد کی کوئی لے نہیں ہے
- نالہ پابند نے نہیں ہے
- گر باغ گدائے مے نہیں ہے
- پر تجھ سی کوئی شئے نہیں ہے
- ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے
- اردی جو نہ ہو تو دے نہیں ہے
- مے ہے یہ مگس کی قے نہیں ہے
- آخر تو کیا ہے اے نہیں ہے
- یہ مصرف تابکے نہیں ہے
- واں عزت تخت کے نہیں ہے
- نہیں گر ہمدمی آساں نہ ہو یہ رشک کیا کم ہے
- نہیں دیکھا شناور جوئے خوں میں تیرے توسن کو
- سخن کیا کہہ نہیں سکتے کہ جویا ہوں جواہر کے
- جگر کیا ہم نہیں رکھتے کہ کھودیں جا کے معدن کو
- مرے شاہ سلیماں جاہ سے نسبت نہیں غالبؔ
- مانا کہ ہمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور
- نہیں اقلیم الفت میں کوئی طومار ناز ایسا
- لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی
- حریف جوشش دریا نہیں خودداری ساحل
- مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں
- ایک چکر ہے مرے پانو میں زنجیر نہیں
- جادہ غیر از نگہ دیدۂ تصویر نہیں
- جادۂ راہ وفا جز دم شمشیر نہیں
- خوش ہوں گر نالہ زبونی کش تاثیر نہیں
- لذت سنگ بہ اندازۂ تقریر نہیں
- کوئی تقصیر بجز خجلت تقصیر نہیں
- آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میرؔ نہیں
- جس کا دیوان کم از گلشن کشمیر نہیں
- کہ پری زاد نظر قابل تسخیر نہیں
- تیرا ترکش ہی کچھ آبستنیٔ تیر نہیں
- محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا
- ہجوم ریزش خوں کے سبب رنگ اڑ نہیں سکتا
- مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں
- سواے خون جگر سو جگر میں خاک نہیں
- وگرنہ تاب و تواں بال و پر میں خاک نہیں
- کہ غیر جلوۂ گل رہ گزر میں خاک نہیں
- اثر مرے نفس بے اثر میں خاک نہیں
- شراب خانہ کے دیوار و در میں خاک نہیں
- سواے حسرت تعمیر گھر میں خاک نہیں
- کھلا کہ فائدہ عرض ہنر میں خاک نہیں
- جز زخم تیغ ناز نہیں دل میں آرزو
- جوش جنوں سے کچھ نظر آتا نہیں اسدؔ
- گویا ابھی سنی نہیں آواز صور کی
- گو واں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں
- میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں
- بات کچھ سر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں
- زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو ستم گر ورنہ
- شعلۂ دل تو نہیں ہے کہ بجھا بھی نہ سکوں
- موت کچھ تم تو نہیں ہو کہ بلا بھی نہ سکوں
- نالہ جز حسن طلب اے ستم ایجاد نہیں
- ہے تقاضائے جفا شکوۂ بیداد نہیں
- ہم کو تسلیم نکو نامی فرہاد نہیں
- کم نہیں وہ بھی خرابی میں پہ وسعت معلوم
- دشت میں ہے مجھے وہ عیش کہ گھر یاد نہیں
- لطمۂ موج کم از سیلئ استاد نہیں
- جانتا ہے کہ ہمیں طاقت فریاد نہیں
- گر چراغان سر رہ گزر باد نہیں
- مژدہ اے مرغ کہ گلزار میں صیاد نہیں
- دی ہے جائے دہن اس کو دم ایجاد نہیں
- کم نہیں جلوہ گری میں ترے کوچے سے بہشت
- یہی نقشہ ہے ولے اس قدر آباد نہیں
- تم کو بے مہری یاران وطن یاد نہیں
- اگر شراب نہیں انتظار ساغر کھینچ
- نہ کہہ کہ طاقت رسوائی وصال نہیں
- جو مزہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا
- فلک نہ دور رکھ اس سے مجھے کہ میں ہی نہیں
- بہ قدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزل
- عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ
- نہیں برق و شرر جز وحشت ضبط تپیدن ہا
- نہیں دل میں مرے وہ قطرۂ خوں
- گر نہیں شمع سیہ خانۂ لیلی نہ سہی
- گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی
- نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں
- شب فراق سے روز جزا زیاد نہیں
- بلا سے آج اگر دن کو ابر و باد نہیں
- جو جاؤں واں سے کہیں کو تو خیرباد نہیں
- کہ آج بزم میں کچھ فتنہ و فساد نہیں
- گدائے کوچۂ مے خانہ نا مراد نہیں
- دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیں
- یہ کیا کہ تم کہو اور وہ کہیں کہ یاد نہیں
- نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے در خور مرے تن میں
- وارستگی بہانۂ بیگانگی نہیں
- اس فتنہ خو کے در سے اب اٹھتے نہیں اسدؔ
- اپنے کو دیکھتا نہیں ذوق ستم کو دیکھ
- لکھنؤ آنے كا باعث نہیں کھلتا یعنی
- مقطع سلسلۂ شوق نہیں ہے یہ شہر
- طاقت رنج سفر بھی نہیں پاتے اتنی
- پیالہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تو دے
- ایسا آساں نہیں لہو رونا
- یک الف بیش نہیں صیقل آئینہ ہنوز
- اضطراب عمر بے مطلب نہیں آخر کہ ہے
- بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ
- کندھا بھی کہاروں کو بدلنے نہیں دیتے
- دل تو ہو اچھا نہیں ہے گر دماغ
- یہ کہہ سکتے ہو ہم دل میں نہیں ہیں پر یہ بتلاؤ
- غالبؔ کچھ اپنی سعی سے لہنا نہیں مجھے
- آئی اگر بلا تو جگہ سے ٹلے نہیں
- آرایش جمال سے فارغ نہیں ہنوز
- کوئی امید بر نہیں آتی
- کوئی صورت نظر نہیں آتی
- نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
- اب کسی بات پر نہیں آتی
- پر طبیعت ادھر نہیں آتی
- ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
- میری آواز گر نہیں آتی
- داغ دل گر نظر نہیں آتا
- بو بھی اے چارہ گر نہیں آتی
- کچھ ہماری خبر نہیں آتی
- موت آتی ہے پر نہیں آتی
- شرم تم کو مگر نہیں آتی
- آنا ہی سمجھ میں مری آتا نہیں گو آئے
- دیکھا کہ وہ ملتا نہیں اپنے ہی کو کھو آئے
- اپنا نہیں یہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیں
- اس در پہ نہیں بار تو کعبہ ہی کو ہو آئے
- حال دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنی
- نہیں ذریعۂ راحت جراحت پیکاں
- نہیں نگار کو الفت نہ ہو نگار تو ہے
- نہیں بہار کو فرصت نہ ہو بہار تو ہے
- کیا خوب تم نے غیر کو بوسہ نہیں دیا
- کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز
- مجھے دماغ نہیں خندہ ہائے بے جا کا
- مجھے جنوں نہیں غالبؔ ولے بقول حضور
- جی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے وگرنہ ہم
- چلتا نہیں ہے دشنہ و خنجر کہے بغیر
- بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
- سنتا نہیں ہوں بات مکرر کہے بغیر
- رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
- محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
- ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے
- مرتے ہیں ولے ان کی تمنا نہیں کرتے
- ظاہر كا یے پردہ ہے کہ پردہ نہیں کرتے
- غالبؔ کو برا کہتے ہیں اچھا نہیں کرتے
- دھول دھپا اس سراپا ناز کا شیوہ نہیں
- ہم پر جفا سے ترک وفا کا گماں نہیں
- اک چھیڑ ہے وگرنہ مراد امتحاں نہیں
- پرسش ہے اور پاے سخن درمیاں نہیں
- نا مہرباں نہیں ہے اگر مہرباں نہیں
- بوسہ نہیں نہ دیجیے دشنام ہی سہی
- آخر زباں تو رکھتے ہو تم گر دہاں نہیں
- ہر چند پشت گرمی تاب و تواں نہیں
- لب پردہ سنج زمزمۂ الاماں نہیں
- دل میں چھری چبھو مژہ گر خونچکاں نہیں
- ہے عار دل نفس اگر آذر فشاں نہیں
- نقصاں نہیں جنوں میں بلا سے ہو گھر خراب
- سو گز زمیں کے بدلے بیاباں گراں نہیں
- گویا جبیں پہ سجدۂ بت کا نشاں نہیں
- روح القدس اگرچہ مرا ہم زباں نہیں
- غالبؔ کو جانتا ہے کہ وہ نیم جاں نہیں
- جس جا کہ پائے سیل بلا درمیاں نہیں
- دیوانگاں کو واں ہوس خانماں نہیں
- اے آگہی فریب تماشا کہاں نہیں
- برگ حنا مگر مژۂ خوں فشاں نہیں
- اشک سحاب جز بہ وداع خزاں نہیں
- طاقت حریف سختیٔ خواب گراں نہیں
- یہ گرد وہم جز بسر امتحاں نہیں
- اے دل فسردہ طاقت ضبط فغاں نہیں
- عشق كا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں
- ضبط سے مطلب بہ جز وارستگی دیگر نہیں
- دامن تمثال آب آئنہ سے تر نہیں
- عزلت آباد صدف میں قیمت گوہر نہیں
- لخت لخت شیشۂ بشکستہ جز نشتر نہیں
- مہ حریف نازش ہم چشمیٔ ساغر نہیں
- عاجزی سے ظاہراً رتبہ کوئی برتر نہیں
- یاں صریر خامہ غیر از اصطکاک در نہیں
- طاقت لب تشنگی اے ساقیٔ کوثر نہیں
- دماغ عطر پیراہن نہیں ہے
- پیشہ میں عیب نہیں رکھیے نہ فرہاد کو نام
- ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ
- مطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوے
- پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
- یاں جز فسوں نہیں اگر افسانہ چاہیے
- یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا
- تازہ نہیں ہے نشۂ فکر سخن مجھے
- بگڑی ہے بہت بات بنائے نہیں بنتی
- اب گھر کو بغیر آگ لگائے نہیں بنتی
- تاب سخن و طاقت غوغا نہیں ہم کو
- ماتم میں شہ دیں کے ہیں سودا نہیں ہم کو
- گھر پھونکنے میں اپنے محابا نہیں ہم کو
- گر چرخ بھی جل جائے تو پروا نہیں ہم کو
- اب صاعقہ و مہر میں کچھ فرق نہیں ہے
- گرتا نہیں اس رو سے کہو برق نہیں ہے
- تپش دل نہیں بے رابطۂ خوف عظیم
- کشش دم نہیں بے ضابطۂ جر ثقیل
- پیر و مرشد اگرچہ مجھ کو نہیں
- کچھ خریدا نہیں ہے اب کے سال
- کچھ بنایا نہیں ہے اب کی بار
- آج مجھ سا نہیں زمانے میں
- شاعری سے نہیں مجھے سروکار
- دربار دار لوگ بہم آشنا نہیں
- اس سے ہے یہ مراد کہ ہم آشنا نہیں
- بھاتی نہیں ہے اب مجھے کوئی نوشت خواند
- اس طرف کو نہیں جاتے ہیں جو جاتے ہیں تو کم
- اپنا بیان حسن طبیعت نہیں مجھے
- کچھ شاعری ذریعۂ عزت نہیں مجھے
- ہرگز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے
- مانا کہ جاہ و منصب و ثروت نہیں مجھے
- یہ تاب یہ مجال یہ طاقت نہیں مجھے
- سوگند اور گواہ کی حاجت نہیں مجھے
- جز انبساط خاطر حضرت نہیں مجھے
- دیکھا کہ چارہ غیر اطاعت نہیں مجھے
- مقصود اس سے قطع محبت نہیں مجھے
- سودا نہیں جنوں نہیں وحشت نہیں مجھے
- قسمت بری سہی پہ طبیعت بری نہیں
- ہے شکر کی جگہ کہ شکایت نہیں مجھے
- کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے
- فقط ہزار برس پر کچھ انحصار نہیں
- نشاں باقی نہیں ہے سلطنت کا
- نہیں اس کا جواب عالم میں
- نہیں ایسی کتاب عالم میں
- کسی کو یاد بھی لقمان کا نہیں ہے نام
- نہیں کتاب ہے اک منبع نکات بدیع
- نہیں کتاب ہے اک معدن جواہر کام
- تار ریشم کا نہیں ہے یہ رگ ابر بہار
- ہم سخن فہم ہیں غالبؔ کے طرفدار نہیں
- کہ زبان سرمہ آلود نہیں تیغ اصفہانی
- نظرے سوے کہستاں نہیں غیر شیشہ ساماں
- نہیں شاہراہ اوہام بجز آں سوے سیدن
- دہر جز جلوۂ یکتائی معشوق نہیں
- یاس پیمانہ کش گریۂ مستانہ نہیں
- نامہ عنوان بیان دل آزردہ نہیں
- رنج تعظیم مسیحا نہیں اٹھتا مجھ سے
- فکر کو حوصلۂ فرصت ادراک نہیں
- کہ سوا تیرے کوئی اس کا خریدار نہیں
- کہ چھوڑتا ہی نہیں رشتہ زینہار گرہ
- کہاں مجال سخن سانس لے نہیں سکتا
- غالبؔ اس کا مگر نہیں ہے غلام
- تو نہیں جانتا تو مجھ سے سن
- ملک و سپہ نہ ہو تو نہ ہو کچھ ضرر نہیں
- امر جدید کا تو نہیں ہے مجھے سوال
- چاہیں اگر حضور تو مشکل نہیں یہ کام
- مہ و سال اشرف ہفتہ بعد نہیں
- کہ جہاں گدیہ گر کا نام نہیں
- مدعا عرض فن شعر نہیں
- مدح گستر نہیں دعاگو ہے
- ساز یک ذرہ نہیں فیض چمن سے بے کار
- یہ مئے تند نہیں موج خرام اظہار
- پر یار کے آگے بول سکتے ہی نہیں
- واللہ کہ شب کو نیند آتی ہی نہیں
- ممکن نہیں یک زبان و یک دل ہونا
- کہتے ہیں کہ اب وہ مردم آزار نہیں
- عشاق کی پرسش سے اسے عار نہیں
- تکرار روا نہیں تو تجدید سہی
- غالبؔ وہ مسلمان نہیں ہے زنہار
- کفیل بحشش امت ہے بن نہیں پڑتی
- غلط نہیں ہے کہ خونیں نوا کہیں اس کو
- یہ نہیں ہیں گے کسو کے یار غار
- دل تو ہو اچھا نہیں ہے گر دماغ
- بادہ غالبؔ عرق بید نہیں
- میں بھولا نہیں تجھ کو اے میری جاں
- محو نسبت ہیں تکلف ہمیں منظور نہیں
- کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کیا ہوتا ہے
- یاد آیا جو وہ کہنا کہ نہیں واہ غلط
- شعر کے پڑھنے میں کچھ حاصل نہیں
- مانتا لیکن ہمارا دل نہیں
- ہے وہی انسان جو جاہل نہیں
- آج ہنستے آپ جو کھل کھل نہیں
- ایسے پڑھنے کا تو میں قائل نہیں
- اس کو آمد نامہ کچھ مشکل نہیں
- کچھ نہیں کہتا کسی سے سن رہا ہوں سب کی بات