نہ
818 Misre
- رونے نے طاقت اتنی نہ چھوڑی کہ ایک بار
- چھوڑے نہ چشم میں تپش دل نشان اشک
- کعبے میں جارہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیں
- طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگ
- ہوں منحرف نہ کیوں رہ و رسم ثواب سے
- خرمن جلے اگر نہ بلخ کھائے کشت کو
- جز قیس اور کوئی نہ آیا بروے کار
- جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا
- تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسدؔ
- بے چشم دل نہ کر ہوس سیر لالہ زار
- مضمون وصل ہاتھ نہ آیا مگر اسے
- عہدے سے مدح ناز کے باہر نہ آسکا
- ظالم مرے گماں سے مجھے منفعل نہ چاہ
- ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بے وفا کہوں
- رنج طاقت سے سوا ہو تو نہ پیٹوں کیوں کر
- نہ ملے داد مگر روز جزا ہے تو سہی
- نہ سہی لیک تمناے دوا ہے تو سہی
- نہ سہی ہم سے پر اس بت میں وفا ہے تو سہی
- کچھ نہ کچھ روز ازل تم نے لکھا ہے تو سہی
- حسرت کشوں کو ساغر و مینا نہ چاہیے
- سر شک چشم اسدؔ کیوں نہ اس میں گوہر ہو
- انجام شمار غم نہ پوچھو
- اپنا احوال دل زار کہوں یا نہ کہوں
- ہے حیا مانع اظہار کہوں یا نہ کہوں
- میں بھی ہوں محرم اسرار کہوں یا نہ کہوں
- اپنی ہستی سے ہوں بیزار کہوں یا نہ کہوں
- جب نہ پاؤں کوئی غم خوار کہوں یا نہ کہوں
- ہوں اک آفت میں گرفتار کہوں یا نہ کہوں
- گوش ہیں در پس دیوار کہوں یا نہ کہوں
- آپ سے وہ مرا احوال نہ پوچھے تو اسدؔ
- حسب حال اپنے پھر اشعار کہوں یا نہ کہوں
- وگر نہ خانۂ آئینہ کی فضا معلوم
- وگر نہ دلبری وعدۂ وفا معلوم
- عزیزو ذکر وصل غیر سے مجھ کو نہ بہلاؤ
- اس کا یہ حال کہ کوئی نہ ادا سنج ملا
- نفس ہو نہ معزول شعلہ در و دن
- نہ ذوق گریباں نہ پرواے داماں
- نہ سووے آبلوں میں گر سر شک دیدۂ نم سے
- اسدؔ پاس تمنا سے نہ رکھ امید آزادی
- وگر نہ خاتم دست سلیماں فلس ماہی ہے
- ہوا نہ مجھ سے بجز درد حاصل صیاد
- نہ پوچھ حال شب و روز ہجر کا غالبؔ
- تبسم برگ گل کو بخیہ دامن نہ ہوجاوے
- کہ رشتہ تار اشک دیدۂ سوزن نہ ہوجاوے
- سفیدی آئینے کی پنبۂ روزن نہ ہوجاوے
- وگر نہ کیجیے جو ذرہ عریاں ہم نمایاں ہیں
- نہ انشا معنی مضموں نہ املا صورت موزوں
- وگر نہ مثل خار خشک مردود گلستاں ہیں
- نہ نکلے خشت مثل استنحواں بیرون قالب ہا
- نہ باندھے شعلۂ جوالہ غیر از گرد باد آتش
- نہ ہو بالیدہ غیر از جنبش دامان باد آتش
- نہ پوچھ نسخۂ مرہم جراحت دل کا
- وگر نہ بحر میں ہر قطرہ چشم پر نم ہے
- اگر نہ ہووے رگ خواب صرف شیرازہ
- کیوں نہ تیغ یار کو مشاطہ الفت کہوں
- جی جلے ذوق فنا کی ناتمامی پر نہ کیوں
- کیوں نہ ہووے آج کے دن بیکسی کی روح شاد
- ہم نے سو زخم جگر پر بھی زباں پیدا نہ کی
- وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی نہ پوچھ
- بے درد سر بہ سجدۂ الفت فرو نہ ہو
- جوں شمع غوطہ داغ میں کھا گر وضو نہ ہو
- آئینہ ایسے طاق پہ گم کر کہ تو نہ ہو
- یارب بیان شانہ کش گفتگو نہ ہو
- ہستی عدم ہے آئینہ گر رو برو نہ ہو
- نشتر بہ مغز پنبۂ مینا فرو نہ ہو
- یارب کہ خار پیرہن آرزو نہ ہو
- صبح بہار بھی قفس رنگ و بو نہ ہو
- بیدل نہ ناز وحشت جیب دریدہ کھینچ
- بیداد انتظار کی طاقت نہ لا سکی
- وہ سبزہ سنگ پر نہ اگا کوہکن ہنوز
- فارغ مجھے نہ جان کہ مانند صبح و مہر
- بیرون دل نہ تھی تپش انجمن ہنوز
- ہووے نہ غبار دل تسلیم زمیں گیراں
- مغرور نہ ہو ناداں سر تا سرگیتی ہے
- جامہ زیبوں کے سدا ہیں نہ داماں گل و صبح
- چشم شبنم میں نہ ٹوٹا مژہ خار ہنوز
- دامان دل بہ وہم تماشا نہ کھینچیے
- اے مدعی خجالت بے جا نہ کھینچیے
- ناز بہار جزبہ تقاضا نہ کھینچیے
- پاے نظر بہ دامن صحرا نہ کھینچیے
- درد طلب بہ آبلۂ پا نہ کھینچیے
- گر صفحے کو نہ دیجیے پرواز سادگی
- جز خط عجز نقش تمنا نہ کھینچیے
- صورت بہ کارخانۂ دیبا نہ کھینچیے
- دست ہوس بہ گردن مینا نہ کھینچیے
- غفلت افسردگی تہمت تمکیں نہ ہو
- لکھ سکا میں نہ اسے شکوۂ پیماں شکنی
- عمر بھر ہوش نہ یک جا ہوے میرے کہ اسدؔ
- بجائے خود وگر نہ سرد بھی میناے خالی ہے
- اے خانماں خراب نہ احساں اٹھائیے
- یا میرے زخم رشک کو رسوا نہ کیجیے
- کیوں نہ ہو چشم بتاں محو تغافل کیوں نہ ہو
- تپش تو کیا نہ ہوئی مشق پرفشانی بھی
- جب کہ نقش مدعا ہووے نہ جز موج سراب
- کشود غنچۂ خاطر عجب نہ رکھ غافل
- اسدؔ کو زیست تھی مشکل اگر نہ سن لیتا
- برنگ سایہ سروکار انتظار نہ پوچھ
- جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی
- گریاس سر نہ کھینچے تنگی عجب فضا ہے
- ہے شرر موہوم اگر رکھتا نہ ہووے سنگ دل
- ناحق کی حجتیں نہ مری جاں نکالیے
- حاصل دلبستگی ہے عمر کو نہ اور بس
- کیوں نہ طوطی طبیعت نغمہ پیرائی کرے
- آیا نہ بیابان طلب گام زباں تک
- تبخالۂ لب ہو نہ سکا آبلۂ پا
- نہ لبوے گر خس جوہر طراوت سبزۂ خط سے
- نہ نکلے شمع کے پاسے نکالے گر نہ خار آتش
- اگر رکھتی نہ خاکستر نشینی کا غبار آتش
- وگر نہ خواب کی مضمر ہیں افسانے میں تعبیریں
- کافی ہے نشانی تری چھلے کا نہ دینا
- تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت
- اے ہوس عرض بساط ناز مشتاقی نہ مانگ
- مرگ سے وحشت نہ کر راہ عدم پیمودہ ہے
- وگر نہ ہے خم تسلیم سے کماں پیدا
- کرنے نہ پائے ضعف سے شور جنوں اسدؔ
- جوش دل ہے مجھ سے حسن فطرت بیدل نہ پوچھ
- قطرے سے میخانۂ دریاے بے ساحل نہ پوچھ
- لذت عرض کشاد عقدۂ مشکل نہ پوچھ
- اے دماغ نارسا خم خانۂ منزل نہ پوچھ
- شمع سے جز عرض افسون گداز دل نہ پوچھ
- یاں سراغ عافیت جز دیدۂ بسمل نہ پوچھ
- عیش کر غافل حجاب نشہ محفل نہ پوچھ
- شاعری جز ساز درویشی نہیں حاصل نہ پوچھ
- اچھا اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج
- دل آگاہ تسکیں خیز بیدردی نہ ہو یارب
- میری قسمت کا نہ ایک آدھ گریباں نکلا
- زخم نے داد نہ دی تنگی دل کی یارب
- آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا
- جگر تشنۂ آزار تسلی نہ ہوا
- میں بھی رک رک کے نہ مرتا جو زباں کے بدلے
- نہ کھڑے ہو جیے خوبان دل آزار کے پاس
- نہ بخشی فرصت یک شبنمستاں جلوۂ خور نے
- وہ جلوہ کر کہ نہ میں جانوں اور نہ تو جانے
- نہ ہووے کیونکے اسے فرض قتل اہل وفا
- حسرت نشہ وحشت نہ بہ سعی دل ہے
- اٹھا یاں سے نہ میرا آب و دانہ
- نہ پھریے مہرہ ساں خانہ بخانہ
- گر نہ باندھے قلزم الفت میں سر جاے کدو
- خلوت دل میں نہ کر دخل بجز سجدہ شوق
- فکر پرواز جنوں ہے سبب ضبط نہ پوچھ
- غم عشاق نہ ہو سادگی آموز بتاں
- ورنہ کیا ہو نہ سکے نالہ بساماں مجھ سے
- جوں غنچہ و گل آفت فال نظر نہ پوچھ
- موج سراب دشت وفا کا نہ پوچھ حال
- جلوہ نہیں ہے درد سر آئنہ صندلی نہ کر
- ہے یہ سیاق گفتگو کچھ نہ سمجھ فنا سمجھ
- گر نہ مٹیں یہ کوہسار آپ کو تو صدا سمجھ
- سامنا حور و پری نے نہ کیا ہے نہ کریں
- کیوں نہ دلی میں ہر اک ناچیز نوابی کرے
- ہیں ہوس پیشہ بہت وہ نہ ہو اور سہی
- کیوں نہ فردوس میں دوزخ کو ملا لیں یارب
- مجھ کو وہ دو کہ جسے کھا کے نہ پانی مانگوں
- سرگراں مجھ سے سبک روکے نہ رہنے سے رہو
- خجلت کش وفا کو شکایت نہ چاہیے
- وہ آے یا نہ آے پہ یاں انتظار ہے
- چھیڑو نہ مجھ افسردۂ دزدیدہ نفس کو
- گریہ بے لذت کاوش نہ کرے جرأت شوق
- نہ بندھا تھا بہ عدم نقش دل مور ہنوز
- چمن میں کچھ نہ چھوڑا تو نے غیر از بیضۂ قمری
- نہ حیرت چشم ساقی کی نہ صحبت دور ساغر کی
- نہ بھولا اضطراب دم شماری انتظار اپنا
- نہ چھوڑو محفل عشرت میں جا اے میکشاں خالی
- نہ دوڑا ریشۂ دیوانگی صحن بیاباں میں
- نہ پھولو ریزش اعداد کی قطرہ فشانی پر
- نہ ہو حسن تماشا دوست رسوا بے وفائی کا
- نہ پایا درد مند دوری یاران یک دل نے
- کچھ نہ کی اپنی جنون نارسا نے ورنہ یاں
- بیش از نفس بتاں کے کرم نے وفا نہ کی
- گھر پر پڑا نہ غیر کے کوئی شرار حیف
- جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اک بار جل گئے
- آیا نہ میری خاک پہ وہ شہ سوار حیف
- نہ پوچھ نازکی وحشت شکیبائی
- جاں لب پہ آئی تو بھی نہ شیریں ہوا دہن
- نے سبحہ سے علاقہ نہ ساغر سے واسطہ
- ہوں خاکسارپر نہ کسی سے ہے مجھ کو لاگ
- پیری میں بھی کمی نہ ہوئی تاک جھانک کی
- قتل عشاق نہ غفلت کش تدبیر آوے
- وحشت نہ کھینچ قاتل حیرت نفس ہے بسمل
- وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی نہ پوچھ
- جوں اشک جب تلک نہ رکھوں دست و پا گرو
- جو چاہے کرے پہ دل نہ توڑے
- اندوہ سے ڈر کے منھ نہ موڑے
- غالبؔ کو نہ تشنہ کام چھوڑے
- پانی نہ چوائے اس کے منھ میں
- نہ کر سر گرم اس کافر کی الفت آزمانے میں
- حوصلہ تنگ نہ کر بے سبب آزاروں کا
- خراج بادشہ چیں سے کیوں نہ مانگوں آج
- اٹھا سکا نہ نزاکت سے گلبدن تکیہ
- رکھو نہ شمع پہ اے اہل انجمن تکیہ
- روا رکھو نہ رکھو تھا جو لفظ تکیہ کلام
- کچھ نہ کی اپنے جنون نارا سنے ورنہ یاں
- بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہاے بلبل زار
- نہ پوچھ کچھ سروسامان کاروبار اسدؔ
- خانۂ آگہی خراب دل نہ سمجھ بلا سمجھ
- شوق کو منفعل نہ کر ناز کو التجا سمجھ
- ہم نشیں مت کہ کہ برہم کر نہ بزم عیش دوست
- جوں شمع دل بخلوت جانا نہ کھینچیے
- گر زلف یار کھنچ نہ سکے شانہ کھینچیے
- بال پری بہ وحشت بے جا نہ کھینچیے
- عجز و نیاز سے تو نہ آیا وہ راہ پر
- جمعیت آوارگی دید نہ پوچھو
- تمثال بتاں گر نہ رکھے پنبۂ مرہم
- خور شبنم آشنا نہ ہوا ورنہ میں اسدؔ
- وا کیا ہرگز نہ میرا عقدۂ تار نفس
- آمد خط ہے نہ کر خندۂ شیریں کہ مباد
- نہ رکھ چشم حصول نفع صحبت ہائے ممسک سے
- نہ دیکھا کوئی ہم نے آشیاں بلبل کا گلشن میں
- یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
- یہ آتش ہمسایہ کہیں گھر نہ جلا دے
- کہ سرد ہو نہ سکے اس کا مصرع ثانی
- دگر نہ منزل حیرت سے کیا واقف ہیں مدہوشاں
- نہ دیجے پاس ضبط آبرو وقت شکستن بھی
- صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
- قاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریے
- کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
- نہ سنو گر برا کہے کوئی
- نہ کہو گر برا کرے کوئی
- کس روز تہمتیں نہ تراشا کیے عدو
- کس دن ہمارے سر پہ نہ آرے چلا کیے
- صحبت میں غیر کی نہ پڑی ہو کہیں یہ خو
- نہ بھولا اضطراب دم شماری انتظار اپنا
- کافی ہے نشانی ترا چھلے کا نہ دینا
- تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت
- صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
- قاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریے
- آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
- غالبؔ برا نہ مان جو واعظ برا کہے
- ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
- موج سراب دشت وفا کا نہ پوچھ حال
- جوں غنچہ و گل آفت فال نظر نہ پوچھ
- جی جلے ذوق فنا کی ناتمامی پر نہ کیوں
- سچ کہتے ہو خودبین و خود آرا ہوں نہ کیوں ہوں
- کیوں کر کہوں لو نام نہ ان کا مرے آگے
- گو نہ سمجھوں اس کی باتیں گو نہ پاؤں اس کا بھید
- منہ نہ کھلنے پر ہے وہ عالم کہ دیکھا ہی نہیں
- نہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدم
- نہ اتنا برش تیغ جفا پر ناز فرماؤ
- نظر راحت پہ میری کر نہ وعدہ شب کے آنے کا
- کہ گر پڑے نہ مرے پاؤں پر در و دیوار
- نہ پوچھ بے خودی عیش مقدم سیلاب
- نہ کہہ کسی سے کہ غالبؔ نہیں زمانے میں
- نہ حشر و نشر کا قائل نہ کیش و ملت کا
- جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اک بار جل گئے
- بیش از نفس بتاں کے کرم نے وفا نہ کی
- گھر پر پڑا نہ غیر کے کوئی شرار حیف
- آیا نہ میری خاک پہ وہ شہ سوار حیف
- اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے
- جو واں نہ کھنچ سکے سو وہ یاں آ کے دم ہوئے
- چھوڑی اسدؔ نہ ہم نے گدائی میں دل لگی
- تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا
- تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے
- اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعد قتل
- رہا آباد عالم اہل ہمت کے نہ ہونے سے
- تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو
- نہ گریۂ سحری ہے نہ آہ نیم شبی ہے
- مرتا ہوں میں کہ یہ نہ کسی کی نگاہ ہو
- غالبؔ بھی گر نہ ہو تو کچھ ایسا ضرر نہیں
- تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا
- اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا
- خورشید ہنوز اس کے برابر نہ ہوا تھا
- آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا
- جب تک کہ نہ دیکھا تھا قد یار کا عالم
- میں معتقد فتنۂ محشر نہ ہوا تھا
- یعنی سبق شوق مکرر نہ ہوا تھا
- میرا سر دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا
- آتش کدہ جاگیر سمندر نہ ہوا تھا
- نہ بندھے تشنگی ذوق کے مضموں غالبؔ
- جو گرہ آپ نہ کھولی اسے مشکل باندھا
- جب تک دہان زخم نہ پیدا کرے کوئی
- رونے سے اے ندیم ملامت نہ کر مجھے
- چاک جگر سے جب رہ پرسش نہ وا ہوئی
- سر بر ہوئی نہ وعدۂ صبر آزما سے عمر
- یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
- جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
- جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا
- تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسدؔ
- خور شبنم آشنا نہ ہوا ورنہ میں اسدؔ
- مر جاؤں نہ کیوں رشک سے جب وہ تن نازک
- غارت گر ناموس نہ ہو گر ہوس زر
- وہ آئے یا نہ آئے پہ یاں انتظار ہے
- بے پردہ سوئے وادی مجنوں گزر نہ کر
- دل مت گنوا خبر نہ سہی سیر ہی سہی
- دشنے نے کبھی منہ نہ لگایا ہو جگر کو
- خنجر نے کبھی بات نہ پوچھی ہو گلو کی
- جنوں تہمت کش تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی
- نہ کھینچ اے سعیٔ دست نارسا زلف تمنا کو
- نہ کھینچے طاقت خمیازہ تہمت ناتوانی کی
- جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی
- جو نہ نقد داغ دل کی کرے شعلہ پاسبانی
- کبھی کودکی میں جس نے نہ سنی مری کہانی
- بہ گمان قطع زحمت نہ دو چار خامشی ہو
- نہ رکھ آپ سے تعلق مگر ایک بد گمانی
- کہ نہ دے عنان فرصت بہ کشاکش زبانی
- نہ وفا کو آبرو ہے نہ جفا تمیز جو ہے
- نہ کرے اگر ہوس پر غم بے دلی گرانی
- جو امیدوار رہیے نہ بہ مرگ ناگہانی
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- نہ ہوا حصول زاری بجز آستیں فشانی
- نہ غرور میرزائی نہ فریب ناتوانی
- کہ ستم کش جنوں ہوں نہ بقدر زندگانی
- ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
- جب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا
- موج خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے
- طرف سخن نہیں ہے مجھ سے خدا نہ کردہ
- نہ ہو بہ ہرزہ بیاباں نورد وہم وجود
- گئی نہ خاک ہوئے پر ہواۓ جلوۂ ناز
- نہ پوچھ وسعت مے خانۂ جنوں غالبؔ
- نہ دیکھیں روئے یک دل سرد غیر از شمع کافوری
- منصب شیفتگی کے کوئی قابل نہ رہا
- وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے
- وہ آیا بزم میں دیکھو نہ کہیو پھر کہ غافل تھے
- چھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوں
- اے کاش جانتا نہ ترے رہگزر کو میں
- یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں
- خطر ہے رشتۂ الفت رگ گردن نہ ہو جاوے
- غرور دوستی آفت ہے تُو دشمن نہ ہو جاوے
- اگر گل سرو کے قامت پہ پیراہن نہ ہو جاوے
- تبسم برگ گل کو بخیۂ دامن نہ ہو جاوے
- کہ رشتہ تار اشک دیدۂ سوزن نہ ہو جاوے
- سفیدی آئینے کی پنبۂ روزن نہ ہو جاوے
- نہ پوچھ سینۂ عاشق سے آب تیغ نگاہ
- کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جاے دل
- در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا
- پھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا
- الٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا
- روبرو کوئی بت آئنہ سیما نہ ہوا
- تیرا بیمار برا کیا ہے گر اچھا نہ ہوا
- سینہ کا داغ ہے وہ نالہ کہ لب تک نہ گیا
- خاک کا رزق ہے وہ قطرہ کہ دریا نہ ہوا
- نام کا میرے ہے جو دکھ کہ کسی کو نہ ملا
- کام میں میرے ہے جو فتنہ کہ برپا نہ ہوا
- ہر بن مو سے دم ذکر نہ ٹپکے خوں ناب
- حمزہ کا قصہ ہوا عشق کا چرچا نہ ہوا
- قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کل
- کھیل لڑکوں کا ہوا دیدۂ بینا نہ ہوا
- دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا
- تیرے دل میں گر نہ تھا آشوب غم کا حوصلہ
- دل پہ اک لگنے نہ پایا زخم کاری ہائے ہائے
- عشق نے پکڑا نہ تھا غالبؔ ابھی وحشت کا رنگ
- درد منت کش دوا نہ ہوا
- میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا
- اک تماشا ہوا گلہ نہ ہوا
- تو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا
- گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
- آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا
- بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
- حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا
- زخم گر دب گیا لہو نہ تھما
- کام گر رک گیا روا نہ ہوا
- آج غالبؔ غزل سرا نہ ہوا
- دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
- زخم کے بھرتے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا
- تیرا پتہ نہ پائیں تو ناچار کیا کریں
- دھمکی میں مر گیا جو نہ باب نبرد تھا
- احباب چارہ سازی وحشت نہ کر سکے
- ہیہات کیوں نہ ٹوٹ گئے پیرزن کے پاؤں
- شب کو کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیں
- غالبؔ مرے کلام میں کیوں کر مزا نہ ہو
- کعبے میں کیوں دبائیں نہ ہم برہمن کے پاؤں
- دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا
- ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا
- سبزۂ خط سے ترا کاکل سرکش نہ دبا
- یہ زمرد بھی حریف دم افعی نہ ہوا
- وہ ستم گر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا
- گر نفس جادۂ سر منزل تقوی نہ ہوا
- ہوں ترے وعدہ نہ کرنے میں بھی راضی کہ کبھی
- گوش منت کش گلبانگ تسلی نہ ہوا
- ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا
- ناتوانی سے حریف دم عیسی نہ ہوا
- نہ ہوئی ہم سے رقم حیرت خط رخ یار
- صفحۂ آئنہ جولاں گہ طوطی نہ ہوا
- مجھ سا کافر کہ جو ممنون معاصی نہ ہوا
- یہ ضد کہ آج نہ آوے اور آئے بن نہ رہے
- اگر نہ کہیے کہ دشمن کا گھر ہے کیا کہئے
- اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
- کیوں نہ ہو بے التفاتی اس کی خاطر جمع ہے
- بد گماں ہوتا ہے وہ کافر نہ ہوتا کاش کے
- وائے واں بھی شور محشر نے نہ دم لینے دیا
- تا کرے نہ غمازی کر لیا ہے دشمن کو
- حسرت اے ذوق خرابی کہ وہ طاقت نہ رہی
- نشاط داغ غم عشق کی بہار نہ پوچھ
- نہ کیوں ہو دل پہ مرے داغ بد گمانی شمع
- شکوہ سنج رشک ہم دیگر نہ رہنا چاہیے
- سنگ سے سر مار کر ہووے نہ پیدا آشنا
- نے بھاگنے کی گوں نہ اقامت کی تاب ہے
- بے چشم دل نہ کر ہوس سیر لالہ زار
- اترائے کیوں نہ خاک سر رہ گزار کی
- لوگوں میں کیوں نمود نہ ہو لالہ زار کی
- کیونکر نہ کھائیے کہ ہوا ہے بہار کی
- نہ اوروں کی سنتا نہ کہتا ہوں اپنی
- نہ فکر سلامت نہ بیم ملامت
- رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
- ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہمزباں کوئی نہ ہو
- کوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو
- پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیماردار
- اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو
- نہ جانوں کیونکہ مٹے طعن بد عہدی
- غیر کی منت نہ کھینچوں گا پے توفیر درد
- اس کا یہ حال کہ کوئی نہ ادا سنج ملا
- قید میں یعقوب نے لی گو نہ یوسف کی خبر
- نہ آئی سطوت قاتل بھی مانع میرے نالوں کو
- حسرت نشۂ وحشت نہ بہ سعیٔ دل ہے
- حاصل الفت نہ دیکھا جز شکست آرزو
- شبنم بہ گل لالہ نہ خالی ز ادا ہے
- شعلے سے نہ ہوتی ہوس شعلہ نے جو کی
- بیگانگی خلق سے بیدل نہ ہو غالبؔ
- زخم نے داد نہ دی تنگئ دل کی یا رب
- آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا
- میری قسمت کا نہ ایک آدھ گریباں نکلا
- جو نہ دیکھا تھا سو آئینے میں پنہاں نکلا
- کیوں نہ ٹھہریں ہدف ناوک بیداد کہ ہم
- اے خانماں خراب نہ احساں اٹھائیے
- یا میرے زخم رشک کو رسوا نہ کیجیے
- نہ کی سامان عیش و جاہ نے تدبیر وحشت کی
- نے مژدۂ وصال نہ نظارہ جمال
- نے وہ سرور و سوز نہ جوش و خروش ہے
- فقط خراب لکھا بس نہ چل سکا قلم آگے
- راز معشوق نہ رسوا ہو جائے
- مے کشی کو نہ سمجھ بے حاصل
- قطع کیجے نہ تعلق ہم سے
- نہ سہی عشق مصیبت ہی سہی
- عہدے سے مدح ناز کے باہر نہ آ سکا
- تو اور ایک وہ نہ شنیدن کہ کیا کہوں
- ظالم مرے گماں سے مجھے منفعل نہ چاہ
- ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بے وفا کہوں
- مضمون وصل ہاتھ نہ آیا مگر اسے
- بزم قدح سے عیش تمنا نہ رکھ کہ رنگ
- شرمندگی سے عذر نہ کرنا گناہ کا
- ترا آنا نہ تھا ظالم مگر تمہید جانے کی
- وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی نہ پوچھ
- نے تیر کماں میں ہے نہ صیاد کمیں میں
- کیا زہد کو مانوں کہ نہ ہو گرچہ ریائی
- ہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ ان کو
- ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے
- آئے وہ یاں خدا کرے پر نہ کرے خدا کہ یوں
- بزم میں اس کے روبرو کیوں نہ خموش بیٹھیے
- خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو
- فارغ مجھے نہ جان کہ مانند صبح و مہر
- وہ سبزہ سنگ پر نہ اگا کوہکن ہنوز
- بیرون دل نہ تھی تپش انجمن ہنوز
- شادی سے گزر کہ غم نہ ہووے
- اردی جو نہ ہو تو دے نہیں ہے
- ہستی ہے نہ کچھ عدم ہے غالبؔ
- انجام شمار غم نہ پوچھو
- قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو
- نہیں گر ہمدمی آساں نہ ہو یہ رشک کیا کم ہے
- نہ دی ہوتی خدایا آرزوئے دوست دشمن کو
- نہ نکلا آنکھ سے تیری اک آنسو اس جراحت پر
- نہ لٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے خبر سوتا
- رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو
- نہ کر سرگرم اس کافر کو الفت آزمانے میں
- مٹ جائے گا سر گر ترا پتھر نہ گھسے گا
- کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور
- پھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور
- بچوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور
- گزری نہ بہ ہر حال یہ مدت خوش و نا خوش
- منہ نہ دکھلاوے نہ دکھلا پر بہ انداز عتاب
- نہ چھوڑی حضرت یوسف نے یاں بھی خانہ آرائی
- کہ پشت چشم سے جس کی نہ ہووے مہر عنواں پر
- نہ لڑ ناصح سے غالبؔ کیا ہوا گر اس نے شدت کی
- اچھا اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج
- غالبؔ ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے
- نہ لائی شوخی اندیشہ تاب رنج نومیدی
- عزیزو ذکر وصل غیر سے مجھ کو نہ بہلاؤ
- نہ لائی شوخی اندیشہ تاب درد نومیدی
- نہ سووے آبلوں میں گر سرشک دیدۂ نم سے
- اسدؔ یاس تمنا سے نہ رکھ امید آزادی
- بھلا اسے نہ سہی کچھ مجھی کو رحم آتا
- ہاں کچھ نہ کچھ تلافئ مافات چاہیے
- کافر ہوں گر نہ ملتی ہو راحت عذاب میں
- تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھر
- ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں
- وہ نالہ دل میں خس کے برابر جگہ نہ پائے
- وہ سحر مدعا طلبی میں نہ کام آئے
- واعظ نہ تم پیو نہ کسی کو پلا سکو
- آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی
- گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر
- جگر تشنۂ آزار تسلی نہ ہوا
- میں بھی رُک رُک کے نہ مرتا ۔۔۔جو زباں کے بدلے
- نہ کھڑے ہو جیے خوبان دل آزار کے پاس
- میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں
- بات کچھ سر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں
- کیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں
- اس قدر ضبط کہاں ہے کبھی آ بھی نہ سکوں
- ستم اتنا تو نہ کیجے کہ اٹھا بھی نہ سکوں
- شعلۂ دل تو نہیں ہے کہ بجھا بھی نہ سکوں
- تم نہ آؤ گے تو مرنے کی ہیں سو تدبیریں
- موت کچھ تم تو نہیں ہو کہ بلا بھی نہ سکوں
- کیا تصور ہے تمہارا کہ مٹا بھی نہ سکوں
- میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں
- ہم نشیں مت کہہ کہ برہم کر نہ بزم عیش دوست
- نفس نہ انجمن آرزو سے باہر کھینچ
- کمال گرمی سعیٔ تلاش دید نہ پوچھ
- نہ کہہ کہ طاقت رسوائی وصال نہیں
- کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
- آتشیں پا ہوں گداز وحشت زنداں نہ پوچھ
- آمد خط سے نہ کر خندۂ شیریں کہ مباد
- رہی نہ طرز ستم کوئی آسماں کے لیے
- نہ تم کہ چور بنے عمر جاوداں کے لیے
- فلک نہ دور رکھ اس سے مجھے کہ میں ہی نہیں
- دیا ہے خلق کو بھی تا اسے نظر نہ لگے
- نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے
- کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے
- اس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے
- کھیل سمجھا ہے کہیں چھوڑ نہ دے بھول نہ جائے
- کاش یوں بھی ہو کہ بن میرے ستائے نہ بنے
- کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے
- ہاتھ آویں تو انہیں ہاتھ لگائے نہ بنے
- پردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نہ بنے
- موت کی راہ نہ دیکھوں کہ بن آئے نہ رہے
- تم کو چاہوں کہ نہ آؤ تو بلائے نہ بنے
- بوجھ وہ سر سے گرا ہے کہ اٹھائے نہ اٹھے
- کام وہ آن پڑا ہے کہ بنائے نہ بنے
- کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے
- مری قسمت میں یارب کیا نہ تھی دیوار پتھر کی
- بجز دیوانگی ہوتا نہ انجام خود آرائی
- اگر پیدا نہ کرتا آئنہ زنجیر جوہر کی
- نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
- ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
- نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا
- نہ لیوے گر خس جوہر طراوت سبزۂ خط سے
- نہ نکلے شمع کے پا سے نکالے گر نہ خار آتش
- اگر رکھتی نہ خاکستر نشینی کا غبار آتش
- نہ پوچھ نسخۂ مرہم جراحت دل كا
- اگر نہ ہووے رگ خواب صرف شیرازہ
- نہ گل نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز
- جس سے مژگاں ہوئی نہ ہو گلباز
- مجھ کو پوچھا تو کچھ غضب نہ ہوا
- نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی
- امتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہی
- شوق گلچین گلستان تسلی نہ سہی
- ایک دن گر نہ ہوا بزم میں ساقی نہ سہی
- گر نہیں شمع سیہ خانۂ لیلی نہ سہی
- نوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی
- نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا
- گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی
- نہ ہوئی غالبؔ اگر عمر طبیعی نہ سہی
- نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا
- نہ ہو وحشت کش درس سراب سطر آگاہی
- جو آؤں سامنے ان کے تو مرحبا نہ کہیں
- نہ جانوں نیک ہوں یا بد ہوں پر صحبت مخالف ہے
- وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو
- کیجے ہمارے ساتھ عداوت ہی کیوں نہ ہو
- چھوڑا نہ مجھ میں ضعف نے رنگ اختلاط کا
- ہے دل پہ بار نقش محبت ہی کیوں نہ ہو
- ہر چند بر سبیل شکایت ہی کیوں نہ ہو
- یوں ہو تو چارۂ غم الفت ہی کیوں نہ ہو
- ڈالا نہ بے کسی نے کسی سے معاملہ
- اپنے سے کھینچتا ہوں خجالت ہی کیوں نہ ہو
- ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو
- حاصل نہ کیجے دہر سے عبرت ہی کیوں نہ ہو
- اپنے سے کر نہ غیر سے وحشت ہی کیوں نہ ہو
- عمر عزیز صرف عبادت ہی کیوں نہ ہو
- اس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہو
- یعنی یہ میری آہ کی تاثیر سے نہ ہو
- آئینہ تاکہ دیدۂ نخچیر سے نہ ہو
- چشم شبنم میں نہ ٹوٹا مژۂ خار ہنوز
- نہ دے جو بوسہ تو منہ سے کہیں جواب تو دے
- پیالہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تو دے
- دل تو دل وہ دماغ بھی نہ رہا
- بوسہ میں وہ مضائقہ نہ کرے
- بد گمانی نے نہ چاہا اسے سرگرم خرام
- ہوں سراپا ساز آہنگ شکایت کچھ نہ پوچھ
- ہے یہی بہتر کہ لوگوں میں نہ چھیڑے تو مجھے
- نہ ہو حسن تماشا دوست رسوا بے وفائی کا
- نہ مارا جان کر بے جرم غافل تیری گردن پر
- نہ دے نامے کو اتنا طول غالبؔ مختصر لکھ دے
- تغافل کو نہ کر مصروف تمکیں آزمائی کا
- نہ پایا دردمند دوریٔ یاران یک دل نے
- سبزہ کو جب کہیں جگہ نہ ملی
- کیوں نہ دنیا کو ہو خوشی غالبؔ
- دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز
- سرنوشت اضطراب انجامی الفت نہ پوچھ
- اے کرم نہ ہو غافل ورنہ ہے اسدؔ بیدل
- خلش غمزۂ خوں ریز نہ پوچھ
- دہن اس کا جو نہ معلوم ہوا
- نہ پوچھا جائے ہے اس سے نہ بولا جائے ہے مجھ سے
- نہ بھاگا جائے ہے مجھ سے نہ ٹھہرا جائے ہے مجھ سے
- وہ کافر جو خدا کو بھی نہ سونپا جائے ہے مجھ سے
- بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
- نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو
- وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں
- نہ لاوے تاب جو غم کی وہ میرا رازداں کیوں ہو
- قفس میں مجھ سے روداد چمن کہتے نہ ڈر ہمدم
- نہ کھینچو گر تم اپنے کو کشاکش درمیاں کیوں ہو
- کعبہ میں جا رہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیں
- طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگ
- ہوں منحرف نہ کیوں رہ و رسم ثواب سے
- خرمن جلے اگر نہ ملخ کھائے کشت کو
- کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میں
- ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
- نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
- کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں
- کچھ کہہ نہ سکوں پر وہ مرے پوچھنے کو آئے
- ظاہر ہے کہ گھبرا کے نہ بھاگیں گے نکیرین
- جلاد سے ڈرتے ہیں نہ واعظ سے جھگڑتے
- کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
- کیوں نہ وحشت غالب باج خواہ تسکیں ہو
- نہ کہیو طعن سے پھر تم کہ ہم ستم گر ہیں
- نگاہ ناز کو پھر کیوں نہ آشنا کہیے
- جو مدعی بنے اس کے نہ مدعی بنیے
- جو ناسزا کہے اس کو نہ ناسزا کہیے
- رہے نہ جان تو قاتل کو خوں بہا دیجے
- نہیں نگار کو الفت نہ ہو نگار تو ہے
- نہیں بہار کو فرصت نہ ہو بہار تو ہے
- اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انہیں کچھ نہ کہو
- آوے نہ کیوں پسند کہ ٹھنڈا مکان ہے
- دل سے نکلا پہ نہ نکلا دل سے
- کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر
- گرنی تھی ہم پہ برق تجلی نہ طور پر
- کیوں نہ ہو چشم بتاں محو تغافل کیوں نہ ہو
- گر تجھ کو ہے یقین اجابت دعا نہ مانگ
- یعنی بغیر یک دل بے مدعا نہ مانگ
- مجھ سے مرے گنہ کا حساب اے خدا نہ مانگ
- اے آرزو شہید وفا خوں بہا نہ مانگ
- جز بہر دست و بازوئے قاتل دعا نہ مانگ
- کاشانہ بسکہ تنگ ہے غافل ہوا نہ مانگ
- دشمن سمجھ ولے نگۂ آشنا نہ مانگ
- سر پر وبال سایۂ بال ہما نہ مانگ
- یعنی دعا بجز خم زلف دوتا نہ مانگ
- جز پشت چشم نسخہ عرض دوا نہ مانگ
- آئینہ دیکھ جوہر برگ حنا نہ مانگ
- ناف زمین ہے نہ کہ ناف غزال ہے
- پہلو تہی نہ کر غم و اندوہ سے اسدؔ
- گر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گا
- باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پر
- واے گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہو
- ہوس گل کے تصور میں بھی کھٹکا نہ رہا
- رنگ شہرت نہ دیا تازہ خیالی نے مجھے
- غم فراق میں تکلیف سیر باغ نہ دو
- نہ کہہ کہ گریہ بہ مقدار حسرت دل ہے
- ملی نہ وسعت جولان یک جنوں ہم کو
- کہے سے کچھ نہ ہوا پھر کہو تو کیونکر ہو
- کہ گر نہ ہو تو کہاں جائیں ہو تو کیونکر ہو
- وہ شخص دن نہ کہے رات کو تو کیونکر ہو
- ہماری بات ہی پوچھیں نہ وہ تو کیونکر ہو
- غلط نہ تھا ہمیں خط پر گماں تسلی کا
- نہ مانے دیدۂ دیدار جو تو کیونکر ہو
- جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر
- کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاقت سخن
- لیوے نہ کوئی نام ستم گر کہے بغیر
- سر جائے یا رہے نہ رہیں پر کہے بغیر
- چھوڑوں گا میں نہ اس بت کافر کا پوجنا
- چھوڑے نہ خلق گو مجھے کافر کہے بغیر
- غالبؔ نہ کر حضور میں تو بار بار عرض
- گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا
- بحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا
- کہ اگر تنگ نہ ہوتا تو پریشاں ہوتا
- نہ شعلہ میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا
- جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
- رہی نہ طاقت گفتار اور اگر ہو بھی
- غم عشاق نہ ہو سادگی آموز بتاں
- غم عشاق نہ ہو سادگی آموز بتاں
- ورنہ کیا ہو نہ سکے نالہ بساماں مجھ سے
- بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
- غرۂ اوج بنائے عالم امکاں نہ ہو
- بوسہ نہیں نہ دیجیے دشنام ہی سہی
- خنجر سے چیر سینہ اگر دل نہ ہو دو نیم
- ہے ننگ سینہ دل اگر آتش کدہ نہ ہو
- نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا
- یوسف اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے خیر ہوئی
- دیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجا ٹھنڈا
- پیشہ میں عیب نہیں رکھیے نہ فرہاد کو نام
- ہم تھے مرنے کو کھڑے پاس نہ آیا نہ سہی
- تا باز گشت سے نہ رہے مدعا مجھے
- زنہار نہ ہونا طرف ان بے ادبوں سے
- یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات
- دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور
- لیتا نہ اگر دل تمہیں دیتا کوئی دم چین
- کرتا جو نہ مرتا کوئی دن آہ و فغاں اور
- جس کی بہار یہ ہو پھر اس کی خزاں نہ پوچھ
- دشواریٔ رہ و ستم ہم رہاں نہ پوچھ
- جز دل سراغ درد بہ دل خفتگاں نہ پوچھ
- آئینہ عرض کر خط و خال بیاں نہ پوچھ
- جاہ و جلال عہد وصال بتاں نہ پوچھ
- گرمیٔ نبض خار و خس آشیاں نہ پوچھ
- بیتابیٔ تجلیٔ آتش بجاں نہ پوچھ
- یا رب حساب سختیٔ خواب گراں نہ پوچھ
- عرض فضاۓ سینۂ درد امتحاں نہ پوچھ
- درد جدائی اسدؔ اللہ خاں نہ پوچھ
- حسرت کشوں کو ساغر و مینا نہ چاہیے
- اے وائے گر نگاہ نہ ہو آشنائے گل
- یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
- کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
- کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا
- رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
- غم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا
- ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا
- نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
- تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
- نظر لگے نہ کہیں اس کے دست و بازو کو
- یہ خرگہ نہ پایۂ جو مدت سے بپا ہے
- بہ کرم داغ نہ ناصیۂ قلزم و نیل
- بخت ناساز نے چاہا کہ نہ دے مجھ کو اماں
- نیک ہوتی مری حالت تو نہ دیتا تکلیف
- جمع ہوتی مری خاطر تو نہ کرتا تعجیل
- نہ کہوں آپ سے تو کس سے کہوں
- تا نہ دے باد زمہریر آزار
- کیوں نہ درکار ہو مجھے پوشش
- ظلم ہے گر نہ دو سخن کی داد
- قہر ہے گر کرو نہ مجھ کو پیار
- تا نہ ہو مجھ کو زندگی دشوار
- کوئی واں سے نہ آ سکے یاں تک
- آدمی واں نہ جا سکے یاں کا
- قسم لو ہم سے گر یہ بھی کہیں کیوں ہم نہ کہتے تھے
- صبح دم باغ میں آ جائے جسے ہو نہ یقیں
- ہم نہ تبلیغ کے مائل نہ غلو کے قائل
- جس پاس روزہ کھول کے کھانے کو کچھ نہ ہو
- روزہ اگر نہ کھائے تو ناچار کیا کرے
- نہ کیوں ہو مادۂ سال عیسوی محظوظ
- نہ واں آم پائیں نہ انگور پائیں
- نہ ظہوری ہے اور نہ طالب ہے
- چار سے پھر نہ ہو گی کم قیمت
- اس سے لیویں گے کم نہ ہم قیمت
- کہ نہ ارسال زر میں ہو تاخیر
- نہ پوچھ اس کی حقیقت حضور والا نے
- نہ کھاتے گیہوں نکلتے نہ خلد سے باہر
- اس پہ گزرے نہ گماں ریوو ریا کا زنہار
- سیہ گلیم ہوں لازم ہے میرا نام نہ لے
- ہوا نہ غلبہ میسر کبھی کسی پہ مجھے
- ان کو لڑیاں نہ کہو بحر کی موجیں سمجھو
- مجھ کو ڈر ہے کہ نہ چھینے ترا لمبر سہرا
- جی میں اترائیں نہ موتی کہ ہمیں ہیں اک چیز
- جب کہ اپنے میں سماویں نہ خوشی کے مارے
- کیوں نہ دکھلاوے فروغ مہ و اختر سہرا
- بہ گمان قطع زحمت نہ دو چار خامشی ہو
- نہ رکھ آپ سے تعلق مگر ایک بدگمانی
- کہ نہ دے عنان فرصت بہ کشاکش زبانی
- نہ وفا کو آبرو ہے نہ جفا تمیز جو ہے
- نہ کرے اگر ہوس پر غم بیدلی گرانی
- جو امیدوار رہیے نہ بہ مرگ ناگہانی
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- نہ ہوا حصول زاری بجز آستیں فشانی
- نہ غرور میر زائی نہ فریب ناتوانی
- کہ ستم کش جنوں ہوں نہ بقدر زندگانی
- ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں
- بے دلی ہاے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق
- بیکسی ہاے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں
- نہ سر و برگ ستایش نہ دماغ نفریں
- نہ تمنا نہ تماشا نہ تحیر نہ نگاہ
- قطع ہوجائے نہ سر رشتۂ ایجاد کہیں
- نہ کرے نذر صدا ورنہ متاع تمکیں
- جو عقدہ دشوار کہ کوشش سے نہ وا ہو
- گر لب کو نہ دے چشمۂ حیواں سے طہارت
- ڈھونڈے نہ ملے موجۂ دریا میں روانی
- باقی نہ رہے آتش سوزاں میں حرارت
- کیوں کر نہ کروں مدح کو میں ختم دعا پر
- گرہ سے اور گرہ کی امید کیوں نہ بڑھے
- کشادہ رخ نہ پھرے کیوں کہ اس زمانے میں
- بچی نہ از پئے بند نقاب یار گرہ
- گرہ کا نام لیا پر نہ کر سکا کچھ بات
- ادھر نہ ہوگی توجہ حضور کی جب تک
- کبھی کسی سے کھلے گی نہ زینہار گرہ
- عذر میں تین دن نہ آنے کے
- اس کو بھولا نہ چاہیے کہنا
- کیا نہ دے گا مجھے مئے گلفام
- مے ہی پھر کیوں نہ میں پیے جاؤں
- کہ نہ سمجھیں وہ لذت دشنام
- گر نہ رکھتا ہو دست گاہ تمام
- لمبر رہا نہ نذر نہ خلعت کا انتظام
- عزت جہاں گئی تو نہ ہستی رہی نہ نام
- آقاے نامور سے نہ کچھ کر سکا کلام
- جو واں نہ کہہ سکا وہ لکھا ہے حضور کو
- ملک و سپہ نہ ہو تو نہ ہو کچھ ضرر نہیں
- نہ آفتاب ولے آفتاب کا ہم چشم
- نہ بادشاہ ولے مرتبے میں ہمسر شاہ
- پڑے نہ قطع خصومت میں احتیاج گواہ
- جمع ہرگز ہوے نہ ہونگے کہیں
- نہ ہوئی ہو کبھی بروے زمیں
- قوت نامیہ اس کو بھی نہ چھوڑے بیکار
- اس زمیں میں نہ کرے سبز قلم کی رفتار
- نہ فلک آئنہ ایجاد کف گوہر بار
- سبزہ نہ چمن ویک خط پشت لب بام
- فرش اس دشت تمنا میں نہ ہوتا گر عدل
- موج طوفان غضب چشمہ نہ چرخ حباب
- تہمت بے خودی کفر نہ کھینچے یارب
- خاک در کی ترے جو چشم نہ ہو آئنہ دار
- مقصد نہ چرخ و ہفت اختر کھلا
- اے منشی خیرہ سر سخن ساز نہ ہو
- عصفور ہے تو مقابل باز نہ ہو
- لاٹھی وہ لگے کہ جس میں آواز نہ ہو
- ہے ہے نہ کہو کسے برا کہتے ہیں
- رسوا کرتے نہ آپ کو عالم میں
- ہوں شاد نہ کیوں سافل و عالی باہم
- پروانے کا نہ غم ہو تو پھر کس لیے اسدؔ
- رہیے نہ مشقت گدائی سے معاف
- رقعے کا جواب کیوں نہ بھیجا تم نے
- الفت کی نہ تھی جلوہ نمائی کس میں
- نہ بادشاہ نہ سلطاں یہ کیا ستایش ہے
- اگر کہیں نہ خداوند کیا کہیں اس کو
- اگر نہ شافع روز جزا کہیں اس کو
- عدو کے سمع رضا میں جگہ نہ پائے وہ بات
- ہمارے درد کی یارب کہیں دوا نہ ملے
- اگر نہ درد کی اپنے دوا کہیں اس کو
- یزید کو تو نہ تھا اجتہاد کا پایہ
- برا نہ مانیے گر ہم برا کہیں اس کو
- نبی کا ہو نہ جسے اعتقاد کافر ہے
- کیوں نہ کھولے در خزینۂ راز
- نہ چلا جب کسی طرح مقدور
- نہ گل اس میں نہ شاخ و برگ نہ بار
- پر وہ یوں سہل دے نہ سکتا جان
- خاص وہ آم جو نہ ارزاں ہو
- پیچ میں ان کے نہ آنا زینہار
- گورے پنڈے پر نہ کر ان کے نظر
- نہ ہونے پر ہیں یہ باتیں دہن کی
- کعبے میں کیوں دبائیں نہ ہم برہمن کے پاؤں
- کہ مردوں کو نہ بدلتے ہوئے کفن دیکھا
- ان دل فریبیوں سے نہ کیوں اس پہ پیار آئے
- جو حد تقوی ادا نہ ہووے تو اپنا مذہب یہی ہے غالبؔ
- ہوس نہ رہ جائے کوئی باقی گناہ کیجے تو خوب کیجے
- مے کشی کو نہ سمجھ بے حاصل
- ناتوائی نے نہ چھوڑا بس کہ پیش از عکس جسم
- میں نے جمنا کا کچھ نہ لکھا حال
- تھا تو خط پر نہ تھا جواب طلب
- تازیانہ کیوں نہ کوڑا نام پائے
- گر نہ ڈر جاؤ تو دکھلاؤں تمہیں
- کہہ سکے ساری حقیقت ہم نہ اس کے رو برو
- ہم نہ تجھ کو منع کرتے تھے گیا کیوں اس کے گھر