نگاہ
98 Misre
- بجولاں گاہ نومیدی نگاہ عاجزاں پا ہے
- نگاہ بے حجاب ناز تیغ تیز عریاں ہے
- بہ امید نگاہ خاص ہوں محمل کش حسرت
- وہ اک نگہ جو بظاہر نگاہ سے کم ہے
- یک نگاہ صاف صد آئینہ تاثیر ہے
- کو بوقت قتل حق آشنائی اے نگاہ
- سد اسکندر بنے بہر نگاہ گل رخاں
- یارب یہ درد مند ہے کس کی نگاہ کا
- میں دور گرد قرب بساط نگاہ تھا
- نگاہ شوق کو صحرا بھی دیوان غزالی ہے
- بہ گرد سر مہ انداز نگاہ شرمگیں پایا
- مگر یک دست و دامان نگاہ واپسیں پایا
- جلوۂ بینش پناہ بخشے ہے ذوق نگاہ
- دل سراپا وقف سوداے نگاہ تیز ہے
- ان ستم کیشوں کے کھائے ہیں زبس تیر نگاہ
- نگاہ دیدۂ نقش قدم ہے جادۂ راہ
- نگاہ حیرت مشاطہ خوں فشاں تجھ سے
- چراغان نگاہ و شوخی اشک جگر گوں ہے
- چشم بے خون دل و دل تہی از جوش نگاہ
- قطرہ جو آنکھوں سے ٹپکا سو نگاہ آلودہ ہے
- عبرت سے پوچھ درد پریشانی نگاہ
- وہ راز نالہ ہوں کہ بشرح نگاہ عجز
- پاے نگاہ خلق میں خار خلیدہ ہوں
- نگاہ چشم حاسد دام لے اے ذوق خود بینی
- سراپا شبنم آئیں یک نگاہ پاک باقی ہے
- جوش تکلیف تماشا محشرستان نگاہ
- تھا محمل نگاہ بدوش شرار حیف
- یک نگاہ گرم ہے جوں شمع سر تا پا گداز
- نگاہ ناز نے جب عرض تکلیف شرارت کی
- نگاہ اس چشم کی افزوں کرے ہے ناتوانائی
- نگاہ عبرت افسوں گاہ برق و گاہ مشعل ہے
- جوش تکلیف تماشا محشر آباد نگاہ
- خط پیالہ سراسر نگاہ گلچیں ہے
- نگاہ ناز چشم یار میں زنار مینا ہے
- ہے دلبری کمیں کر ایجاد یک نگاہ
- ناکامی نگاہ ہے برق نظارہ سوز
- تار نگاہ سوزن مینا رشتۂ خط جام کیا
- بے تکلف یک نگاہ آشنا ہوجائیے
- آنکھیں پتھرائی ہیں نامحسوس ہے تار نگاہ
- حیرت نگاہ برق تماشا بہار شوخ
- ہو گئے ہیں جمع اجزائے نگاہ آفتاب
- برق خرمن زار گوہر ہے نگاہ تیز یاں
- گلدستۂ نگاہ سویدا کہیں جسے
- نگاہ شوق کو ہیں بال و پر در و دیوار
- تھا محمل نگاہ بہ دوش شرار حیف
- نگاہ شوق کو صحرا بھی دیوان غزالی ہے
- مرتا ہوں میں کہ یہ نہ کسی کی نگاہ ہو
- ناکامی نگاہ ہے برق نظارہ سوز
- نگاہ بے حجاب ناز کو بیم گزند آیا
- کہ نگاہ ہے سیہ پوش بہ عزائے زندگانی
- چہ امید و نا امیدی چہ نگاہ و بے نگاہی
- نگاہ عکس فروش و خیال آئنہ ساز
- نگاہ فتنہ خرام و در دو عالم باز
- بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ
- نگاہ دل سے ترے سرمہ سا نکلتی ہے
- نہ پوچھ سینۂ عاشق سے آب تیغ نگاہ
- دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی
- بن گیا ہیں تیغ نگاہ یار کا سنگ فساں
- کی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے
- نگاہ عجز سر رشتۂ سلامت ہے
- دیدار بادہ حوصلہ ساقی نگاہ مست
- دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
- یہ جنت نگاہ وہ فردوس گوش ہے
- غیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا
- پر گل خیال زخم سے دامن نگاہ کا
- مینائے مے ہے آبلہ پائے نگاہ کا
- یارب یہ درد مند ہے کس کی نگاہ کا
- میں دور گرد قرب بساط نگاہ تھا
- صد گلستاں نگاہ کا ساماں کیے ہوئے
- اک نو بہار ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ
- نگاہ ناز چشم یار میں زنار مینا ہے
- لاکھوں لگاؤ ایک چرانا نگاہ کا
- وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے
- ی نگاہ غلط انداز تو سم ہے ہم کو
- ہے نگاہ آشنا تیرا سر ہر مو مجھے
- قبلۂ مقصد نگاہ نیاز
- شرم ہے طرز تلاش انتخاب یک نگاہ
- خط پیالہ سراسر نگاہ گل چیں ہے
- بے تکلف یک نگاہ آشنا ہوجائیے
- نگاہ ناز کو پھر کیوں نہ آشنا کہیے
- دل سراپا وقف سودائے نگاہ تیز ہے
- ان ستم کیشوں کے کھائے ہیں زبس تیر نگاہ
- گر نگاہ گرم فرماتی رہی تعلیم ضبط
- مری نگاہ میں ہے جمع و خرچ دریا کا
- نگاہ بے حجاب ناز تیغ تیز عریاں ہے
- خط پیالہ سراسر نگاہ گل چیں ہے
- عبرت سے پوچھ درد پریشانیٔ نگاہ
- نگاہ بے محابا چاہتا ہوں
- خوں ہے مری نگاہ میں رنگ ادائے گل
- اے وائے گر نگاہ نہ ہو آشنائے گل
- کہ نگاہ ہے سیہ پوش بہ عزاے زندگانی
- چہ امید و نا امیدی چہ نگاہ و بے نگاہی
- نہ تمنا نہ تماشا نہ تحیر نہ نگاہ
- نیابت دم عیسی کرے ہے جس کی نگاہ
- شعاع مہر درخشاں ہو اس کا تار نگاہ
- مردمک سے ہو عزا خانۂ اقبال نگاہ
- ہے مفت نگاہ کا مقابل ہونا
- گلدستۂ نگاہ سویدا کہیں جسے