نگار
15 Misre
- یہ ایک پیرہن زر نگار رکھتے ہیں
- لگاوے خانۂ آئینہ میں روے نگار آتش
- زخم دل میں ہے نہاں غنچۂ پیکان نگار
- دیکھ اس کے ساعد سیمین و دست پر نگار
- بے تاب سیر دل ہے سر ناخن نگار
- لب نگار میں آئینہ دیکھ آب حیات
- نقش قدم ہیں ہم کف پاے نگار کے
- رخ نگار سے ہے سوز جاودانی شمع
- لیکن اب نقش و نگار طاق نسیاں ہو گئیں
- نقش قدم ہیں ہم کف پاۓ نگار کے
- لگائے خانۂ آئینہ میں روئے نگار آتش
- نہیں نگار کو الفت نہ ہو نگار تو ہے
- نظم اس کی نگار نامۂ راز
- خون صد برق سے باندھے بکف دست نگار
- اک نگار آتشیں رخ سر کھلا