نکلے
22 Misre
- نہ نکلے خشت مثل استنحواں بیرون قالب ہا
- نہ نکلے شمع کے پاسے نکالے گر نہ خار آتش
- اس کے ہر ایک اشارہ سے نکلے ہے یہ ادا کہ یوں
- خاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے
- نہ نکلے شمع کے پا سے نکالے گر نہ خار آتش
- ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
- بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
- وہ خوں جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے
- بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
- اگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
- ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
- پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام جم نکلے
- وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغ ستم نکلے
- اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
- پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
- تین نثروں سے کام کیا نکلے
- ان کے پڑھنے سے نام کیا نکلے
- دل اس کا پھوڑ کے نکلے بہ شکل پھوڑے کے
- آواز تری نکلے اور آواز کے ساتھ
- ذرا کر زور سینے پر کہ تیر پر ستم نکلے
- جو وہ نکلے تو دل نکلے جو دل نکلے تو دم نکلے
- ماہ نو نکلے پہ گزری ہوں گی راتیں پان سات