نکلا
31 Misre
- بس کہ وقت گریہ نکلا تیرہ کاری کا غبار
- رز میں جو انگور نکلا عقدۂ مشکل ہوا
- کارخانے سے جنوں کے بھی میں عریاں نکلا
- میری قسمت کا نہ ایک آدھ گریباں نکلا
- شوق دیدار بلا آئنہ ساماں نکلا
- تیر بھی سینۂ بسمل سے پر افشاں نکلا
- جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
- جس کو دل کہتے تھے سو تیر کا پیکاں نکلا
- نقش ہر ذرہ سویداے بیاباں نکلا
- آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا
- زبس نکلا غبار دل بوقت گریہ آنکھوں سے
- بارے آشنا نکلا ان کا پاسباں اپنا
- شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا
- قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا
- تیر بھی سینۂ بسمل سے پرافشاں نکلا
- جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
- کام یاروں کا بہ قدر لب و دنداں نکلا
- سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا
- آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا
- کارخانے سے جنوں کے بھی میں عریاں نکلا
- میری قسمت کا نہ ایک آدھ گریباں نکلا
- شوق دیدار بلا آئنہ ساماں نکلا
- جس کو دل کہتے تھے سو تیر کا پیکاں نکلا
- نقش ہر ذرہ سویداۓ بیاباں نکلا
- لاکھ پردے میں چھپا پر وہی عریاں نکلا
- آخر اے عہد شکن تو بھی پشیماں نکلا
- جو نہ دیکھا تھا سو آئینے میں پنہاں نکلا
- پیشوا لینے مجھے گھر سے بیاباں نکلا
- نہ نکلا آنکھ سے تیری اک آنسو اس جراحت پر
- دل سے نکلا پہ نہ نکلا دل سے
- پھر غزل کی روش پہ چل نکلا