نکالوں
17 Misre
- کیا ضعف میں امید کو دل تنگ نکالوں
- میں خار ہوں آتش میں چبھوں رنگ نکالوں
- کس پردے میں فریاد کی آہنگ نکالوں
- ہر چند بمقدار دل تنگ نکالوں
- جوں ذرہ صد آئینۂ بے زنگ نکالوں
- پھر شیشے سے عطر شرر سنگ نکالوں
- تصویر کے پردے میں مگر رنگ نکالوں
- گر دیدہ و دل صلح کریں جنگ نکالوں
- طاؤس نمط داغ کے گر رنگ نکالوں
- یک فرد نسب نامۂ نیرنگ نکالوں
- جوں قمری بسمل تپش آہنگ نکالوں
- ناخن کو جگر کاوی میں بے رنگ نکالوں
- یک غنچہ سے صد خم مے گلرنگ نکالوں
- محفل سے مگر شمع کو دل تنگ نکالوں
- صحرا کو بھی گھر سے کئی فرسنگ نکالوں
- کس پردے میں فریاد کی آہنگ نکالوں
- اسدؔ طبع متیں سے گر نکالوں شعر برجستہ