نوید
4 Misre
نہیں ہے سایہ کہ سن کر نوید مقدم یار
تسکیں کو دے نوید کہ مرنے کی آس ہے
نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیے
تیرا اقبال ترحم مرے جینے کی نوید
ن
All Letters