نور
17 Misre
- نور سے تیرے ہے اس کی روشنی
- بس کہ چشم از انتظار خوش خطاں بے نور ہے
- بزم خوباں بس کہ جوش جلوہ سے پر نور ہے
- شیشۂ آتشیں رخ پر نور
- اے نور چشم وحشت اے یادگار صحرا
- پیمانہ رات ماہ کا لبریز نور تھا
- پنبہ نور صبح سے کم جس کے روزن میں نہیں
- پیمانہ رات ماہ کا لبریز نور تھا
- سرشک سر بہ صحرا دادہ نور العین دامن ہے
- منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی
- نور چراغ بزم سے جوش سحر ہے آج
- سلیم خاں کہ وہ ہے نور چشم واصل خاں
- دریاے نور ہے فلک آبگینہ فام
- نور مے ماہ ساغر سیمیں
- قبلۂ نور نظر کعبۂ اعجاز مسیح
- اے مفیض وجود سایہ و نور
- جب تلک ہے نمود سایہ و نور