نوا
12 Misre
- اے نوا ساز تماشا سربکف جلتا ہوں میں
- مبادا بے تکلف فصل کا برگ و نوا گم ہو
- محبت بے نوا ساز فغاں در پردۂ دل ہا
- مرا ہونا برا کیا ہے نوا سنجان گلشن کو
- محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا
- چشم خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے
- رشتۂ پا یاں نوا سامان بند ساز ہے
- مر گیا غالبؔ آشفتہ نوا کہتے ہیں
- نغمۂ مطربان زہرہ نوا
- غلط نہیں ہے کہ خونیں نوا کہیں اس کو
- رونق کار گاہ برگ و نوا
- ہے نوا آواز ساماں اور اول