نو
25 Misre
- ماہ نو ہوں کہ فلک عجز سکھاتا ہے مجھے
- بینش بہ سعی ضبط جنوں نو بہار تر
- رہا میں ضعف سے شرمندۂ نو آموزی
- مہ نو سے ہے رہزن دار نعل واژگوں باندھا
- بحکم عجز ابروے مہ نو حیرت ایما ہے
- دامان شفق طرف نقاب مہ نو ہے
- موجۂ سبزۂ نو خیز سے تا موج شراب
- چرخ وا کرتا ہے ماہ نو سے آغوش وداع
- دی مرے بھائی کو حق نے از سر نو زندگی
- بہ حکم عجز ابروئے مہ نو حیرت ایما ہے
- اک نو بہار ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ
- از سر نو زندگی ہو گر رہا ہو جائیے
- جان وفا پرست کو ایک شمیم نو بہار
- سال ہجری نو ہو گیا معلوم
- جوں مہ نو ہے نہاں گوشہ ابرو میں جبیں
- نو روز ہے آج اور وہ دن ہے کہ ہوئے ہیں
- کہا کہ چرخ پہ ہم نے گنی ہیں نو گرہیں
- جو یاں گنیں گے تو پاویں گے نو ہزار گرہ
- کہ لائے غیب سے غنچوں کی نو بہار گرہ
- ہاں مہ نو سنیں ہم اس کا نام
- نو بہار حدیقۂ اسلام
- سلک اختر میں مہ نو مژۂ گوہر بار
- منظور ہے دو جہاں سے نو یعنی دل
- نو بر نخل باغ سلطاں ہو
- ماہ نو نکلے پہ گزری ہوں گی راتیں پان سات