نمک
23 Misre
- چشم نرگس میں نمک بھرتی ہے شبنم سے بہار
- نذر خراش نالہ سر شک نمک اثر
- نمک ہے شمع میں جوں موم جادو خواب بستن کا
- صبح یک زخم نمک سود چراغ کشتہ ہے
- نمک بر داغ مشک آلودۂ وحشت تماشا ہے
- نمک زخم جگر بال فشانی مانگے
- نمک پاش خراش دل ہے لذت زندگانی کی
- صبح یک بزم نمک سود چراغ کشتہ ہے
- زخم پر چھڑکیں کہاں طفلان بے پروا نمک
- کیا مزہ ہوتا اگر پتھر میں بھی ہوتا نمک
- ورنہ ہوتا ہے جہاں میں کس قدر پیدا نمک
- نالۂ بلبل کا درد اور خندۂ گل کا نمک
- گرد ساحل ہے بہ زخم موجۂ دریا نمک
- یاد کرتا ہے مجھے دیکھے ہے وہ جس جا نمک
- دل طلب کرتا ہے زخم اور مانگے ہیں اعضا نمک
- زخم مثل خندۂ قاتل ہے سر تا پا نمک
- زخم سے گرتا تو میں پلکوں سے چنتا تھا نمک
- زور نسبت مے سے رکھتا ہے اضارا کا نمک
- طرز خراش نالہ سرشک نمک اثر
- نمک زخم جگر بال فشانی مانگے
- شور پند ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
- کہ آپ کا ہے نمک خوار اور دولت خواہ
- جلوۂ طور نمک سودۂ زخم تکرار