نم
12 Misre
- نہ سووے آبلوں میں گر سر شک دیدۂ نم سے
- وگر نہ بحر میں ہر قطرہ چشم پر نم ہے
- گرد ساحل ہے نم شرم جبین آشنا
- کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے
- نہ سووے آبلوں میں گر سرشک دیدۂ نم سے
- نم دامان عصیاں ہے طراوت موج کوثر کی
- وگرنہ بحر میں ہر قطرہ چشم پر نم ہے
- کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے
- کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے
- وضع سوز و نم و رم و آرام
- رشتہ در گرد نم افگندہ دوست
- بیٹھ رہتا لے کے چشم پر نم اس کے رو برو