نقش
94 Misre
- آشفتگی نے نقش سویدا کیا درست
- تاثیر جستن اشک سے نقش بر آب ہے
- بروے آب جو ہر موج نقش مسطر ہو
- صدف کی ہے ترے نقش قدم میں کیفیت
- گر دکھاؤں صفحۂ بے نقش رنگ رفتہ کو
- گربہ بزم باغ کھینچے نقش روے یار کو
- نقش پاے خضر یاں سدّ سکندر ہو گیا
- اس جگہ تخت سلیماں نقش پاے مور ہے
- زیر مشق شعر ہے نقش از پئے احضار باغ
- نقش پا میں ہے تب گرمی رفتار ہنوز
- جز خط عجز نقش تمنا نہ کھینچیے
- جب کہ نقش مدعا ہووے نہ جز موج سراب
- خطوط روے قالیں نقش ہے پشت کبوتر کا
- نگاہ دیدۂ نقش قدم ہے جادۂ راہ
- اس موج مے کو غافل پیمانہ نقش پا ہے
- نقش پائے مور کو تخت سلیمانی کرے
- خیال سادگی ہاے تصور نقش حیرت ہے
- کرے ہیں غنچۂ منقار طوطی نقش گل گیریں
- سادگی یک خیال شوخی صد رنگ نقش
- بتاں نقش خود آرائی حیا تحریر بہتر ہے
- نقش ہر ذرہ سویداے بیاباں نکلا
- نقش عبرت در نظر یا نقد عشرت در بساط
- دستار گرد شاخ گل نقش پا کروں
- غافلاں آئینہ داں ہے نقش پاے جستجو
- بہ بند گریہ نقش بر آب اندیشہ رستن کا
- عکس کجا و کو نظر نقش کو مدعا سمجھ
- نقش رنگینئ سعی قلم مانی ہے
- نہ بندھا تھا بہ عدم نقش دل مور ہنوز
- گداز سعی بینش شست و شوے نقش خودکامی
- مباداے پیچتاب طبع نقش مدعا گم ہو
- بہ بند گریہ ہے نقش بر آب امید رستن ہا
- موج بہار یکسر زنجیر نقش پا ہے
- گر خاک ہو گلدستۂ صد نقش قدم باندھ
- خون ہدہد سے لکھ نقش گرفتاروں کا
- سوختگاں کی خاک میں ریزش نقش داغ ہے
- بہزاد نقش یک دل صد چاک عرض کر
- نقش ناز بت طناز بآغوش رقیب
- گر ہمہ افتادگی جوں نقش پا ہوجائیے
- آغوش نقش پا میں کیجے فشار صحرا
- نقش قدم ہیں ہم کف پاے نگار کے
- ورنہ کیا حسرت کش دامن پہ نقش پا نہیں
- ہے جہاں فکر کشیدن ہاے نقش روے یار
- صورت نقش قدم ہوں رفتۂ رفتار دوست
- نقش پا جو کان میں رکھتا ہے انگلی جادہ سے
- جوہر آئینہ ہے یاں نقش احضار چمن
- آشفتگی نے نقش سویدا کیا درست
- سر شمع نقش پا ہے بہ سپاس ناتوانی
- جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں
- کہ شب رو کا نقش قدم دیکھتے ہیں
- دیکھو تو دل فریبی انداز نقش پا
- دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا
- مثل نقش مدعائے غیر بیٹھا جائے ہے
- نقش کو اس کے مصور پر بھی کیا کیا ناز ہیں
- لیکن اب نقش و نگار طاق نسیاں ہو گئیں
- ہنوز اک پرتو نقش خیال یار باقی ہے
- نقش قدم ہیں ہم کف پاۓ نگار کے
- بت پرستی ہے بہار نقش بندی ہائے دہر
- نقش ہر ذرہ سویداۓ بیاباں نکلا
- نقش عبرت در نظر یا نقد عشرت در بساط
- آئنہ دار بن گئی حیرت نقش پا کہ یوں
- دستار گرد شاخ گل نقش پا کروں
- نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
- نقش ناز بت طناز بہ آغوش رقیب
- حباب موجۂ رفتار ہے نقش قدم میرا
- زمیں کو سیلئ استاد ہے نقش قدم میرا
- ہے دل پہ بار نقش محبت ہی کیوں نہ ہو
- ضعف سے نقش پئے مور ہے طوق گردن
- نقش پا میں ہے تب گرمی رفتار ہنوز
- نقش پائے مور کو تخت سلیمانی کرے
- گر ہمہ افتادگی جوں نقش پا ہوجائیے
- ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پایا
- صبح موجۂ گل کو نقش بوریا پایا
- ہم سے تیرے کوچے نے نقش مدعا پایا
- کیوں اسے نقش پئے ناقۂ سلما کہیے
- سر شمع نقش پا ہے بسپاس ناتوانی
- صورت نقش قدم خاک بہ فرق تمکیں
- نقش معنی ہمہ خمیازۂ عرض صورت
- کہ ہوا خوں نگہ شوق میں نقش تمکیں
- نقش لاحول لکھ اے خامۂ ہذیاں تحریر
- نقش پا جس کا ہے توحید کو معراج جبیں
- جلوہ پرواز ہو نقش قدم اس کا جس جا
- جنت نقش قدم سے ہوں میں اس کی گلچیں
- نقش ہر گام دو عالم صفہاں زیر نگیں
- اس کی شوخی سے بہ حیرت کدہ نقش خیال
- ذوق گلچینی نقش کف پا سے تیرے
- ہے نقش مریدی ترا فرمان الہی
- نقش سم سمند سے یکسر
- چشم نقش قدم آئینہ بخت بیدار
- مشقی نقش قدم نسخۂ آب حیواں
- جس کے حیرت کدۂ نقش قدم میں مانی
- ہم عبادت کو ترا نقش قدم مہر نماز
- تیرا نقش قدم آئینہ شان اظہار
- نقش پا کی صورتیں وہ دلفریب
- نقش سطر صد تبسم ہے بر آب زیر کاہ