نقاب
20 Misre
- عاشق نقاب جلوۂ جانانہ چاہیے
- ہے شکست رنگ گل آئینہ پرواز نقاب
- کہ تھا آئینۂ خود بے نقاب زنگ بستن ہا
- بنا ہے پنبۂ سینا سے ساقی نے نقاب اس کا
- دامان شفق طرف نقاب مہ نو ہے
- نقاب یار غفلت نگاہی اہل بینش کی
- نقاب یار ہے از پردہ ہاے چشم نابینا
- زلف سے بڑھ کر نقاب اس شوخ کے منہ پر کھلا
- ابھرا ہوا نقاب میں ہے ان کے ایک تار
- ہر ذرہ کے نقاب میں دل بیقرار ہے
- تھی نگہ میری نہاں خانۂ دل کی نقاب
- شرم رسوائی سے جا چھپنا نقاب خاک میں
- نظارہ نے بھی کام کیا واں نقاب کا
- جوش بہار جلوے کو جس کے نقاب ہے
- وا کر دیے ہیں شوق نے بند نقاب حسن
- ہے تیوری چڑھی ہوئی اندر نقاب کے
- ہے اک شکن پڑی ہوئی طرف نقاب میں
- پیش نظر ہے آئنہ دایم نقاب میں
- عاشق نقاب جلوۂ جانانہ چاہیے
- بچی نہ از پئے بند نقاب یار گرہ