نفس
103 Misre
- نفس در قالب خشت لحد دزدیدنی جانے
- رشتۂ پا شوخی بال نفس پیدا کرے
- جو عزادار شہیدان نفس دردیدہ ہو
- نفس ہو نہ معزول شعلہ در و دن
- ہم نہیں جلتے نفس ہر چند آتشبار ہے
- ہے نفس تار شعاع آفتاب آئینے پر
- خط پیمانۂ مے ہے نفس دزدیدہ
- غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
- اسدؔ تار نفس ہے ناگزیر عقدہ پیرائی
- جوں بوے غنچہ یک نفس آرمیدہ کھینچ
- یک داغ حسرت نفس نا کشیدہ کھینچ
- ورنہ کیا موج نفس زنجیر رسوائی نہیں
- آمد و رفت نفس جز شعلہ پیمائی نہیں
- یک نفس ہر یک نفس جاتا ہے قسط عمر میں
- وصل آئینہ رخاں ہم نفس یک دیگر
- زندگانی نہیں بیش از نفس چند اسدؔ
- قیس نے از بس کہ کی سیر گریباں نفس
- نفس حیرت پرست طرز ناگیرائی مژگاں
- کو نفس وچہ غبار جرأت عجز آشکار
- زندگی کے ہوئے ناگہ نفس چند تمام
- نفس کرتا ہے رگ ہاے مژہ پر کام نشتر کا
- چمن آرائے نفس وحشت تنہائی ہے
- نفس سوختہ رمز چمن ایمائی ہے
- نفس تیری گلی میں خوں ہو اور بازار رنگیں ہے
- وقف غرق عقدہ ہاے متصل تار نفس
- ہے نفس پروردہ گلشن کس ہواے بام کا
- جس دم کہ جادہ دار ہو تار نفس تمام
- شاخ گل جنبش میں ہے گہوارہ آسا ہر نفس
- نفس آئینہ دار آہ بے تاثیر بہتر ہے
- غنچگی ہے بر نفس پیچیدن فکر اے اسدؔ
- نوازش نفس آشنا کہاں ورنہ
- نفس بہ نالہ رقیب و نگہ بہ اشک عدو
- بقدر یک نفس جادہ بصد رنج و تعب کاٹے
- نفس در سینہ ہاے ہم دگر رہتا ہے پیوستہ
- نفس بعد از وصال دوست تاواں ہے گستن کا
- افسردۂ تمکیں ہے نفس گرمی احباب
- نغمہ ہا وابستۂ یک عقدۂ تار نفس
- تا گل زجگر زخم میں ہے راہ نفس کو
- چھیڑو نہ مجھ افسردۂ دزدیدہ نفس کو
- آئینہ نفس سے بھی ہوتا ہے کدورت کش
- بیش از نفس بتاں کے کرم نے وفا نہ کی
- اے ناتمامی نفس شعلہ بار حیف
- خوشا اے غفلت آگاہاں نفس دزدیدن و مردن
- نفس ہا بعد وصل دوست تاوان گستن ہا
- وحشت نہ کھینچ قاتل حیرت نفس ہے بسمل
- نکہت گل کو ہے غنچے میں نفس دزدیدن
- مطرب دل نے مرے تار نفس سے غالبؔ
- ناخن غم یاں سر تار نفس مضراب تھا
- یاں نفس کرتا تھا روشن شمع بزم بے خودی
- توڑنا ہوتا ہے رنگ یک نفس ہر شب مجھے
- تا چند نفس غفلت ہستی سے بر آوے
- سویدا میں نفس مانند خط نقطے میں پنہاں ہے
- وا کیا ہرگز نہ میرا عقدۂ تار نفس
- چشم پرواز و نفس خفتہ مگر ضعف امید
- ویرانے سے جز آمد و رفت نفس نہیں
- در ہر نفس بقدر نفس ہے قبا بلند
- تدبیر پیچ تاب نفس کیا کرے کوئی
- یاد روزے کہ نفس سلسلۂ یارب تھا
- یاد روزے کہ نفس در گرہ یارب تھا
- چمن آرائے نفس وحشت تنہائی ہے
- نفس سوختہ رمز چمن ایمائی ہے
- ہم نہیں جلتے نفس ہر چند آتش بار ہے
- اے نا تمامی نفس شعلہ بار حیف
- بیش از نفس بتاں کے کرم نے وفا نہ کی
- مطرب دل نے مرے تار نفس سے غالبؔ
- جب اک نفس الجھا ہوا ہر تار میں آوے
- ہمہ یک نفس تپش سے تب و تاب ہجر مت پوچھ
- گر نفس جادۂ سر منزل تقوی نہ ہوا
- یاں نفس کرتا تھا روشن شمع بزم بے خودی
- ناخن غم یاں سر تار نفس مضراب تھا
- یارب نفس غبار ہے کس جلوہ گاہ کا
- غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
- قطرۂ مے بسکہ حیرت سے نفس پرور ہوا
- شاخ گل جنبش میں ہے گہوارہ آسا ہر نفس
- طعمہ ہوں ایک ہی نفس جاں گداز کا
- پھر گرم نالہ ہائے شرربار ہے نفس
- اثر مرے نفس بے اثر میں خاک نہیں
- نفس نہ انجمن آرزو سے باہر کھینچ
- چشم پرواز و نفس خفتہ مگر ضعف امید
- نفس قیس کہ ہے چشم و چراغ صحرا
- وہی اک بات ہے جو یاں نفس واں نکہت گل ہے
- نظارہ دیگر و دل خونیں نفس دگر
- تار نفس کمند شکار اثر ہے آج
- آئینہ نفس سے بھی ہوتا ہے کدورت کش
- ہے عار دل نفس اگر آذر فشاں نہیں
- فروغ شعلۂ خس یک نفس ہے
- نفس موج محیط بے خودی ہے
- ڈھونڈے ہے اس مغنی آتش نفس کو جی
- خجلت گدازیٔ نفس نارسا مجھے
- میرا رقیب ہے نفس عطر سائے گل
- توڑنا ہوتا ہے رنگ یک نفس ہر شب مجھے
- ہاں نفس باد سحر شعلہ فشاں ہو
- ہمہ یک نفس تپش سے تب و تاب ہجر مت پوچھ
- باد افسانۂ بیمار ہے عیسی کا نفس
- کس نے دیکھا نفس اہل وفا آتش خیز
- بوے گل سے نفس باد صبا عطر آگیں
- نگہ جلوہ پرست و نفس صدق گزیں
- بادہ پر زور و نفس مست و مسیحا بیمار
- ہے نفس مایۂ شوق دو جہاں ریگ رواں
- ہر نفس راہ میں ٹوٹے نفس لیل و نہار
- ہوں نفس سے صفت نغمہ بہ بند رگ تار
- ہو جہاں گرم غزالخوانی نفس
- یک تار نفس میں جوں طناب صباغ