نظر
113 Misre
- بازی خور فریب ہے اہل نظر کا ذوق
- نظر آتا ہے موے شیشہ رشتہ شمع بالیں کا
- سر تار نظر ہے رشتۂ تسبیح کوکب ہا
- سایۂ شاخ گل افعی نظر آتا ہے مجھے
- آسماں بیضۂ قمری نظر آتا ہے مجھے
- آئنہ بیضۂ بلبل نظر آتا ہے مجھے
- ہے تصور صافی قطع نظر از غیر یار
- برق سامان نظر ہے جلوۂ بے باک حسن
- چشم غفلت نظر شبنم خور نادیدہ
- واں پر فشان دام نظر ہوں جہاں اسدؔ
- پاے نظر بہ دامن شوق دویدہ کھینچ
- بزم نظر ہیں بیضۂ طاؤس خلوتاں
- پاے نظر بہ دامن صحرا نہ کھینچیے
- بزم وداع نظر یاس طرب نامہ بر
- عذار یار نظر بند چشم گریاں ہے
- عشق کو ہر رنگ شان حسن ہے مد نظر
- ہے زر گل بھی نظر میں جوہر فولاد یاں
- طاؤس خاک حسن نظر باز ہے مجھے
- نظر دانہ سر شک برزمیں افتادہ آتا ہے
- شغل ہوس در نظر لیک حیا بے خبر
- آتی نہیں پنجے میں بس اس کے نظر انگشت
- آتی نہیں پنجہ میں بس اس کے نظر انگشت
- مژدہ اے ذوق اسیری کہ نظر آتا ہے
- خدایا کس قدر اہل نظر نے خاک چھانی ہے
- نظر بند تصور ہے قفس میں لطف آزادی
- رنگ ز نظر رفتہ حناے کف افسوس
- سرمۂ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
- نقش عبرت در نظر یا نقد عشرت در بساط
- ہے دست رد بہ سیر جہاں بستن نظر
- میں چشم وا کشادہ و گلشن نظر فریب
- خواب غفلت بہ کمیں گاہ نظر پنہاں ہے
- جوں غنچہ و گل آفت فال نظر نہ پوچھ
- عکس کجا و کو نظر نقش کو مدعا سمجھ
- نظر آتی نہیں صبح شب دیجور ہنوز
- بہ مہر صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
- ہوس گستاخی آئینہ تکلیف نظر بازی
- نظر بازی طلسم وحشت آباد پرستاں ہے
- قلزم ذوق نظر میں آئنہ پایاب تھا
- نظر پرستی و بے کاری خود آرائی
- ہر نظر میں داغ مے خال لب پیمانہ تھا
- قلزم ذوق نظر میں آئینہ پایاب تھا
- پر طاؤس تماشا نظر آیا ہے مجھے
- آئنہ بیضۂ طوطی نظر آیا ہے مجھے
- پاے نظر بہ دامن افسانہ کھینچیے
- دل تامژہ آغوش وداع نظر آوے
- ہر ذرہ بہ کیفیت ساغر نظر آوے
- تماشاے جہاں مفت نظر ہے
- عجب اے آبلہ پایان صحراے نظر بازی
- نظر بہ غفلت اہل جہاں ہوا ظاہر
- زلف سیہ افعی نظر بد قلمی ہے
- آتی نہیں پنجہ میں بس اس کے نظر انگشت
- میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہوتے تک
- یک نظر بیش نہیں فرصت ہستی غافل
- جوں غنچہ و گل آفت فال نظر نہ پوچھ
- سایۂ شاخ گل افعی نظر آتا ہے مجھے
- آسماں بیضۂ قمری نظر آتا ہے مجھے
- آئنہ بیضۂ بلبل نظر آتا ہے مجھے
- نظر راحت پہ میری کر نہ وعدہ شب کے آنے کا
- بلا سے ہیں جو یہ پیش نظر در و دیوار
- کہ ہیں دکان متاع نظر در و دیوار
- نظر میں کھٹکے ہے بن تیرے گھر کی آبادی
- تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے
- نظر بہ نقص گدایاں کمال بے ادبی ہے
- بازی خور فریب ہے اہل نظر کا ذوق
- دل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی
- ہے نظر خو کردۂ اختر شماری ہائے ہائے
- اب آبروئے شیوۂ اہل نظر گئی
- ہے زر گل بھی نظر میں جوہر فولاد یاں
- ہمیں جواب سے قطع نظر ہے کیا کہئے
- نظر میں ہے ہماری جادۂ راہ فنا غالبؔ
- سرمۂ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
- داغ دل بے درد نظر گاہ حیا ہے
- نقش عبرت در نظر یا نقد عشرت در بساط
- کہ پری زاد نظر قابل تسخیر نہیں
- تو اور سوئے غیر نظر ہائے تیز تیز
- مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں
- جوش جنوں سے کچھ نظر آتا نہیں اسدؔ
- مژدہ اے ذوق اسیری کہ نظر آتا ہے
- دیا ہے خلق کو بھی تا اسے نظر نہ لگے
- ہم زباں آیا نظر فکر سخن میں تو مجھے
- بہ مہر صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
- ہوس گستاخیٔ آئینہ تکلیف نظر بازی
- نظر بازی طلسم وحشت آباد پرستاں ہے
- پھر وہ نیرنگ نظر یاد آیا
- پیش نظر ہے آئنہ دایم نقاب میں
- کوئی صورت نظر نہیں آتی
- داغ دل گر نظر نہیں آتا
- قبلے کو اہل نظر قبلہ نما کہتے ہیں
- سر رشتہ چاک جیب کا تار نظر ہے آج
- جو داغ نظر آیا اک چشم نمائی ہے
- کہ تار دامن و تار نظر میں فرق مشکل ہے
- نظر لگے نہ کہیں اس کے دست و بازو کو
- کچھ اور ہی نقشا نظر آتا ہے جہاں کا
- ہوں خود اپنی نظر میں اتنا خوار
- سویہ نظر فروز قلم دان نذر ہے
- رامپور اہل نظر کی ہے نظر میں وہ شہر
- ایک صورت نئی نظر آئی
- صبر آزما وہ ان کی نگاہیں کہ حف نظر
- یہ تو دیکھو کہ کیا نظر آیا
- جلوۂ مدعا نظر آیا
- صاف آتی ہیں نظر آب گہر کی لہریں
- قبلۂ اہل نظر کعبۂ ارباب یقیں
- اس کے جولاں میں نظر آے ہے یوں دامن زیں
- دو دن آیا ہے تو نظر دم صبح
- اخبار لودھیانہ میں میری نظر پڑی
- یاں زمیں پر نظر جہاں تک جائے
- بہ نظر گاہ گلستان خیال ساقی
- قبلۂ نور نظر کعبۂ اعجاز مسیح
- ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
- صبح آیا جانب مشرق نظر
- تھی نظر بندی کیا جب رد سحر
- نظر آتا ہے یوں مجھے یہ ثمر
- گورے پنڈے پر نہ کر ان کے نظر