نشیں
16 Misre
- ہاتھ آیا زخم تیغ یار سا پہلو نشیں
- ہوں خاک نشیں از پئے ادراک قدم بوس
- ہم نشیں مت کہ کہ برہم کر نہ بزم عیش دوست
- وہ پردہ نشیں اور اسدؔ آئینہ اظہار
- صاحب کے ہم نشیں کو کرامات چاہیے
- ہم نشیں مت کہہ کہ برہم کر نہ بزم عیش دوست
- کبھی شکایت رنج گراں نشیں کیجے
- تھا میں اک بے نواے گوشہ نشیں
- کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں
- غالبؔ خاک نشیں اہل خرابات سے ہے
- ہم نشیں تارے ہیں اور چاند شہاب الدین خاں
- گرد جوہر میں ہے آئینۂ دل پردہ نشیں
- عرش چاہے ہے کہ ہو در پہ ترے خاک نشیں
- آسماں ہے گداے سایہ نشیں
- صاحب کے ہم نشیں کو کرامات چاہیے
- ہم نشیں آدھی ہوئی تقریر آدھی رہ گئی