نشۂ
15 Misre
- خمیدن نشۂ مے میں ہے شرم زشت اعمالی
- ہے بے خمار نشۂ خون جگر اسدؔ
- سرور نشۂ گردش اگر کیفیت افزا ہو
- بہار گل دماغ نشۂ ایجاد مجنوں ہے
- خمار ضبط سے بھی نشۂ اظہار پیدا ہے
- نشۂ مے بے چمن دود چراغ کشتہ ہے
- نشۂ مے کے اتر جانے کے غم سے انگور
- زبس ہے ناز پرواز غرور نشۂ صہبا
- نشۂ رنگ سے ہے واشد گل
- نشۂ مے بے چمن دود چراغ کشتہ ہے
- حسرت نشۂ وحشت نہ بہ سعیٔ دل ہے
- نشۂ مے ہے اگر یک پردہ نازک تر ہوا
- تازہ نہیں ہے نشۂ فکر سخن مجھے
- کسوت تاک میں ہے نشۂ ایجاد ازل
- مئے تمثال پری نشۂ مینا آزاد