نرگس
14 Misre
- سحر گل ہاے نرگس چند چشم کور ملتے ہیں
- باغ تجھ بن گل نرگس سے ڈراتا ہے مجھے
- یک قلم شاخ گل نرگس عصاے کور ہے
- چشم نرگس میں نمک بھرتی ہے شبنم سے بہار
- آئی یک عمر سے معذور تماشا نرگس
- سر خوش خواب ہے وہ نرگس مخمور ہنوز
- عصاے سبز دے نرگس کو دی خدمت نظارت کی
- باغ تجھ بن گل نرگس سے ڈراتا ہے مجھے
- تری طرف ہے بہ حسرت نظارۂ نرگس
- آئی یک عمر سے معذور تماشہ نرگس
- چشم نرگس کو دی ہے بینائی
- گل و نرگس بہم آئینہ و اقلیم کوراں ہے
- نرگس و جام سیہ مستی چشم بیدار
- گل نرگس سے کف جام پہ ہے چشم بہار