نذر
18 Misre
- اسدؔ جاں نذر الطافے کہ ہنگام ہم آغوشی
- شعلہا نذر سمندر بلکہ آتش خانہ ہم
- آئنۂ امتحاں نذر تغافل اسدؔ
- نذر خراش نالہ سر شک نمک اثر
- سیر ملک حسن کر میخانہ ہا نذر خمار
- شعلہ ہا نذر سمندر بلکہ آتش خانہ ہم
- نذر مژہ کر دل و جگر کو
- شعلہ ہا نذر سمندر بلکہ آتش خانہ ہم
- سیر ملک حسن کر مے خانہ ہا نذر خمار
- جاں نذر دل فریبی عنواں کیے ہوئے
- جاں نذر دینی بھول گیا اضطراب میں
- حج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی
- پئے نذر کرم تحفہ ہے شرم نا رسائی کا
- یک بخت اوج نذر سبک باری اسدؔ
- یعنی یہ پہلے ہی نذر امتحاں ہو جائے گا
- سویہ نظر فروز قلم دان نذر ہے
- نہ کرے نذر صدا ورنہ متاع تمکیں
- لمبر رہا نہ نذر نہ خلعت کا انتظام