نالہ
79 Misre
- غبار نالہ کمیں گاہ مدعا معلوم
- بہ نالہ حاصل دلبستگی فراہم کر
- جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
- نالہ سرمایۂ یک عالم و عالم کف خاک
- دل در گداز نالہ نگہ آبیار تر
- پرورش نالہ ہے وحشت پرواز سے
- خلوت سنگ میں ہے نالہ طلبگار ہنوز
- صد نالہ اسدؔ بلبل در بند زباں دانی
- یک نالہ بیٹھیے تو نیستاں اٹھائیے
- نذر خراش نالہ سر شک نمک اثر
- نالہ خونیں ورق و دل گل مضمون شفق
- بہار نالہ و رنگینی فغاں تجھ سے
- نالہ دام ہوس و درد اسیری معلوم
- سپند آہنگی ہستی و سعی نالہ فرسائی
- نفس بہ نالہ رقیب و نگہ بہ اشک عدو
- رخصت نالہ مجھے دے کہ مبادا ظالم
- درد اور یہ کمیں کہ رہ نالہ وا کروں
- وہ راز نالہ ہوں کہ بشرح نگاہ عجز
- نالہ در گرد تمناے اثر پنہاں ہے
- ورنہ کیا ہو نہ سکے نالہ بساماں مجھ سے
- ہنوز نالہ پر افشان ذوق رعنائی
- خدایا خوں ہو رنگ امتیاز اور نالہ موزوں ہو
- پھونکتا ہے نالہ ہر شب صور اسرافیل کی
- نالہ کھینچا ہے سراپا داغ جرأت ہوں اسدؔ
- آہنگ عدم نالہ بہ کہسار گرد ہے
- جب نالہ خوں ہو غافل تاثیر کیا بلا ہے
- وحشت نالہ بہ وا ماندگی وحشت ہے
- اسدؔ اے ہرزہ درا نالہ بہ غوغا تا چند
- نالہ برخود غلط شوخی تاثیر آیا
- بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہاے بلبل زار
- راحت کمین شوخی تقریب نالہ ہے
- قاصد تپش نالہ ہے یارب خبر آوے
- ہوئی یک عمر صرف مشق نالہ
- نالہ ہا حاصل اندیشہ کہ جوں کشت سپند
- ہر کوئی درماندگی میں نالہ سے ناچار ہے
- نالہ سرمایۂ یک عالم و عالم کف خاک
- نہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدم
- بہ نالہ حاصل دل بستگی فراہم کر
- اجزائے نالہ دل میں مرے رزق ہم ہوئے
- جنوں گرم انتظار و نالہ بیتابی کمند آیا
- سراغ تف نالہ لے داغ دل سے
- کف ہر خاک گلشن شکل قمری نالہ فرسا ہو
- سینہ کا داغ ہے وہ نالہ کہ لب تک نہ گیا
- ڈر نالہ ہائے زار سے میرے خدا کو مان
- شوق کو یہ لت کہ ہر دم نالہ کھینچے جائیے
- نغمہ ہو جاتا ہے واں گر نالہ میرا جائے ہے
- رخصت نالہ مجھے دے کہ مبادا ظالم
- یادگار نالہ اک دیوان بے شیرازہ تھا
- اے نالہ نشان جگر سوختہ کیا ہے
- نالہ جاتا تھا پرے عرش سے میرا اور اب
- یک نالہ بیٹھیے تو نیستاں اٹھائیے
- طرز خراش نالہ سرشک نمک اثر
- انداز نالہ یاد ہیں سب مجھ کو پر اسدؔ
- نالہ پابند نے نہیں ہے
- درد اور یہ کمیں کہ رہ نالہ وا کروں
- وو راز نالہ ہوں کہ بہ شرح نگاۂ عجز
- خوش ہوں گر نالہ زبونی کش تاثیر نہیں
- پھر گرم نالہ ہائے شرربار ہے نفس
- جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
- وہ نالہ دل میں خس کے برابر جگہ نہ پائے
- جس نالہ سے شگاف پڑے آفتاب میں
- نالہ جز حسن طلب اے ستم ایجاد نہیں
- خلوت سنگ میں ہے نالہ طلبگار ہنوز
- نالہ کرتا تھا جگر یاد آیا
- وہی صد رنگ نالہ فرسائی
- نالہ گویا گردش سیارہ کی آواز ہے
- بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
- آہ بے اثر دیکھی نالہ نارسا پایا
- فکر نالہ میں گویا حلقہ ہوں ز سر تا پا
- سرگرم نالہ ہائے شرربار دیکھ کر
- یاں نالہ کو اور الٹا دعواۓ رسائی ہے
- ہجوم نالہ حیرت عاجز عرض یک افغاں ہے
- ورنہ کیا ہو نہ سکے نالہ بساماں مجھ سے
- بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
- نالہ کرتا تھا ولے طالب تاثیر بھی تھا
- پرواز یک تپ غم تسخیر نالہ ہے
- توڑے ہے نالہ سر رشتۂ پاس انفاس
- ہند میں اسدؔ نالاں نالہ در صفاہاں ہے
- صرصر آندھی سیل نالہ باد باؤ