نازک
15 Misre
- زلف خیال نازک و اظہار بے قرار
- کہ تار جادۂ سر منزل نازک خیالی ہے
- نہیں ہے کف لب نازک پہ فرط نشہ مے سے
- بیم طبع نازک خوباں سے وقت سیر باغ
- فسان تیغ نازک قاتلاں سنگ جراحت ہے
- وہ جو نازک ہے کمر اس پہ بہت دل آئے
- کریں خوباں جو سیر حسن اسدؔ یک پردہ نازک تر
- دل نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔ
- مر جاؤں نہ کیوں رشک سے جب وہ تن نازک
- کہ شیشہ نازک و صہبائے آبگینہ گداز
- دکھتے ہیں آج اس بت نازک بدن کے پاؤں
- ہو کے عاشق وہ پری رخ اور نازک بن گیا
- نشۂ مے ہے اگر یک پردہ نازک تر ہوا
- دل نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔ
- تم وو نازک کہ خموشی کو فغاں کہتے ہو