ناز
143 Misre
- عجز دید نہا بناز و ناز رفتن ہا بچشم
- عہدے سے مدح ناز کے باہر نہ آسکا
- طلسم ناز بجز تنگی قبا معلوم
- نگاہ بے حجاب ناز تیغ تیز عریاں ہے
- یہ فسون نگہ ناز ستاتا ہے مجھے
- ناز خود بینی کے باعث مجرم صد بے گناہ
- عرض وحشت پر ہے ناز ناتوانی ہاے دل
- تمثال ناز جلوۂ نیرنگ اعتبار
- بیدل نہ ناز وحشت جیب دریدہ کھینچ
- ہے ناز مفلساں زر از دست رفتہ پر
- قاتل بہ عزم ناز و دل از زخم در گداز
- ناز بہار جزبہ تقاضا نہ کھینچیے
- بہ حسرت گاہ ناز کشتۂ جاں بخشی خوباں
- یک عمر ناز شوخی عنواں اٹھائیے
- یک شبہ آشفتہ ناز سنبلستانی عبث
- دماغ ناز کش منت طبیباں ہے
- کہ مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
- بال سمندر آئنۂ ناز ہے مجھے
- ہر ذرہ چشمک نگہ ناز ہے مجھے
- ناکسی آئنۂ ناز توکل تا چند
- مفت دل و جگر خلش غمزہ ہاے ناز
- اے ہوس عرض بساط ناز مشتاقی نہ مانگ
- عرض ناز شوخی دنداں براے خندہ ہے
- آ اے بہار ناز کہ تیرے خرام سے
- کیا کس شوخ نے ناز از سر تمکیں تشستن کا
- رند تمام ناز رہ خلق کو پارسا سمجھ
- اے دل و اے جان ناز اے دین و اے ایمان عجز
- حسن کو غنچوں سے ہے پوشیدہ چشمی ہاے ناز
- وہ جہاں مسند نشین بارگاہ ناز ہو
- اے خوشا گر آب تیغ ناز تیزابی کرے
- ناز لطف عشق با وصف توانائی عبث
- اے اسدؔ بے جا ہے ناز سجدۂ عرض نیاز
- ہو جہاں تیرا دماغ ناز مست بے خودی
- خواب ناز گل رخاں دود چراغ کشتہ ہے
- نگاہ ناز نے جب عرض تکلیف شرارت کی
- شرر کیفیت مے سنگ محو ناز مینائی
- پر پرواز زلف ناز ہے ہدہد کے شانے میں
- خلوت ناز پہ پیرایۂ محفل باندھا
- عشق ترسا بچہ و ناز شہادت مت پوچھ
- واں وہ فرق ناز محو بالش کمخواب تھا
- شوق کو منفعل نہ کر ناز کو التجا سمجھ
- مفت صفاے طبع ہے جلوۂ ناز سوختن
- تا چند ناز مسجد و بت خانہ کھینچیے
- پرواز آشیانۂ عنقاے ناز ہے
- دل فرش رہ ناز ہے بیدل اگر آوے
- نگاہ ناز چشم یار میں زنار مینا ہے
- نقش ناز بت طناز بآغوش رقیب
- یاد رکھیے ناز ہائے التفات اولیں
- زبس ہے ناز پرواز غرور نشۂ صہبا
- بسکہ ہیں ہم اک بہار ناز کے مارے ہوئے
- اے سر شوریدہ ناز عشق و پاس آبرو
- بہ فسون نگۂ ناز ستاتا ہے مجھے
- ہے کلاہ ناز گل بر طاق دیوار چمن
- نہ اتنا برش تیغ جفا پر ناز فرماؤ
- جس قدر روح نباتی ہے جگر تشنۂ ناز
- طلسم ناز بجز تنگیٔ قبا معلوم
- اہل بینش نے بہ حیرت کدۂ شوخی ناز
- خلوت ناز پہ پیرایۂ محفل باندھا
- نگاہ بے حجاب ناز کو بیم گزند آیا
- خرام ناز برق خرمن سعیٔ سپند آیا
- جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے
- تب ناز گراں مایگی اشک بجا ہے
- کہ مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
- ہوئے مشق جرأت ناز رہ و رسم طرح آداب
- گئی نہ خاک ہوئے پر ہواۓ جلوۂ ناز
- اگر وہ سرو قد گرم خرام ناز آ جاوے
- حریف وحشت ناز نسیم عشق جب آؤں
- نگہ ناز ہے سرمے سے خفا میرے بعد
- غالبؔ خدا کرے کہ سوار سمند ناز
- گل فشانی ہائے ناز جلوہ کو کیا ہو گیا
- دشنۂ غمزہ جاں ستاں ناوک ناز بے پناہ
- واں وہ غرور عز و ناز یاں یہ حجاب پاس وضع
- نقش کو اس کے مصور پر بھی کیا کیا ناز ہیں
- ہو جہاں تیرا دماغ ناز مست بے خودی
- خواب ناز گل رخاں دود چراغ کشتہ ہے
- گرد راہ یار ہے سامان ناز زخم دل
- واں وہ فرق ناز محو بالش کمخواب تھا
- خرام ناز بے پروائی قاتل پسند آیا
- یک عمر ناز شوخی عنواں اٹھائیے
- عرض ناز شوخیٔ دنداں برائے خندہ ہے
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
- عہدے سے مدح ناز کے باہر نہ آ سکا
- غافل بہ وہم ناز خود آرا ہے ورنہ یاں
- جیب نیاز عشق نشاں دار ناز ہے
- ہماری سادگی تھی التفات ناز پر مرنا
- مری طاقت کہ ضامن تھی بتوں کی ناز اٹھانے کی
- میں نے کہا کہ بزم ناز چاہیے غیر سے تہی
- ہے ناز مفلساں زر از دست رفتہ پر
- پر پرواز زلف ناز ہے ہدہد کے شانے میں
- نہیں اقلیم الفت میں کوئی طومار ناز ایسا
- بجز پرواز شوق ناز کیا باقی رہا ہوگا
- آ اے بہار ناز کہ تیرے خرام سے
- یہ وقت ہے شگفتن گل ہائے ناز کا
- اک نو بہار ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ
- نگاہ ناز چشم یار میں زنار مینا ہے
- کہ ناز جادۂ رہ رشتۂ دامان صحرا ہے
- جز زخم تیغ ناز نہیں دل میں آرزو
- کیا ہے کس نے اشارا کہ ناز بستر کھینچ
- بہ نیم غمزہ ادا کر حق ودیعت ناز
- لذت ایجاد ناز افسون عرض ذوق قتل
- نقش ناز بت طناز بہ آغوش رقیب
- ناز کھینچوں بجائے حسرت ناز
- دل و دین و خرد تاراج ناز جلوہ پیرائی
- دل ہوائے خرام ناز سے پھر
- جلوہ پھر عرض ناز کرتا ہے
- پھر کھلا ہے در عدالت ناز
- مے کدہ گر چشم مست ناز سے پاوے شکست
- چشم خوباں مے فروش نشہ زار ناز ہے
- ہے صریر خامہ ریزش ہائے استقبال ناز
- شرم اک ادائے ناز ہے اپنے ہی سے سہی
- یاد رکھیے ناز ہائے التفات اولیں
- اس انجمن ناز کی کیا بات ہے غالبؔ
- نگاہ ناز کو پھر کیوں نہ آشنا کہیے
- گر وہ مست ناز دیوے گا صلائے عرض حال
- دل اس کو پہلے ہی ناز و ادا سے دے بیٹھے
- مقصد ہے ناز و غمزہ ولے گفتگو میں کام
- ہوا ہے مانع عاشق نوازی ناز خود بینی
- نگاہ بے حجاب ناز تیغ تیز عریاں ہے
- ہنوز آئینہ خلوت گاہ ناز ربط مژگاں ہے
- دھول دھپا اس سراپا ناز کا شیوہ نہیں
- کہاں تک اے سراپا ناز کیا کیا
- ابرو سے ہے کیا اس نگہ ناز کو پیوند
- ہوے مشق جرأت ناز رہ و رسم طرح آداب
- خاک پر توڑے ہے آئینۂ ناز پرویں
- ابدا پشت فلک خم شدۂ ناز زمیں
- تھا ایک گونہ ناز جو اپنے کمال پر
- اس ناز کا فلک نے لیا مجھ سے انتقام
- کس قدر ساز دوعالم کو ملی جرأت ناز
- ورنہ وہ ناز ہے جس گلشن بیداد سے تھا
- بت کدہ بہر پرستش گری قبلۂ ناز
- رنگریز گل و جام دوجہاں ناز و نیاز
- پر یہ دولت تھی نصیب نگہ معنی ناز
- ذرہ اس گرد کا خرشید کو آئینہ ناز
- آفرینش کو ہے واں سے طلب مستی ناز
- آیت رحمت حق بسملۂ مصحف ناز
- کمی ربط نیاز و خط ناز بسیار
- ناز پروردۂ صد رنگ تمنا ہوں ولے
- دوست اس سلسلۂ ناز کے جوں سنبل و گل
- زلف معشوق کشش سلسلۂ وحشت ناز
- ناز پروردۂ بہار ہے آم
- تو صداے پا سے جاگا تھا جو محو خواب ناز