ناخن
31 Misre
- ناخن انگشت بتخال لب بیمار ہے
- بہ نوک ناخن شمشیر کیجیے حل مشکل ہا
- کشاد عقد محو ناخن دست نگاریں ہے
- برانگشت حساب اشک ناخن نعل واژوں ہے
- ناخن انگشت خوباں نعل واژوں ہے مجھے
- اشارت فہم کو ہر ناخن بریدہ ابرو تھا
- سبب ہے ناخن دخل عزیزاں سینہ خستن کا
- ناخن تیغ بتاں شاید کہ مضرابی کرے
- برگ برگ بید ہے ناخن زدن کی فکر میں
- ناخن دخل عزیزاں یک قلم ہے نقب زن
- بے تاب سیر دل ہے سر ناخن نگار
- ناخن غم یاں سر تار نفس مضراب تھا
- دل کہ ذوق کاوش ناخن سے لذت یاب تھا
- برگ ریز ناخن مطرب بہار نغمہ ہے
- ناخن کو جگر کاوی میں بے رنگ نکالوں
- ناخن بریدہ ہے تیغ صفاہانی مجھے
- مہ ز سر تا ناخن پا رزق یک شگبیر ہے
- یاں رہ گئے ہیں ناخن تدبیر ٹوٹ کر
- ناخن انگشت بت خال لب بیمار ہے
- ان کے ناخن ہوئے محتاج حنا میرے بعد
- زخم کے بھرتے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا
- دل کہ ذوق کاوش ناخن سے لذت یاب تھا
- ناخن غم یاں سر تار نفس مضراب تھا
- ہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا
- ناخن پہ قرض اس گرہ نیم باز کا
- جب رشتہ بے گرہ تھا ناخن گرہ کشا تھا
- پھر جگر کھودنے لگا ناخن
- پہلے ٹھونکی ہے بن ناخن تدبیر میں کیل
- کاٹ کر پھینکیے ناخن تو با انداز ہلال
- ہے حنا کو سر ناخن سے گزرنا دشوار
- وہ کہ جس کے ناخن تاویل سے