مے
122 Misre
- طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگ
- اے خیال وصل نادر ہے مے آشامی تری
- بہ بزم مے پرستی حسرت تکلیف بے جا ہے
- خمیدن نشۂ مے میں ہے شرم زشت اعمالی
- لڑاوے گروہ بزم مے کشی میں قہر و شفقت کو
- موسم گل میں مئے گلگوں حلال مے کشاں
- بس کہ مے پیتے ہیں ارباب فنا پوشیدہ
- خط پیمانۂ مے ہے نفس دزدیدہ
- مے خانہ جگر میں یہاں خاک بھی نہیں
- محتسب سے تنگ ہے از بس کہ کار مے کشاں
- نشہ مے کے تصور میں نگہبانی عبث
- اس موج مے کو غافل پیمانہ نقش پا ہے
- نہیں ہے کف لب نازک پہ فرط نشہ مے سے
- کہ بعد از صاف مے ساغر میں دردبادہ آتا ہے
- پنبۂ میناے مے رکھ لو تم اپنے کان میں
- مے پرستاں ناصح بے صرفہ گو بیہودہ ہے
- ساقیا دے ایک ہی ساغر میں سب کو مے کہ آج
- آرزوے بوسۂ لب ہاے مے گوں ہے مجھے
- کب فقیروں کو رسائی بت مے خوار کے پاس
- کہوں کیا گرم جوشی مے کشی میں شعلہ رویاں کی
- کہ شمع خانۂ دل آتش مے سے فروزاں کی
- موج مے مثل خط جام ہے برجاماندہ
- موج مے مثل خط جام ہے ہر جا ماندہ
- گئے وہ دن کہ پانی جام مے سے زانو زانو تھا
- خشکی مے نے تلف کی مے کدے کی آبرو
- خمیازہ ساغر مے رنج خمار ہے
- جو تو دریاے مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
- پا پر از آبلہ راہ طلب مے میں ہوا
- مگر طوفان مے میں پیچش موج صبا گم ہو
- نیاز گردش پیمانہ مے روزگار اپنا
- نشۂ مے بے چمن دود چراغ کشتہ ہے
- روانی موج مے کی گر خط جام آشنا ہووے
- شرر کیفیت مے سنگ محو ناز مینائی
- نہاں کیفیت مے میں ہے سامان حجاب اس کا
- کہ مے عکس شفق ہے اور ساغر ہے حباب اس کا
- ہر نظر میں داغ مے خال لب پیمانہ تھا
- دریاے مے ہے ساقی لیکن خمار باقی
- گل مے میں بھگو بھگو نچوڑے
- شیشۂ مے سرو سبز جویبار نغمہ ہے
- لطف خمار مے کو ہے در دل ہمدگر اثر
- یک غنچہ سے صد خم مے گلرنگ نکالوں
- حباب مے بصد بالیدنی ساغر نہیں ہوتا
- نشۂ مے کے اتر جانے کے غم سے انگور
- مے کشیدن سے مجھے نشّۂ تریاک چڑھا
- بس کہ خوباں باغ کو دیتے ہیں وقت مے شکست
- یاں گلوے شیشۂ مے قبضۂ شمشیر ہے
- ضمان جادہ رویاندن ہے خط جام مے نوشاں
- رکھتا پھروں ہوں خرقہ و سجادہ رہن مے
- نیاز گردش پیمانہ مے روزگار اپنا
- تو نے قسم مے کشی کی کھائی ہے غالبؔ
- موج مے کی آج رگ مینا کی گردن میں نہیں
- آتش مے سے بہار گرمیٔ بازار دوست
- بزم مے وحشت کدہ ہے کس کی چشم مست کا
- دے بط مے کو دل و دست شنا موج شراب
- جو ہوا غرقۂ مے بخت رسا رکھتا ہے
- ہر شب پیا ہی کرتے ہیں مے جس قدر ملے
- بھرے ہیں جس قدر جام و سبو مے خانہ خالی ہے
- جب مے کدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قید
- نہ پوچھ وسعت مے خانۂ جنوں غالبؔ
- کون ہوتا ہے حریف مے مرد افگن عشق
- دل گزر گاہ خیال مے و ساغر ہی سہی
- مے وہ کیوں بہت پیتے بزم غیر میں یا رب
- نشۂ مے بے چمن دود چراغ کشتہ ہے
- ذرہ ذرہ ساغر مے خانۂ نیرنگ ہے
- یار تیرا جام مے خمیازہ میرا آشنا
- مینائے مے ہے سرو نشاط بہار سے
- صرف بہائے مے ہوئے آلات مے کشی
- زور نسبت مے سے رکھتا ہے اضارا کا نمک
- جو تو دریاۓ مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
- ہوئی قطرہ فشانی ہائے مے باران سنگ آخر
- مے نے کیا ہے حسن خود آرا کو بے حجاب
- بزم خیال مے کدۂ بے خروش ہے
- جام مے خاتم جمشید نہیں
- مے کشی کو نہ سمجھ بے حاصل
- مینائے مے ہے آبلہ پائے نگاہ کا
- بسکہ ہیں بد مست بشکن بشکن مے خانہ ہم
- آلودہ بہ مے جامۂ احرام بہت ہے
- رات کے وقت مے پیے ساتھ رقیب کو لیے
- رات پی زمزم پہ مے اور صبح دم
- مے خانۂ جگر میں یہاں خاک بھی نہیں
- گر باغ گدائے مے نہیں ہے
- مے ہے یہ مگس کی قے نہیں ہے
- قطرۂ مے بسکہ حیرت سے نفس پرور ہوا
- خط جام مے سراسر رشتۂ گوہر ہوا
- نشۂ مے ہے اگر یک پردہ نازک تر ہوا
- سیر ملک حسن کر مے خانہ ہا نذر خمار
- چہرہ فروغ مے سے گلستاں کیے ہوئے
- بہ بزم مے پرستی حسرت تکلیف بیجا ہے
- مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو
- عارف ہمیشہ مست مے ذات چاہیے
- کب فقیروں کو رسائی بت مے خوار کے پاس
- چل نکلتے جو مے پیے ہوتے
- میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آؤں
- شیشۂ مے سرو سبز جوئبار نغمہ ہے
- پر پروانہ شاید بادبان کشتی مے تھا
- مے پرستاں خم مے منہ سے لگائے ہی بنے
- برنگ موج مے خمیازۂ ساغر ہے رم میرا
- گدائے کوچۂ مے خانہ نا مراد نہیں
- مے کدہ گر چشم مست ناز سے پاوے شکست
- جائے مے اپنے کو کھینچا چاہیے
- چشم خوباں مے فروش نشہ زار ناز ہے
- طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگ
- جو مے و نغمہ کو اندوہ ربا کہتے ہیں
- غافل کو میرے شیشے پہ مے کا گمان ہے
- لرزے ہے موج مے تری رفتار دیکھ کر
- کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ
- ہم سے کھل جاؤ بوقت مے پرستی ایک دن
- قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
- یک بار لگا دو خم مے میرے لبوں سے
- رندان در مے کدہ گستاخ ہیں زاہد
- بے مے کسے ہے طاقت آشوب آگہی
- یہ مے کدہ خراب ہے مے کے سراغ کا
- مے ہی پھر کیوں نہ میں پیے جاؤں
- نور مے ماہ ساغر سیمیں
- ریزۂ شیشۂ مے جوہر تیغ کہسار
- موج مے پر ہے برات نگرانی امید
- جام سرشار مے و غنچۂ لبریز بہار
- تیرا پیمانۂ مے نسخہ ادوار ظہور
- موج مے لیک زسر تا قدم آغوش خمار
- کھول کر دروازۂ میخانہ بولا مے فروش
- مے کشی کو نہ سمجھ بے حاصل
- مے شراب اور پینے والا میگسار